ایرانی صدر اسلام آباد پہنچ گئے، اکیس توپوں کی سلامی سے استقبال

image

ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ نور خان ایئربیس راولپنڈی پہنچ گئے۔

مسعود پزشکیان کی آمد کے موقع پر پاکستانی قیادت نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ ایئربیس پر صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی صدر کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری بھی موجود تھیں۔

استقبالی تقریب کے دوران قومی روایات کے مطابق بچوں نے ایرانی صدر کو گلدستے پیش کیے۔ معزز مہمان کے اعزاز میں توپوں کی سلامی دی گئی جبکہ پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں نے بھی فضائی سلامی پیش کر کے خیرمقدم کیا۔

ایرانی صدر جس خصوصی طیارے کے ذریعے پاکستان آئے، اس کا نام "میناب" رکھا گیا ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق یہ نام ان بچوں کی یاد میں رکھا گیا جو امریکی حملے میں شہید ہوئے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس دورے کا ایک اہم مقصد ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر مسعود پزشکیان اپنے قیام کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کریں گے اور خطے کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

ایرانی صدر کے ہمراہ وزراء اور اعلیٰ حکام پر مشتمل وفد بھی پاکستان آیا ہے۔ دورے کے دوران صدر مسعود پزشکیان صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ساتھ وفود کی سطح پر اہم مذاکرات بھی ہوں گے۔

سرکاری پروگرام کے مطابق چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار بھی ایرانی صدر سے ملاقات کریں گے۔

ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا بطور صدرِ ایران پاکستان کا دوسرا دورہ ہے۔ اس موقع پر دونوں ممالک کی قیادت دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے نئے امکانات پر غور کرے گی۔

مذاکرات میں تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی، عوامی روابط اور علاقائی رابطہ کاری سمیت باہمی دلچسپی کے اہم امور زیرِ بحث آئیں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے اہم پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US