راولپنڈی میں یوم عاشور کے موقع پر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں، جبکہ شہر بھر میں 8 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار سیکیورٹی فرائض انجام دیں گے۔
پولیس حکام کے مطابق مرکزی جلوس کی سیکیورٹی پر 5 ہزار 500 سے زائد افسران و اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جبکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے 1 ہزار 200 سے زائد ٹریفک پولیس اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔ سیکیورٹی انتظامات میں ایک ہزار سے زائد رضاکار بھی معاونت فراہم کریں گے۔
مرکزی جلوس سمیت تمام مجالس اور جلوسوں کے لیے خصوصی سیکیورٹی پلان ترتیب دیا گیا ہے۔ جلوس کے راستوں اور ملحقہ گلیوں کو سیل کیا جائے گا، جبکہ بلند عمارتوں پر اسنائپر شوٹرز تعینات کیے جائیں گے۔
پولیس کے مطابق جلوس میں شرکت کرنے والوں کو باڈی سرچ کے بعد داخلے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ خواتین کی تلاشی کے لیے لیڈیز پولیس اہلکار تعینات ہوں گی۔ شرکاء کو میٹل ڈیٹیکٹرز اور واک تھرو گیٹس کے ذریعے بھی چیک کیا جائے گا۔
شہر بھر کی نگرانی کے لیے 2 ہزار سے زائد سیف سٹی اور دیگر کیمرے فعال ہیں، جبکہ سیف سٹی اور مرکزی کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی خصوصی پکٹس قائم کی گئی ہیں۔
راولپنڈی پولیس نے شناخت اور اسکیننگ کے لیے خصوصی موبائل ایپ بھی متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے کسی بھی شخص کے شناختی کارڈ کو فوری طور پر سکین کیا جا سکتا ہے۔ اس ایپ کو داخلی چیک پوسٹوں اور بس اڈوں پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یوم عاشور کے موقع پر امن و امان کے قیام اور فول پروف سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور دیگر اداروں کے ساتھ مکمل رابطہ اور تعاون برقرار ہے، جبکہ حکومت پنجاب کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق اور ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔