تردید سے ہلاکت کی تصدیق تک: ایرانی رہبر اعلیٰ کے ہیڈکوارٹر پر حملے کے بعد کیا ہوا تھا؟

سابق ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے ہلاکت کو چار ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے تاہم ایرانی حکام نے ابھی تک اس حملے کی تفصیلات واضح طور پر بیان نہیں کی ہیں۔ اس دن کیا ہوا تھا؟ مجتبی خامنہ ای کہاں تھے اور ان کے ساتھ کیا ہوا تھا؟

سابق ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے ہلاکت کو چار ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے تاہم ایرانی حکام نے ابھی تک اس حملے کی تفصیلات واضح طور پر بیان نہیں کی ہیں۔ اس دن کیا ہوا تھا؟ مجتبی خامنہ ای کہاں تھے اور ان کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ ان واقعات کے بارے میں اب بھی بہت سے ابہام اور سوالات موجود ہیں۔

تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ رہبر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر حملے کے بعد سے اس مقام کی کوئی تصاویر شائع نہیں کی گئی ہیں، امدادی کارروائیوں کے بارے میں کوئی سرکاری رپورٹ فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی ہلاک ہونے والوں کی تعداد اور اس وقت رہائش گاہ پر موجود افراد کے بارے میں تفصیلات شائع کی گئیں۔

چند شائع ہونے والی رپورٹوں میں صرف ممتاز فوجی کمانڈروں کے نام درج ہیں، جیسے کہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر، مجتبیٰ خامنہ ای کے والد علی شمخانی، اور ان کے خاندان کے چار دیگر افراد کی تفصیلات۔

تحقیقات سے یہ بھی علم ہوتا ہے کہ وہ واحد شخص جس نے کہا کہ اس نے علی خامنہ ای کی لاش کو قریب سے دیکھا وہ ان کے بیٹے مجتبی خامنہ ای ہیں جنھوں نے یہ بات اس پہلے پیغام میں کہی تھی جو ان کے انتخاب کے بعد ان کی جانب سے شائع کیا گیا تھا۔

ان کے رہبر منتخب ہونے کے موقع پر شائع ہونے والے اور ان سے منسوب پہلے پیغام میں کہا گیا: ’مجھے ان کی شہادت کے بعد ان کی میت کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ میں نے جو دیکھا وہ قوت و استقامت کا ایک پہاڑ تھا اور میں نے سنا کہ ان کا صحت مند ہاتھ مضبوطی سے مٹھی کی شکل میں بند تھا۔‘

ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ کے دفتر کے اطراف کا علاقہ اب بھی سکیورٹی باڑوں اور رکاوٹوں میں گھرا ہوا ہے، جبکہ وہاں ہونے والے دھماکوں کی تصاویر زیادہ تر اُن فضائی تصاویر اور ویڈیوز سے سامنے آئی ہیں جو میزائل حملوں یا بمباری کے بعد غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے شائع کی تھیں۔ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد اس علاقے کو مزید کئی بار نشانہ بنایا گیا۔

پانچ مارچ کو اس علاقے میں شدید حملوں کے بعد اسرائیلی فوج نے رہبرِ اعلیٰ کے ہیڈکوارٹر کمپلیکس کا ایک نقشہ اور تھری ڈی تصاویر جاری کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ یہ کمپلیکس اسلامی جمہوریہ ایران کا سب سے اہم کمانڈ سینٹر ہے اور اس کے نیچے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے لیے ایک بڑا زیرِ زمین پناہ گاہی نظام موجود ہے۔

ایران کے اندر اس تاریخی اور غیر معمولی دن کی داستان مختلف افراد کی جانب سے ہفتوں کے دوران بتدریج اور غیر رسمی انداز میں سامنے آتی رہی ہے۔

فوجی کمانڈروں، امدادی کارکنوں، سرکاری عہدیداروں اور پڑوسیوں نے اس روز جو کچھ دیکھا یا سنا، اس کے مختلف حصے بیان کیے ہیں۔ یہ بیانات بعض اوقات ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں اور بعض اوقات اس دن کے واقعات کے بارے میں نئے سوالات بھی جنم دیتے ہیں۔

اس تحریر میں علی خامنہ ای کے دفتر پر ہونے والے حملے کے بعد شائع ہونے والی ان بیانات کا مجموعہ پیش کیا جا رہا ہے جو ’بیتِ رہبری‘ پر حملے، علی خامنہ ای کی ہلاکت اور مجتبیٰ خامنہ ای کے رہبرِ اعلیٰ بننے کے متعلق ہیں۔

فی الحال یہی بیانات 40 روزہ جنگ کے دوران ایران کی تاریخ کے سب سے خفیہ اور کم رپورٹ ہونے والے دنوں میں سے ایک کی دستیاب تصویری شکل ہے۔

تردید سے سرکاری اعلان تک

فروری کو علی خامنہ ای کے دفتر اور رہائش گاہ پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے آغاز پر شاید بہت کم لوگوں نے یہ سوچا ہوگا کہ خود علی خامنہ ای بھی نشانہ بن سکتے ہیں کیونکہ عام تاثر یہ تھا کہ وہ اپنے دفتر کے علاوہ کہیں اوربھی موجود ہو سکتے ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر حسین علائی نے ایک ویڈیو انٹرویو میں پروگرام ’ایرانی دائرہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ 29 حملے سے تین روز قبل انھوں نے علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی سے کہا تھا کہ ایران پر ایک نیا حملہ رہبر اعلیٰ کے قتل سے شروع ہوگا۔

حسین علائی کے مطابق شمخانی نے جواب دیا: ’وہ رہبرِ انقلاب کو تلاش نہیں کر سکتے۔‘

فارس نیوز ایجنسی نے بھی علی خامنہ ای کے دفتر کے خطیب ناصر رفیعی کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی، جس میں مجتبیٰ خامنہ ای کے سسر غلام علی حداد عادل کا ذکر کیا گیا۔ رفیعی کے مطابق علی خامنہ ای کے اہلِ خانہ اپنی رہائش گاہ پر موجود تھے کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے قریب ہونے کے باعث انھیں ’یقین دلایا گیا تھا کہ رہبر کی رہائش گاہ پر کوئی حملہ نہیں ہوگا۔‘

ان بیانات کے علاوہ ایران کے بعض وہ عہدیدار بھی، جنھوں نے بعد میں اس واقعے کے مقام پر اپنی موجودگی کی تصدیق کی، حملے کے پہلے روز علی خامنہ ای کی حالت کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کرتے رہے۔ اس کے بجائے انہوں نے ’صورتحال پر مکمل کنٹرول‘ کا تاثر دینے کی کوشش کی۔

ان بیانات میں سے ایک اہم بیان وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے آیا۔ حملے کے تقریباً سات سے آٹھ گھنٹے بعد، انہوں نے این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’تقریباً تمام حکام محفوظ اور خیریت سے ہیں‘ اور صورتحال قابو میں ہے۔

عباس عراقچی نے اسی انٹرویو میں زور دے کر کہا تھا کہ ’ممکن ہے ہم نے ایک یا دو کمانڈر کھوئے ہوں، لیکن یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔‘

عراقچی کے اس بیان کے چند ماہ بعد پانچ جون کو انھوں نے اس واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حملے کے وقت وہ جنیوا مذاکرات سے متعلق ایک رپورٹ پیش کرنے کے لیے علی خامنہ ای کے دفتر گئے ہوئے تھے اور وہ اور ان کے ہمراہ موجود افراد کمپلیکس کے ایک دوسرے حصے میں محفوظ رہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ وہ درحقیقت حملے کی شدت اور اس کے دائرۂ کار سے آگاہ تھے۔

اسی دن، پارلیمنٹ کے رکن حامد رسائی نے لکھا کہ ’امام خامنہ ای مکمل صحت اور تندرستی میں ہیں۔‘

لیکن چند گھنٹوں کے بعد اسلامی جمہوریہ کے رہبر اعلی کی ہلاکت کی خبر جاری کی جا چکی تھی۔

سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری علی باقری نے 13 جون کو ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں حملے کے دن کی تفصیلات بتائیں۔ علی باقری کے بھائی مصباح علی خامنہ ای کے داماد تھے اور وہ بھی امریکی اسرائیلی حملے کے پہلے دن اسی مقام پر مارے گئے تھے۔

مسٹر باقری نے اس ٹیلی ویژن پروگرام میں کہا کہ دھماکے کے وقت وہ ایک میٹنگ میں تھے جو علی خامنہ ای کے دفتر سے 30 میٹر کے فاصلے پر ہو رہی تھی اور اس میٹنگ کے دوران کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ حملہ اسی لمحے ہو جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ بعد میں یہ واضح ہوا کہ میزائلوں کی تعداد زیادہ تھی۔ علی باقری نے مزید کہا کہ ’ایک سے زیادہ میزائل اس جگہ پر گرے جہاں علی خامنہ ای موجود تھے۔‘

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے ہیڈ کوارٹر پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے ایک دن بعد ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے بریکنگ نیوز نشریات میں علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ اسی دن سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے ایک بیان جاری کیا جس میں صرف علی خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر دی گئی لیکن تفصیلات کا ذکر نہیں کیا۔

عینی شاہدین کی داستانیں

حالیہ ہفتوں میں، کچھ امدادی کارکنوں، سرکاری اہلکاروں، اور یہاں تک کہ علی خامنہ ای کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے سڑک کے پار رہنے والے ایک پڑوسی نے انٹرویوز اور تقریروں میں 40 روزہ جنگ کے پہلے دن کے کچھ حصے بیان کیے ہیں جو مل کر حملے کے پیمانے اور اس کے نتیجے کی ایک چھوٹی سی تصویر فراہم کرتے ہیں ۔

تہران کے فائر ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر غدر اللہ محمدی ان اولین اہلکاروں میں سے ایک تھے جنھوں نے حملے کے ابتدائی اوقات کے بارے میں بات کی۔

انھوں نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ ’جب حملہ شروع ہوا تو امدادی کارکنوں کی سب سے بڑی تشویش لیڈر کے گھر کی حالت تھی۔‘ انھوں نے کہا کہ تقریباً سات فائر سٹیشنوں کو مختلف سمتوں سے جائے وقوعہ پر بلایا گیا اور انھیں مختلف دروازوں سے کمپلیکس میں داخل ہونے کو کہا گیا اور وہ کمپلیکس میں داخل ہونے والے پہلے لوگوں میں شامل تھے۔

انھوں نے کہا کہ ابتدائی گھنٹوں میں ریسکیو فورسز کا سب سے اہم مشن اسلامی جمہوریہ کے رہنما کو کھنڈرات میں سے تلاش کرنا تھا۔

انھوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ علی خامنہ ای کی لاش کہاں سے ملی یا سرچ آپریشن میں کیا پیشرفت ہوئی، تاہم ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کے ابتدائی اوقات میں ریسکیو فورسز ابتدائی طور پر علی خامنہ ای کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہی تھیں۔

ہلال احمر تنظیم کے نائب سربراہ امیر حسین بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ وہ حملے کے دن علی خامنہ ای کے دفتر کے قریب تھے۔ ان کے مطابق وہ پہلے حملے کے بعد کمپاؤنڈ کے باہر انتظار کر رہے تھے جب دوبارہ لڑاکا طیاروں اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔

سرچ آپریشن کی دشواری کا ایک اور احوال مسلح افواج کے کمانڈر انچیف عبدالرحیم موسوی کے بیٹے نے بتایا۔ انھوں نے کہا کہ ان کے والد علی خامنہ ای کے دفتر میں ہونے والی میٹنگ میں شرکت کے لیے 29 مارچ کی صبح گھر سے نکلے تھے۔ ان کے مطابق عبدالرحیم موسوی کی لاش کو ملبے سے نکالنے میں تقریباً تیس دن لگے۔

لیکن اس حملے کی سب سے زیادہ تفصیلات اشرف خادم کی جانب سے سامنے آئی ہیں جو بہت عرصے سے اسی گلی کے رہائشی ہیں۔

اس واقعے کے دن کو انھوں نے یوں بیان کہا کہ جب دھماکہ ہوا تو ’میں نے سب سے پہلے سوچا کہ کوئی عمارت گر گئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی شدت اتنی تھی کہ ان کا گھر بھی دھویں اور گردوغبار سے بھر گیا۔ ان کے مطابق تھوڑی ہی دیر میں اردگرد کی سڑکیں فائر فائٹرز، پولیس، سیکیورٹی فورسز اور لوگوں سے بھر چکی تھیں۔

اگرچہ یہ اکاؤنٹس مختلف تفصیلات بیان کرتے ہیں، لیکن وہ وسیع پیمانے پر تباہی، ایک طویل ریسکیو آپریشن کی تصویر کشی کرتے ہیں، جس کا ایک اہم حصہ اسلامی جمہوریہ کے سرکاری بیانیے میں غیر واضح ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کہاں تھے؟

مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت کہاں تھے اور انھیں کیسے بچایا گیا؟ حملے کے بعد کے ابتدائی ہفتوں میں، حکومتی حکام اور وہ افراد جنھوں نے جائے وقوعہ پر موجود ہونے کا دعویٰ کیا تھا، کی جانب سے مختلف بیانات پیش کیے گئے۔

ان اکاؤنٹس سے پتہ چلتا ہے کہ حملے کے وقت مجتبیٰ خامنہ ای اسی کمپلیکس میں موجود تھے۔

حکام کی طرف سے خبروں اور بیانات کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں پہلی سرکاری خبر جنگ شروع ہونے کے تین دن بعد 12 مارچ کو میڈیا میں شائع ہوئی۔ اس دن مہر خبررساں ایجنسی نے لکھا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای مکمل صحت مند ہیں، وہ اس وقت ملک کے اہم امور کا جائزہ لے رہے ہیں۔

مہر نے اس معاملے پر مزید وضاحت فراہم نہیں کی۔

ایرانی سرکاری حکام نے آہستہ آہستہ مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے 2 مئی کو کہا کہ خامنہ ای دھماکے سے چند منٹ قبل کچھ کرنے کے لیے صحن میں گئے تھے جس سے ان کی جان بچ گئی۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ مجتبی خامنہ ای حملے میں زخمی ہوئے تھے، لیکن اب وہ ملکی معاملات کو سنبھالنے اور اس کے معاملات کی نگرانی میں مصروف تھے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات مئی میں وزارت صحت کے پبلک ریلیشن سینٹر کے ڈائریکٹر حسین کرمان پور نے فراہم کی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ 29 مارچ کو دوپہر کے قریب وزارت صحت کے حکام کو اطلاع ملی کہ مسٹر خامنہ ای کو سینا ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اس کا مطلب علی خامنہ ای ہے لیکن منتقلی کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ہسپتال لایا گیا ہے۔

مسٹر کرمان پور نے کہا کہ ان کی چوٹیں محدود تھیں اور انھیں بالآخر صرف چند ٹانکے لگے جن میں ان کی ٹانگ بھی شامل تھی۔ اس نے زور دے کر کہا کہ چوٹیں اتنی شدید نہیں تھیں کہ ان کی شکل بگڑ جائے یا چہرے کو شدید نقصان پہنچے، اور 2 بجے انھیں ہسپتال سے روانہ کر دیا گیا تھا۔

مظاہر حسینی ، جو کہ علی خامنہ ای کے دفتر کے دوروں کے انچارج ہیں، نے اس واقعے کے بارے میں ایک مختلف اور زیادہ تفصیلی بیان دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مجتبیٰ خامنہ ای دھماکے کی وجہ سے زمین پر گر گئے اور ان کو چوٹیں آئیں۔

مظاہر حسین کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کے چہرے یا ماتھے پر شدید چوٹ کے بارے میں کچھ بیانات غلط ہیں۔

ان سرکاری اکاؤنٹس کے علاوہ، حکمران جماعت کے قریبی صحافی محمد مہدی بابائی کے زیر انتظام ٹیلی گرام چینل ’وار نیوز‘ نے حملے کے لمحات کا ایک اور اکاؤنٹ شائع کیا۔

ٹیلی گرام چینل کے مطابق عباس عراقچی علی خامنہ ای کے دفتر میں جوہری مذاکرات کی رپورٹ پیش کر رہے تھے اور اس ملاقات میں مجتبی خامنہ ای بھی موجود تھے۔ رپورٹ ختم ہونے کے بعد، علی خامنہ ای نے اپنے بیٹے کو احاطے سے نکلنے کو کہا۔ چند منٹ بعد، جب مجتبیٰ خامنہ ای کمپلیکس کے صحن میں تھے، میزائل کمپلیکس کے کئی مقامات پر گرے۔

رپورٹ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کی ٹانگ، سینے اور بازو پر چوٹیں آئیں تاہم وہ علاج کے بعد صحت یاب ہو گئے۔ اس ٹیلی گرام چینل نے یہ نہیں لکھا کہ اس نے یہ معلومات کہاں سے حاصل کی ہیں۔

قبرص میں ایرانی سفیر علی رضا سلامتیان نے 11 مارچ 2026 کو گارڈین اخبار کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای حملے کے مقام پر موجود تھے اور زخمی ہوئے۔

ایرانی حکام نے عموماً اس واقعے اور مجتبی خامنہ ای کی صحت کا ایک مربوط اور متفقہ اکاؤنٹ پیش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اب تک ان کی کوئی تازہ تصویر، نئی ویڈیوز یا آڈیو کیوں جاری نہیں کی گئی ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US