ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ تہران میں ادا کردی گئی، جس میں اعلیٰ حکومتی شخصیات اور لاکھوں سوگواروں نے شرکت کی۔
نماز جنازہ میں آیت اللہ خامنہ ای کی صاحبزادی، بہو، داماد اور نواسی کی بھی تدفین سے قبل آخری رسومات ادا کی گئیں۔ تقریب میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر اہم سیاسی و سرکاری شخصیات شریک ہوئیں، جبکہ امام خمینی مصلیٰ سینٹر اور اس کے اطراف لاکھوں افراد موجود رہے۔
تہران کی فضا سوگوار رہی اور شہریوں نے اپنے رہنما کو اشک بار آنکھوں کے ساتھ الوداع کیا۔
سرکاری شیڈول کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسد خاکی 7 جولائی کو قم منتقل کیا جائے گا، جبکہ 8 جولائی کو نجف اور کربلا میں تعزیتی تقاریب منعقد ہوں گی۔ انہیں 9 جولائی کو مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
گزشتہ روز آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے ساتھ جاں بحق ہونے والے اہل خانہ کی میتیں عوامی دیدار کے لیے تہران میں رکھی گئی تھیں، جہاں ہزاروں افراد نے حاضری دی۔
یاد رہے کہ 28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق ہوئے تھے، جس کے بعد تقریباً ایک ہفتے کے اندر، 8 مارچ کو ایران کے نئے سپریم لیڈر کا انتخاب عمل میں آیا، تاہم ان کی تدفین بعد میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی زندگی پر ایک نظر
آیت اللہ سید علی خامنہ ای اسلامی جمہوریہ ایران کے اہم انقلابی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے شاہی نظام کے خلاف جدوجہد کے دوران متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور 1979 کے ایرانی انقلاب میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ 1981 میں ایران کے تیسرے صدر منتخب ہوئے، جبکہ 1989 میں امام خمینی کے انتقال کے بعد سپریم لیڈر کا منصب سنبھالا اور اپنی وفات تک اس عہدے پر فائز رہے۔