ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے بعد خطے کے حالات پہلے جیسے نہیں رہے، لہٰذا واشنگٹن کو موجودہ حقائق کو تسلیم کرنا چاہیے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ ریمارکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی قیادت کو ایران کے معاملات پر تبصرہ کرنے کے بجائے اپنے ملک کو درپیش اندرونی مسائل، خصوصاً عوامی فلاح اور غذائی ضروریات پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا میں 4 کروڑ سے زائد افراد فوڈ اسٹیمپس پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں، اس لیے صدر ٹرمپ کو اپنی “SNAP” اسکیم سے متعلق مشورے اپنے ہی ملک تک محدود رکھنے چاہییں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا کہنا تھا کہ ایران اپنے وسائل اور قومی مفادات کے حوالے سے خودمختار فیصلے کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور اسے کسی بیرونی دباؤ یا مشورے کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی قومی پالیسیوں کا تعین آزادانہ طور پر کرتا رہے گا اور ملکی مفادات کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔