پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام کی آواز حکومت، ریاست اور پورے پاکستان تک پہنچانا چاہتے ہیں اور خطے کے سیاسی، معاشی اور آئینی حقوق کے حصول کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
گلگت بلتستان کے نومنتخب وزیر اعلیٰ امجد ایڈووکیٹ کی تقریبِ حلف برداری کے بعد عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کی اور بعد ازاں پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام آج بھی ذوالفقار علی بھٹو کو یاد کرتے ہیں، جنہوں نے جاگیردارانہ اور شخصی حکمرانی کا خاتمہ کیا، جبکہ بینظیر بھٹو نے گلگت بلتستان میں جماعتی سیاست کی بنیاد رکھی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کو انتظامی شناخت اور نظام فراہم کیا، جبکہ نئی نسل اس خطے کے آئینی اور جمہوری حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ دن ضرور آئے گا جب گلگت بلتستان کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں نمائندگی حاصل ہوگی۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت کو تین بنیادی نکات پر عوام نے مینڈیٹ دیا ہے، جن میں حقِ خود اختیاری، زمین کی ملکیت کا حق اور روزگار کا حق شامل ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو زمین کی ملکیت کے حقوق دیے جائیں گے، قابلِ کاشت سرکاری اراضی مقامی افراد میں تقسیم کی جائے گی اور زمین سے متعلق فیصلوں کا اختیار بھی مقامی لوگوں کے پاس ہوگا۔
بلاول بھٹو زرداری نے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں تمام سرکاری ملازمتیں صرف میرٹ کی بنیاد پر دی جائیں گی اور کسی کو بھی اہل امیدواروں کے حق پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے آخر میں وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گلگت بلتستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا۔