پاک فوج کے بہادر سپوت اور نشانِ حیدر کے اعزاز یافتہ حوالدار لالک جان شہید کا 27واں یومِ شہادت آج ملک بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور مسلح افواج نے عظیم شہید کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 7 جولائی 1999 کو کارگل کے محاذ پر حوالدار لالک جان شہید نے اپنی پوسٹ کا بے مثال بہادری سے دفاع کیا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے محاذ چھوڑنے سے انکار کیا اور جامِ شہادت نوش کرنے تک اگلے مورچوں پر رہتے ہوئے اپنے ساتھی جوانوں کی قیادت کرتے رہے۔
عسکری قیادت نے اپنے پیغام میں کہا کہ حوالدار لالک جان شہید کی عظیم قربانی شجاعت، استقامت اور بے لوث خدمت کی روشن علامت ہے، جبکہ افواجِ پاکستان اور پوری قوم ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے عزم کی تجدید کرتی ہے۔
حوالدار لالک جان 1967 میں گلگت بلتستان کے ضلع غذر کی وادی یاسین میں پیدا ہوئے۔ وہ 12 ناردرن لائٹ انفنٹری (این ایل آئی) سے وابستہ تھے اور مئی 1999 میں کارگل معرکے کے دوران رضاکارانہ طور پر اگلے محاذ پر جانے کی خواہش ظاہر کی۔
جون 1999 میں دشمن کے ایک بڑے حملے کے دوران انہوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر مختلف مورچوں سے دشمن پر جوابی فائرنگ کی اور اپنے ساتھیوں کے حوصلے بلند رکھے، جس کے نتیجے میں دشمن کو بھاری جانی نقصان اٹھاتے ہوئے پسپا ہونا پڑا۔
7 جولائی 1999 کو بھارتی فوج کی شدید گولہ باری اور تین اطراف سے حملے کے باوجود حوالدار لالک جان شہید زخمی حالت میں بھی ڈٹے رہے، دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا اور وطن کے دفاع میں جامِ شہادت نوش کیا۔
حکومتِ پاکستان نے ان کی بے مثال جرات اور قربانی کے اعتراف میں انہیں ملک کے اعلیٰ ترین عسکری اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا۔ حوالدار لالک جان شہید کی داستانِ شجاعت آج بھی قوم کے لیے حوصلے، بہادری اور حب الوطنی کی روشن مثال سمجھی جاتی ہے۔