’ارشد آپ نے اپنا کیا حال کر لیا ہے‘: دولتِ مشترکہ کھیلوں میں نویں پوزیشن پر اولمپک چیمپیئن پر تنقید

ریحان علوی نامی صارف نے لکھا کہ ارشد ندیم اپنے زوال کے خود ذمے دار ہیں۔ اُن کے پاس اتنے وسائل تھے کہ وہ یورپ میں ٹریننگ کرتے۔ ’ہمارے ہاں ہر کھیل میں یہ مسئلہ ہے۔ جیسے ہی پیسہ اور شہرت ملتی ہے یہ راستہ بھٹک جاتے ہیں۔‘
Arshad Nadeem
Getty Images
ارشد ندیم دولت مشترکہ کھیلوں میں جیولین تھرو مقابلے میں 80 میٹر تک کی تھرو کرنے میں ناکام رہے

یہ اگست کا ہی مہینہ تھا، جب پاکستان کے لیے پیرس میں اولمپک گولڈ میڈل جیت کر تاریخ رقم کرنے والے ارشد ندیم کا ڈنکہ بج رہا تھا۔ وزیرِ اعظم پاکستان سمیت ہر کوئی میاں چنوں کے اس نوجوان کی تعریفوں کے پل باندھ رہے تھے۔

لیکن دو سال بعد سب کچھ جیسے بدل سا گیا ہے۔ پیرس اولمپکس میں 92.97 دُور نیزہ پھینک کر اولمپک ریکارڈ قائم کرنے والے ارشد ندیم گلاسکو میں جاری دولت مشترکہ کھیلوں میں نویں پوزیشن ہی حاصل کر سکے ہیں۔

اولمپک چیمپیئن ارشد ندیم پر زیادہ تنقید اس بات پر ہو رہی ہے کہ وہ جمعے کی شب گلاسگو میں جیولین تھرو فائنل میں 80 میٹر کی تھرو کرنے میں بھی ناکام رہے۔

جیولن فائل کے دوران پہلے راؤنڈ میں ارشد ندیم سے فاؤل ہوا جبکہ دوسرے راؤنڈز میں ان کی سب سے طویل تھرو 77.41 میٹر کی تھی۔ تیسرے راؤنڈ میں وہ محض 75.39 میٹر طویل تھرو پھینک سکے۔ اس کے باعث وہ چوتھے راؤنڈ کے لیے آخری آٹھ ایتھلیٹس میں کوالیفائی نہ کر سکے۔

فائنل میں سری لنکا کے رمیش پتھیراگے نے 89.75 میٹر کی سب سے طویل تھرو پھینک کر طلائی تمغہ جیتا۔ انڈیا کے نیرج چوپڑا نے 85.83 میٹر کی تھرو کے ساتھ چاندی کا تمغہ جبکہ انڈیا کے ہی یش ویر سنگھ نے 85.41 میٹر کی تھرو کے ساتھ کانسی کا تمغہ جیتا ہے۔

Arshad Nadeem
Getty Images

’یہ اولمپک چیمپیئن کا ڈاؤن فال ہے‘

پاکستان میں بہت سے سوشل میڈیا صارفین جہاں ارشد ندیم کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں تو وہیں بعض کا خیال ہے کہ انجری اور مناسب ٹریننگ نہ ملنے سے وہ گولڈ میڈل جیتنے میں ناکام رہے۔

حمزہ خان نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ارشد ندیم کے ڈاؤن فال سے دل ٹوٹ سا گیا ہے۔ وہ 80 میٹر کی تھرو بھی نہیں کر سکے۔ حالانکہ اُن کی بہترین تھرو 92.97 ہے۔

واضح رہے کہ دولت مشترکہ کھیلوں میں بھی ارشد ندیم اپنے ٹائٹل کا دفاع کر رہے تھے۔ سنہ 2022 میں برمنگھم میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں اُنھوں نے 90.18 میٹر دُور نیزہ پھینک کر طلائی تمغہ حاصل کیا تھا۔

سپورٹس جرنلسٹ فیضان لکھانی نے ایکس پر لکھا کہ ’ارشد آپ نے اپنا کیا حال کر لیا ہے۔‘

اس پر ریحان علوی نامی صارف نے لکھا کہ ارشد ندیم اپنے زوال کے خود ذمے دار ہیں۔ اُن کے پاس اتنے وسائل تھے کہ وہ یورپ میں ٹریننگ کرتے۔ ’ہمارے ہاں ہر کھیل میں یہ مسئلہ ہے۔ جیسے ہی پیسہ اور شہرت ملتی ہے یہ راستہ بھٹک جاتے ہیں۔‘

منیب فرخ نامی صارف نے ایکس پر ارشد ندیم کا دفاع کرتے ہوئے لکھا کہ اولمپک چیمپیئن کو عالمی معیار کا کوچ، معاون عملہ، سپورٹس سائنس، فزیو تھیراپی اور دیگر سہولیات ملنی چاہییں۔ اس کے برعکس ارشد کو انجریز کا سامنا کرنا پڑا، وہ پنجاب سٹیڈیم کے ناقص ٹریک پر تربیت کرنے پر مجبور ہوئے۔

سپورٹس جرنلسٹ سہیل عمران نے لکھا کہ سب بڑی آسانی سے کہہ رہے ہیں ارشد ندیم نے محنت نہیں کی، ٹریننگ چھوڑ دی، زیادہ تر کو تو یہ بھی نہیں پتہ قومی ہیرو ٹریننگ کہاں کرتا ہے، ناکامی کے بعد سب تجزیہ کار ارسطو بن گئے ہیں۔ خامی یقینی طور پر رہی ہو گی لیکن کروڑوں انعامات لینے کے بعدٹریننگ نہ کرنے کا الزام لگانا درست نہیں۔

خیال رہے کہ ارشد ندیم 2022 کے برمنگھم کامن ویلتھ گیمز میں 90.18 میٹر کی تھرو کے ساتھ طلائی تمغہ جیتا تھا جو کہ نہ صرف ایک نیا قومی بلکہ کامن ویلتھ گیمز کا بھی ریکارڈ تھا۔ اس تھرو کے بعد وہ مردوں کے جیولن تھرو میں 90 میٹر کا فاصلہ عبور کرنے والے پہلے جنوبی ایشیائی ایتھلیٹ بنے تھے۔

اس سے قبل گلاسگو میں ارشد ندیم نے ساتویں پوزیشن کے ساتھ جیولن تھرو کے فائنل کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔

جمعرات کو جیولن تھرو کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں کوئی بھی ایتھلیٹ ڈائریکٹ کوالیفیکیشن کے لیے درکار 84 میٹر کی تھرو نہ کر سکا تاہم بہترین تھرو کی بنیاد پر 12 کھلاڑی فائنل میں پہنچنے میں کامیاب رہے۔

ان 12 ایتھلیٹس میں ارشد ندیم کا نمبر ساتواں تھا جو انھیں 78.63 میٹر کی تھرو کی بدولت حاصل ہوا۔

سری لنکا کے رمیش تھرنگا 82.84 میٹر کی تھرو کے ساتھ سرفہرست رہے جبکہ گریناڈا کے اینڈرسن پیٹرز نے 81.29 میٹر کے ساتھ دوسرے اور جنوبی افریقہ کے ڈو سمٹ 80.64 میٹر کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔

انڈیا کے نیرج چوپڑا نے 79.61 میٹر دور نیزہ پھینکا جبکہ ان کے دو اور انڈین ساتھی روہت یادو اور یشویر سنگھ بھی فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب رہے۔ روہت یادو نے جون میں نیشنل انٹر سیپٹ سینیئر ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں 87.05 میٹر کی تھرو کی تھی۔

ابتدائی مقابلے میں شامل دوسرے پاکستانی ایتھلیٹ یاسر سلطان 74.36 میٹر کی بہترین تھرو کے ساتھ 14ویں نمبر پر رہے اور فائنل میں جگہ نہیں بنا سکے۔

29 سالہ ارشد ندیم کی حالیہ کارکردگی زیادہ متاثر کن نہیں رہی ہے اور اولمپک چیمپیئن حال ہی میں سوئٹزر لینڈ میں منعقدہ لوسرن انٹرنیشنل میٹ میں 80 میٹر کی حد بھی عبور کرنے میں ناکام رہے تھے۔

اس ایونٹ میں ارشد ندیم 78.47 ہی نیزہ پھینک پائے تھے۔ کوچ سلمان بٹ نے اولمپک چیمپیئن کی مایوس کن کارکردگی کی وجہ سوئٹزرلینڈ کے موسم سے ہم آہنگ نہ ہونا بتائی تھی۔

کوچ سلمان بٹ کے مطابق ارشد ندیم بھرپور تیاری کے ساتھ کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کریں گے اور اُمید ہے کہ وہ اپنے اعزاز کا دفاع کریں گے۔

گیمز سے قبل ارشد ندیم نے اپنے ٹائٹل کے دفاع کے چیلنج کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مقابلہ پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہوگا۔

نیرج چوپڑا
Getty Images
85.83 میٹر کی تھرو کی بدولت انڈیا کے نیرج چوپڑا نے چاندی کا تمغہ جیتا

ارشد ندیم اور نیرج چوپڑا کی حالیہ کارکردگی

پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے پیش نظر اس مرتبہ بھی سب نظریں ارشد ندیم اور نیرج چوپڑا پر مرکوز تھیں۔

ماضی میں ہونے والے عالمی مقابلوں میں دونوں کھلاڑی تھروز کے درمیان ایک دوسرے کو داد دیتے رہے ہیں۔ لیکن حالیہ ایونٹس میں دونوں ایک دوسرے سے دُور دُور ہی رہے ہیں۔

گذشتہ برس ورلڈ ایٹھلیٹکس چیمپیئن شپ کے فائنل میں دونوں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائے تھے۔

نیرج چوپڑا نے سنہ 2018 کے کامن ویلتھ گیمز میں سونے کا تمغہ حاصل کیا تھا جبکہ سنہ 2022 میں وہ حصہ نہیں لے سکے تھے۔

وہ انجری سے صحت یاب ہو کر واپسی کر رہے ہیں۔ رواں برس جون میں اُنھوں نے دوحہ میں ڈائمنڈ لیگ میں 69-85 میٹر کی تھرو کے ساتھ چوتھی پوزیشن حاصل کی تھی۔

گذشتہ برس مئی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان جھڑپوں کے بعد نیرج چوپڑا نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اُن کے لیے ارشد ندیم کے ساتھ پہلے جیسے تعلقات برقرار رکھنا شاید ممکن نہیں ہو گا۔

نیرج چوپڑا کا کہنا تھا کہ اُن کی کبھی بھی ارشد ندیم کے ساتھ گہری دوستی نہیں تھی، صرف ایک باہمی احترام پر مبنی رشتہ تھا۔

ارشد ندیم کون ہیں؟

پاکستان کے لیے 40 برس بعد اولمپکس میں جیولن تھرو مقابلوں میں گولڈ میڈل جیتنے والے سٹار ایتھلیٹ ارشد ندیم کا تعلق میاں چنوں کے نواحی گاؤں چک نمبر 101-15 ایل سے ہے۔

انھوں نے 2024 میں برس پیرس اولپمکس میں 92.97 میٹر کی تھرو کے ساتھ نہ صرف جیولن فائنل جیتا بلکہ اولمپکس میں سنہ 2008 میں قائم کیا گیا ریکارڈ بھی توڑا۔

انھیں اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتانے والی ایک تھرو 92.97 میٹر جبکہ دوسری 91.79 میٹر کے فاصلے تک گئی۔

ارشد اس سے قبل کامن ویلتھ گیمز اور ایشیئن گیمز میں بھی طلائی تمغہ حاصل کر چکے ہیں۔

ارشد ندیم کا سفر میاں چنوں کے گھاس والے میدان سے شروع ہوا جو اُنھیں انٹرنیشنل مقابلوں میں لے گیا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US