انسپکٹر اقبال خاصخیلی کے مطابق لاش کی بائیومیٹرک تصدیق میں کچھ وقت لگا، تاہم نتیجہ آنے پر معلوم ہوا کہ ہلاک ہونے والے شخص کا نام قربان حسین تھا اور وہ ملتان کے رہائشی تھے۔
کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں ایک جلی ہوئی کار سے جھلسی ہوئی لاش ملی۔ لاش اس قدر بری طرح جل چکی تھی کہ چہرے سے شناخت ممکن نہیں تھی، لیکن گاڑی میں موجود موبائل فون، شناختی کارڈ، لیپ ٹاپ اور دیگر ذاتی اشیا ایک ہی شخص کی طرف اشارہ کر رہی تھیں۔
گاڑی میں ملنے والی اشیا کی بنا پر بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ مرنے والے شخص چاول کے تاجر ذیشان ناز ہیں۔
مگر جب پولیس نے گھر والوں سے رابطہ کیا تو ایک متضاد صورت حال سامنے آئی۔
ذیشان کے بھائی نے کہا کہ لاش ان کے بھائی کی نہیں ہو سکتی، جبکہ سرد خانے پہنچنے پر ان کی اہلیہ نے لاش کو اپنے شوہر کی میت قرار دے دیا۔
دو متضاد بیانات نے پولیس کے شکوک کو جنم دیا۔ تفتیش آگے بڑھی تو معلوم ہوا کہ مبینہ طور پر ملزم ذیشان نے اپنے ہی قتل کی منصوبہ بندی کی تھی۔
بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے کراچی پولیس کے انسپکٹر سہیل خاصخیلی نے بتایا کہ گاڑی اور لاش کو گیس سلینڈر کی مدد سے جلایا گیا تھا۔
پولیس کو ذیشان ناز کے موبائل فون، لیپ ٹاپ، شناختی کارڈ اور دیگر ذاتی اشیا بھی ملی تھیں۔
انسپکٹر سہیل خاصخیلی نے بتایا: ’ہم نے ذیشان کے بھائی کو فون کیا تو انھوں نے کہا کہ یہ ان کے بھائی کی لاش نہیں ہے۔ لاش کے بال اور داڑھی جل چکی تھی۔ تاہم جب ان کی اہلیہ سہراب گوٹھ کے سرد خانے پہنچیں تو انھوں نے لاش کو اپنے شوہر کی میت قرار دیا۔ یوں دو متضاد بیانات سامنے آئے، جس کے بعد پولیس نے تفتیش شروع کی۔‘
انسپکٹر اقبال خاصخیلی کے مطابق لاش کی بائیومیٹرک تصدیق میں کچھ وقت لگا، تاہم نتیجہ آنے پر معلوم ہوا کہ ہلاک ہونے والے شخص کا نام قربان حسین تھا اور وہ ملتان کے رہائشی تھے۔
اس کے بعد نادرا سے ان کا فیملی ٹری حاصل کیا گیا اور ان کی اہلیہ سے رابطہ کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے شوہر ایک غریب مزدور ہیں جو دکانوں کے سامنے جھاڑو لگاتے تھے اور اس کام کے عوض انھیں روزانہ 500 روپے ملتے تھے۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے شوہر فالج کے مریض تھے۔
یوں قتل کے اس مقدمے کی تفتیش کے دوران ایک کے بعد ایک نئے انکشافات سامنے آتے گئے۔
قرضہ داروں کا مجمع
فائل فوٹوانسپکٹر اقبال خاصخیلی نے بتایا کہ ’جب ہم ذیشان کے گھر پہنچے تو وہاں لوگوں کا بڑا مجمع لگا ہوا تھا۔ ابتدا میں ہمیں لگا کہ شاید لوگ وفات کی خبر سن کر تعزیت کے لیے آئے ہیں، لیکن معلوم ہوا کہ یہ سب اپنے قرضوں کی وصولی کے لیے جمع ہوئے تھے۔ کسی کا ایک کروڑ روپے قرض تھا تو کسی کے دو کروڑ روپے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’ذیشان کے موبائل فون کا ریکارڈ حاصل کیا گیا تو معلوم ہوا کہ آخری بار انھوں نے اپنے ملازم سے تقریباً آدھے گھنٹے تک بات کی تھی۔ بعد ازاں ملازم کو حراست میں لیا گیا اور ان کی نشاندہی پر مرکزی ملزم ذیشان کو آغا خان ہسپتال سے گرفتار کر لیا گیا۔ لاش جلانے کی کوشش کے دوران ان کے ہاتھ اور پاؤں جھلس گئے تھے اور وہ علاج کے لیے ہسپتال آئے تھے۔‘
انسپکٹر کے مطابق ’ذیشان کے ملازم نے بتایا کہ انھوں نے مقتول قربان حسین سے کہا کہ آؤ، تمھیں اچھا کھانا کھلاتے ہیں۔ اسے نئے کپڑے پہنائے گئے اور پھر مبینہ طور پر اسے زہریلی گولیاں دے دی گئیں۔ بعد ازاں لاش کو گاڑی میں رکھ کر جلانے کی کوشش کی گئی۔‘
پولیس کو شبہ ہے کہ ملزم ذیشان نے ملک سے فرار ہونے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
انسپکٹر اقبال خاصخیلی کے مطابق ملزم کے قبضے سے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کی کاپیاں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ گرفتاری کے وقت انھوں نے اپنی داڑھی بھی منڈوا رکھی تھی۔
آخر ملزم نے یہ اقدام کیوں اٹھایا؟
اس سوال کے جواب میں انسپکٹر خاصخیلی نے بتایا کہ ذیشان ایران اور رومانیہ کو چاول برآمد کرتا تھا، تاہم حالیہ جنگ کے باعث اس کی بڑی رقم پھنس گئی تھی جس سے وہ شدید مالی دباؤ کا شکار ہو گیا۔
ان کے مطابق ذیشان نے تفتیش کے دوران بتایا کہ وہ سمندر میں جا کر خودکشی کرنے کا ارادہ بھی کر چکا تھا، تاہم ایسا نہ کر سکا۔ اس کے بعد اس نے مبینہ طور پر قربان حسین کو قتل کر کے اپنی موت کا ڈرامہ رچانے کی کوشش کی۔
فائل فوٹوقربان حسین کون تھے اور پولیس نے قتل کی گتھی کیسے سلجھائی؟
قربان کی اہلیہ سکینہ بی بی نے سرجانی ٹاؤن تھانے میں قتل کا مقدمہ درج کرایا ہے۔ مقدمے میں انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ بلال کالونی میں اپنی بہن، بچوں اور شوہر کے ساتھ رہتی ہیں۔ وہ گھروں میں کام کاج کرتی ہیں، جبکہ ان کے شوہر قربان حسین خاکروب تھے اور روزانہ شام کو گھر واپس آ جاتے تھے۔
سکینہ بی بی کے مطابق 27 جولائی کو ان کے شوہر صبح کام پر جانے کا کہہ کر گھر سے نکلے، لیکن واپس نہ آئے۔ بعد ازاں سرجانی پولیس کے ذریعے انھیں معلوم ہوا کہ ان کے شوہر قربان حسین ولد غلام صابر کی لاش سرجانی ٹاؤن میں جھاڑیوں کے قریب کھڑی ایک کلٹس کار سے جلی ہوئی حالت میں ملی ہے، جسے ایدھی ہوم سہراب گوٹھ کے سرد خانے منتقل کر دیا گیا تھا۔
مدعیہ کے مطابق اطلاع ملنے پر وہ وہاں پہنچیں تو تصدیق ہوئی کہ لاش واقعی ان کے شوہر قربان حسین ولد غلام صابر کی تھی۔
ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کے مطابق قرض خواہوں سے بچنے کے لیے چاول کے تاجر ذیشان ناز نے اپنی ہی موت کا ڈرامہ رچانے کی منصوبہ بندی کی اور ایک بے گناہ مزدور کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
ان کے مطابق کہ ملزمان نے منصوبہ بندی کے تحت مقتول پر پٹرول چھڑک کر آگ لگائی جبکہ گاڑی میں پہلے سے موجود گیس سلینڈر کے ذریعے واقعے کو حادثہ یا خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔
ایس ایس پی کے مطابق آگ لگانے کے دوران مبینہ ماسٹر مائنڈ ذیشان ناز خود بھی جھلس گئے۔ بعد ازاں انھوں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے جلے ہوئے کپڑے راستے میں پھینک دیے، جنھیں پولیس نے برآمد کر لیا ہے۔