سکھر رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی پی) ناصر آفتاب نے اگست 2021 سے لاپتا معصوم بچی پریا کماری کی بازیابی کے لیے ایک نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کے لیے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) سندھ کو خط لکھ دیا ہے۔
آئی جی سندھ کو بھیجے گئے سرکاری مکتوب کے مطابق راجو مل کی بیٹی پریا کماری 19 اگست 2021 سے لاپتہ ہے، جس کا مقدمہ (FIR No. 13/2021) ان کے والد کی مدعیت میں تھانہ سنگرار، ضلع سکھر میں درج ہے۔ خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سکھر پولیس اور محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے پہلے سے قائم کردہ جے آئی ٹیز نے بچی کو تلاش کرنے کی بھرپور کوششیں کیں، لیکن اب تک کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے ہیں۔
ڈی آئی جی سکھر نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر محکمہ داخلہ حکومتِ سندھ سے ایک نئی اور بااختیار جے آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست کی ہے۔ اس مجوزہ کمیٹی میں پولیس کے سینیئر کمانڈنگ افسران کے ساتھ ساتھ حساس اداروں کے نمائندوں کو بھی شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ بچی کو جلد از جلد بازیاب کرایا جاسکے۔
مجوزہ جے آئی ٹی کی قیادت ڈی آئی جی پی سکھر رینج خود کریں گے، جبکہ دیگر ارکان میں ایس ایس پی سکھر، ایس ایس پی لاڑکانہ، ایس ایس پی شکارپور، اور ڈی ایس پی/ایس ڈی پی او سٹی سکھر شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ تحقیقات میں بہترین معاونت کے لیے ملٹری انٹیلیجنس (MI)، آئی ایس آئی (ISI)، انٹیلیجنس بیورو (IB) اور رینجرز انٹیلیجنس کے نمائندوں کو بھی اس ٹیم کا حصہ بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔
خط کی ایک کاپی ضروری معلومات کے لیے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سکھر کو بھی ارسال کردی گئی ہے۔