ڈیلیوری کے بعد اپنے بچے کو نہ پہچان پانے والی ماں کی کہانی: ’مجھے ایسا لگا جیسے میرے جسم نے میرے ساتھ دھوکہ کیا‘

ثمینہ علی کے لیے بچے کی پیدائش ایک ایسا تجربہ ثابت ہوئی جو ان کی جان لے سکتا تھا اور جس نے ان سے ان کی یادداشت اور اپنی ذات کا احساس چھین لیا۔
With a pillow behind her head and lots of wires and tubes attached to her, Samina Ali lies in a hospital bed, looking down at her baby son, Ishmael, in her arms, while her mother and younger brother, on either side of her, watch closely.
Samina Ali
ثمینہ علی کے لیے بچے کی پیدائش ایک ایسا تجربہ ثابت ہوئی جو ان کی جان لے سکتا تھا

’بظاہر میرا حمل بالکل معمول کے مطابق تھا۔ میں کم عمر تھی، صحت مند تھی لیکن شروع ہی سے ایک عجیب سا احساس تھا کہ کچھ ٹھیک نہیں۔ یہ خیال مجھے مسلسل پریشان کرتا رہا۔‘

ثمینہ علی کو ہمیشہ یہ احساس رہا کہ ان کی زندگی میں کچھ ایسا ضرور ہے جو ٹھیک نہیں۔ ایک مذہبی مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے والی ثمینہ کا بچپن انڈیا اور امریکہ کے درمیان گزرا۔

ان کے والدین کا ماننا تھا کہ وہ ایک منحوس دن پیدا ہوئیں، اسی لیے وہ انھیں ہر طرح کی مصیبت سے بچانے کی کوشش کرتے رہے۔ چاندی کے تعویذ پہناتے رہے اور اس بات سے ہمیشہ خوف زدہ ہی رہے کہ اُن کی بیٹی کی زندگی زندگی مُشکلات کا شکار نہ ہو کہ جس میں انھیں تکالیف کا سامنا رہے۔

لیکن 1999 میں پہلے حمل کے دوران ان کے ڈاکٹروں کو اُن کی حالت دیکھنے کے بعد کسی بھی قسم کی کوئی فکر نہیں تھی۔ جب انھوں نے حمل ٹھہر جانے کے بعد پہلا سکین یا معائنہ کیا تو وہ منظر اور بچے کی دل کی دھڑکن سن کر مطمئن ہو گئے۔

ثمینہ نے بی بی سی کے پروگرام آؤٹ لک میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دل کی دھڑکن اتنی مضبوط تھی جیسے کوئی گھوڑا دوڑ رہا ہو۔ دل کی اُس دھڑکن سے کمرہ گونج اُٹھا اور مجھے لگا شاید میں ہی غلط سوچ رہی ہوں۔‘

مگر حمل کے ساتویں مہینے میں علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔ ’میں اتنی سوج گئی تھی کہ ٹائپ کرتے وقت میری انگلیاں آپس میں رگڑ کھاتی ہوئی محسوس ہوتی تھیں، مجھے الٹیاں آ رہی تھیں اور نظر بھی اکثر دھندلا جاتی تھی۔‘

اس کے باوجود ڈاکٹر انھیں یہی کہتے رہے کہ وہ ’کم عمر، صحت مند اور بالکل ٹھیک‘ ہیں۔

حمل کے دوران ہونے والی پیچیدگی

اس زمانے میں جب انٹرنیٹ پر فوری اور جامع معلومات تک رسائی آج کی طرح آسان نہیں تھی، ثمینہ اور ان کے شوہر سکاٹ نے وہی کیا جو انھیں بہتر لگا۔

ثمینہ نے بی بی سی نیوز ورلڈ سروس کے پروگرام آؤٹ لک کو بتایا کہ ’ہم نے کتابوں کا سہارا لیا، خاص طور پر ’وٹ ٹو ایکسپیکٹ وین یو آر ایکسپیکٹنگ‘ (What to Expect When You're Expecting) کا۔ کتاب کے آخر میں شاید ایک صفحہ پری ایکلیمپسیا کے بارے میں تھا، جس میں درج کئی علامات وہی تھیں جو مجھے محسوس ہو رہی تھیں۔‘

پری ایکلیمپسیا حمل کے دوران پیدا ہونے والی ایک پیچیدگی ہے، جس کا آغاز نال یعنی پلیسینٹا سے متعلق مسائل سے ہوتا ہے۔ ڈاکٹر اب تک مکمل طور پر نہیں جانتے کہ یہ کیفیت کیوں پیدا ہوتی ہے تاہم یہ انتہائی سنگین ثابت ہو سکتی ہے اور جسم کے کئی اعضا، حتیٰ کہ دماغ کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

سیاہ فام یا جنوبی ایشیائی خواتین میں اس بیماری کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی علامات میں ہائی بلڈ پریشر یعنی بلند فشارِ خون، شدید سر درد، پیشاب میں پروٹین آنا اور دھندلا دکھائی دینا شامل ہیں۔

بڑھتی ہوئی تشویش کے باعث ثمینہ اور ان کے شوہر ایک بار پھر ڈاکٹروں کے پاس گئے۔

ثمینہ نے بتایا کہ ’میرے بیٹے کی پیدائش میں صرف ایک ہفتہ باقی تھا، اس لیے میں اپنے شوہر کو بھی ساتھ لے گئی کیونکہ وہ ایک سفید فام مرد ہیں اور مجھے لگا کہ شاید ڈاکٹر ان کی بات سنیں۔‘

تاہم ڈاکٹر نے انھیں یہی کہا کہ سب کچھ معمول کے مطابق ہے، گھر جائیں اور آرام کریں۔ پریشانی کی کوئی بات نہیں۔

A close-up shows Samina Ali's newborn son, Ishmael, asleep and wearing a blue, woollen hat.
Samina Ali
ثمینہ کو آج بھی اپنے بیٹے اسماعیل کے ابتدائی دنوں کی بہت کم باتیں یاد ہیں

اصل تکلیف ثمینہ کے لیے اُس وقت شروع ہوئی جب وہ زچگی کے مرحلے میں داخل ہوئی۔

انھوں نے بتایا کہ ’میں شدید تکلیف میں تھی لیکن یہ زچگی کے مرحلے میں ہونے والی درد یا تکلیف نہیں تھی۔ میرے سینے اور سر میں ایسا درد تھا جیسے میرا سر پھٹنے والا ہو۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میرا جسم جواب دیتا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’بیٹے کی پیدائش کے وقت حالات بگڑنے لگے۔ ڈاکٹر جو زچگی کے دوران موجود تھے نرسوں کے پیچھے کھڑے تھے تاکہ انھیں اس تکلیف کے دوران میرے سوالوں کا جواب نہ دینا پڑے۔ میرا بلڈ پریشر بہت تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ میں ہوش میں آتی اور پھر بے ہوشی کی حالت طاری ہو جاتی، کُچھ کُچھ دیر کے بعد نرس مجھے جگاتی تاکہ میں زور لگا سکوں۔ میں شدید الجھن کا شکار تھی، میرا دماغ پہلے ہی فالج کے جھٹکے برداشت کر رہا تھا۔ سینے کا درد بھی دل کے دورے کی شکل اختیار کر گیا۔‘

ثمینہ کو اس کے بعد کی زیادہ باتیں یاد نہیں، سوائے شدید درد اور اپنے نومولود بچے کی چند دھندلی جھلکوں کے۔

انھوں نے بتایا کہ ’مجھے یاد ہے کہ میرے بیٹے کی پیدائش ہوئی، نرسیں اسے لے گئیں اور نہلایا۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ میں اپنی ایک نیم کُھلی آنکھ سے بستر پر لیٹے ہوئے اسے دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے بیٹے کی پیدائش کے تقریباً بیس منٹ بعد مجھے شدید مرگی کا دورہ پڑا۔ وہ کیفیت میرے جسم میں اس طرح پھیلی جیسے قدرتی بے ہوشی کی دوا ہو۔ اس کے بعد مجھے کوئی درد محسوس نہیں ہوا۔ یہی آخری لمحہ ہے جو مجھے یاد ہے۔‘

ثمینہ اور ان کے نومولود بیٹے اسماعیل کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ منتقل کر دیا گیا۔ اسماعیل جو غذائی کمی کا شکار تھے زچگی وارڈ میں زیرِ علاج رہے جبکہ ثمینہ زچگی کے دوران شدید دماغی پیچیدگی کے باعث کومے میں چلی گئیں اور نیورولوجی کے شعبے میں مشینوں کے ذریعے انھیں زندہ رکھنے کی کوشش جاری رہی۔

A close-up shows Samina Ali holding a stack of medical records detailing her condition after going into a coma following the birth of her son, Ishmael. Only her hands, a wedding ring and a thick pile of white paper are shown.
Marissa Leshnov for The Washington Post via Getty Images
ثمینہ کی پیچیدہ حالت کے باعث ہسپتال میں ان کا بہت سارا ریکارڈ جمع ہو گیا تھا (فائل فوٹو)

پانچ دن بعد ثمینہ کومے سے باہر آئیں ان کے ڈاکٹر کی جانب سے انھیں ’معجزاتی لڑکی‘ کا نام دیا گیا۔

اگرچہ وہ اپنی زندگی کے ابتدائی برسوں کی یادداشت کی بدولت اپنے والدین اور بھائیوں کو پہچان سکتی تھیں اور اپنی مادری زبان اردو میں بات بھی کر سکتی تھیں لیکن انھیں انگریزی بولنے میں دشواری پیش آ رہی تھی۔ انھیں نہ اپنے شوہر یاد تھے اور نہ ہی یہ کہ انھوں نے ایک بچے کو جنم دیا تھا۔

ثمینہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرے ڈاکٹر کا خیال تھا کہ شاید میرے بیٹے سے ملاقات میری یادداشت کی واپسی اور بحالی میں مدد دے۔ چنانچہ اسے انکیوبیٹر سمیت میرے پاس لایا گیا۔ میں اپنے خاندان کے افراد کے تاثرات سے سمجھ سکتی تھی کہ یہ بہت اہم لمحہ ہے لیکن میرے دماغ کے وہ حصے جو انسان کو تصور کرنے اور اپنے اردگرد ہونے والی چیزوں کو سمجھنے کی صلاحیت دیتے ہیں، ابھی کام نہیں کر رہے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’مجھے صرف اس بات کا احساس تھا کہ کچھ غیر معمولی ہو رہا ہے مگر یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کیا ہے۔‘

ماں کا اپنے نومولود کو پہلی بار گود میں لینے کا وہ لمحہ، جو عام طور پر زندگی کے خوبصورت ترین لمحات میں شمار ہوتا ہے ان کے لیے بدترین ثابت ہوا۔

انھوں نے بتایا کہ ’جب نرسوں نے میرے بیٹے کو میرے سینے پر رکھا تو وہ اسے ان تاروں اور نالیوں کے اوپر رکھ رہی تھیں جو میرے جسم سے لگی ہوئی تھیں۔ اس پر تقریباً 2.7 کلوگرام وزنی بچے کا بوجھ ناقابلِ برداشت تکلیف کا باعث بن گیا۔ چونکہ مجھے یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ میرا بیٹا ہے، اس لیے مجھے صرف اس بات کا احساس تھا کہ میں شدید درد اور تکلیف میں ہوں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’میں نرس سے یہ بھی نہیں کہہ سکتی تھی کہ اسے میرے سینے پر سے اُٹھا کر مُجھ سے دور کر دیں، کیونکہ میں بول نہیں پا رہی تھی صرف تکلیف کے باعث کراہ رہی تھی اور اسی دوران وہ میرے ہاتھوں سے پھسل کر گر گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’خوشی کا وہ لمحہ ایک خوفناک منظر میں بدل گیا۔ یہ ہماری پہلی ملاقات تھی جو انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ ثابت ہوئی۔‘

ثمینہ اُس وقت اس صدمے کو بھی محسوس کرنے کے قابل نہیں تھیں۔

اپنے شوہر سکاٹ کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ ’میرا رویہ جارحانہ ہو گیا تھا۔ جب بھی وہ میرے قریب آتے میں خوفزدہ ہو جاتی تھی اور میں انھیں اپنے سے دور دھکیلتی تھی۔‘

Samina Ali's mother cradles sleeping baby Ishmael in her arms while looking directly at the camera with a slight smile.
Samina Ali
ثمینہ کی والدہ اپنے نواسے اسماعیل کے ساتھ

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ثمینہ کی انگریزی زبان آہستہ آہستہ واپس آنے لگی لیکن ہسپتال سے فارغ ہونے کے باوجود ان کی ذہنی کیفیت مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی تھی۔

ثمینہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھے ایسا لگتا تھا جیسے میرا دماغ مختلف ٹکڑوں میں بکھر گیا اور اب انھیں دوبارہ جوڑنا میری ذمہ داری ہے۔ انسان اس وقت تک یہ نہیں جان سکتا کہ دوبارہ کھڑا ہونا، چلنا، بولنا اور اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھنا کتنا مشکل ہوتا ہے، جب تک وہ خود اس مرحلے سے نہ گزرے۔‘

ثمینہ کا کہنا تھا کہ وہ مکمل طور پر دوسروں کی محتاج ہو چکی تھیں بالکل اپنے نومولود بچے کی طرح۔

انھوں نے کہا کہ ’میں ایک بچے جیسی ہو گئی تھی۔ یہ میرے لیے انتہائی خوفناک تجربہ تھا۔ میں لفظی طور پر ہر چیز دوبارہ سیکھ رہی تھی۔ جو کچھ میرا بیٹا کر رہا تھا ویسے ہی میں بھی 30 برس کی عمر میں وہی کچھ سیکھ رہی تھی۔‘

اسی صورتحال کے باعث ان کے اور ان کے بیٹے اسماعیل کے درمیان ماں کی توجہ حاصل کرنے کی ایک عجیب سی کشمکش پیدا ہو گئی۔

ثمینہ نے بتایا کہ ’مجھے شدید غصہ آتا تھا۔ میں جانتی تھی کہ مجھے زندہ رہنے کے لیے اپنی والدہ کی مدد کی ضرورت ہے اور وہی میری مدد کر سکتی تھیں۔ جب وہ میری مدد نہیں کرتیں تو میرا ردِعمل ایک بے قابو انسان بلکہ کسی زخمی جنگلی جانور جیسا ہو جاتا تھا۔‘

A photograph shows Samina Ali today, looking directly at the camera, smiling slightly, with red lipstick, a silver earring and some of her brown hair in her face.
Samina Ali
تقریباً 30 سال کے بعد اب ثمینہ پیچھے مڑ کر دیکھتی ہیں کہ انھیں زندہ رہنے کے لیے کیا کچھ کرنا پڑا تھا

ثمینہ کے نیورولوجسٹ کو امید تھی کہ ہسپتال سے گھر منتقل کرنے سے ان کی یادداشت آہستہ آہستہ واپس آنا شروع ہو جائے گی لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس۔ انھیں اپنا گھر بھی اجنبی سا محسوس ہوا۔

انھوں نے بی بی سی کے پروگرام آؤٹ لک کو بتایا کہ ’سب کچھ محض ایک شور جیسا تھا اور دنیا بہت تاریک لگنے لگی تھی۔‘

’ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ میرے دماغ کو سکڑ کر اپنی معمول کی جسامت میں واپس آنے میں ایک سال سے زیادہ وقت لگے گا جس کی وجہ سے مجھے شدید سر درد رہتا تھا۔ مجھ میں بالکل ہمت نہیں تھی اور چیزوں کو سمجھنے کی صلاحیت بھی بہت کم ہو گئی تھی۔ میرے دماغ میں جیسے ہر چیز خاموش سی ہو گئی تھی۔ میں ایک ایسے جسم کے اندر تھی جسے میں پہچانتی ہی نہیں تھی۔‘

تقریباً چھ ہفتے بعد ثمینہ کا دماغ آخرکار یہ سمجھنے کے قابل ہوا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا تھا اور انھوں نے کیا کچھ کھویا۔ اچانک ایک شادی کی تصویر جسے وہ بےشمار بار دیکھ چکی تھیں مگر پہچان نہیں پاتی تھیں ان کے لیے معنی خیز بن گئی۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’سب کچھ ایک لمحے میں واپس آ گیا۔ مجھے سکون تو ملا کہ میں بالآخر اپنی زندگی اور اپنے گھر کو پہچاننے لگی تھی لیکن اس کا مطلب یہ بھی تھا کہ مجھے پوری طرح احساس ہو گیا تھا کہ میں نے کیا کچھ کھویا اور مجھے اپنے جسم پر غصہ آنے لگا۔ مجھے ایسا لگا جیسے میرے جسم نے میرے ساتھ دھوکہ کیا ہو۔‘

انھوں نے آؤٹ لک کو بتایا کہ ’یہ گویا دوبارہ جنم لینے جیسا تھا۔ سکاٹ محسوس کر رہے تھے کہ میری بحالی کا عمل آہستہ آہستہ انھیں مجھ سے دور لے جا رہا ہے۔‘

وہ ایک ناول بھی لکھ رہی تھیں۔ ان کے ڈاکٹر نے خبردار کیا کہ وہ وہیں سے دوبارہ لکھنا شروع نہیں کر سکتیں جہاں انھوں نے کام چھوڑا تھا۔

ثمینہ کے لیے ہر صبح اپنا کام شروع کرنا بھی انتہائی تکلیف دہ تھا کیونکہ وہ کمپیوٹر سکرین پر موجود اپنی ہی تحریر سمجھ نہیں پاتی تھیں۔ ان کا دماغ انھیں دھوکا دے رہا تھا لیکن اس کے باوجود ثمینہ نے ہار ماننے سے انکار کر دیا۔

Samina Ali looks up and laughs, as her baby son, Ishmael, in her arms, looks up at her face.
Samina Ali
ثمینہ کو لگتا ہے کہ ان کے بیٹے اسماعیل اور انھوں نے زندگی کی ابتدائی چیزیں ایک ساتھ سیکھیں اور یہی وجہ ہے کہ آج ان دونوں کے درمیان رشتہ اتنا مضبوط ہے

وہ آؤٹ لک کو بتاتی ہیں کہ وہ اس پر کام کرتی رہیں کیونکہ ان کی نظر میں یہی ان کی بقا کا ذریعہ تھا۔

’میں نے یہ سیکھا کہ حوصلے کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ مکا کھا کر گرتے ہیں اور فرش پر پڑے ہوتے ہیں، اور پھر اسی فرش پر پڑے پڑے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہمیں دوبارہ اٹھ کھڑا ہونا ہے۔‘

پانچ سال بعد ثمینہ کا انعام یافتہ ناول ’مدراس آن رینی ڈیز‘ شائع ہوا۔ اس کتاب کی اشاعت ثمینہ کے لیے صحت یابی اور اپنے تجربے کو سمجھنے کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ ایک اور اہم سنگ میل ان کے لیے اپنے بیٹے اسماعیل کے ساتھ تعلق کو سمجھنا تھا۔

انھوں نے بی بی سی آؤٹ لُک کو بتایا کہ ’جب میری زندگی کی یادیں واپس آئیں تو مجھے یاد ہے کہ میں نے اس کے ساتھ ایک بہت گہرا تعلق محسوس کیا کیونکہ جب وہ بےربط آوازیں نکالتا اور بولنے کی کوشش کرتا تو میں سمجھ سکتی تھی کہ یہ کتنا مشکل ہوتا ہے اور جب وہ کھڑا ہوتا اور پھر گرتا تو میں سمجھ سکتی تھی۔ میں اس مقام سے جہاں میں اس سے ناراضی محسوس کرتی تھی۔۔۔ اس مقام تک پہنچ گئی جہاں مجھے اس کے ساتھ گہرا تعلق محسوس ہونے لگا اور اب بھی ہم ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔‘

اب اس سارے واقعے کر تقریباً 30 سال گزر چکے ہیں اور اسماعیل کی پیدائش کے 10 سال بعد پیدا ہونے والی ایک بیٹی بھی ان کے خاندان کا حصہ ہے۔ یہ کہنا بجا ہو گا کہ ثمینہ واقعی دوبارہ اٹھ کھڑی ہوئیں اور پھر ڈٹی رہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US