وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے سرکاری اداروں (سی سی او ایس او ایز) کا اجلاس وزارتِ خزانہ میں منعقد ہوا، جس میں مختلف سرکاری اداروں سے متعلق اہم امور اور تجاویز پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں وزارتِ پیٹرولیم کی جانب سے پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور سیندک میٹلز لمیٹڈ (ایس ایم ایل) کے بورڈ آف ڈائریکرز کی تشکیل سے متعلق سمریوں کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری اداروں کے بورڈز کی تشکیل شفاف طرزِ حکمرانی کے اصولوں اور سرکاری اداروں (ملکیت و انتظام) ایکٹ اور پالیسی کے مطابق ہونی چاہیے، جبکہ ہر بورڈ میں متعلقہ وزارت یا ڈویژن کی نمائندگی صرف ایک ایکس آفیشیو ڈائریکٹر تک محدود رکھی جائے۔
اجلاس میں وزارتِ پیٹرولیم کی جانب سے توانائی کے شعبے کے بعض سرکاری اداروں کو بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ معیارات (آئی ایف آر ایس-14 اور آئی ایف آر ایس-9) سے استثنا دینے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔ کمیٹی نے اس معاملے پر مزید مشاورت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے تجویز مؤخر کر دی اور وزارتِ پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ وہ وزارتِ خزانہ اور وزارتِ قانون و انصاف سے مشاورت کے بعد نظرثانی شدہ سمری دوبارہ پیش کرے۔
کمیٹی نے وزارتِ بحری امور کی سمری کی منظوری دیتے ہوئے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے بورڈ میں خالی نشست پر ایک آزاد ڈائریکٹر کی تقرری کی بھی منظوری دے دی۔
علاوہ ازیں، وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کی درجہ بندی سے متعلق سمری پر غور کیا گیا۔ کمیٹی نے سمیڈا کی قانونی اور غیر تجارتی حیثیت کے پیش نظر اسے سرکاری اداروں کی فہرست سے خارج کرنے کی منظوری دے دی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے ورچوئل شرکت کی، جبکہ متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے وفاقی سیکریٹریز اور اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔