اسلام آباد کے مضافات میں محبت، فن اور عقیدت کی منفرد داستان — ”ثوبیہ محل“

image

وفاقی دارالحکومت کے مضافاتی علاقے پنڈ میرا بیگوال میں واقع ”ثوبیہ محل“ محض ایک شاندار حویلی نہیں بلکہ محبت، فنِ تعمیر، ثقافت اور روحانیت کی ایک منفرد علامت بن چکا ہے۔ یہاں ڈراموں، فلموں اور مختلف ٹی وی پروڈکشنز کی شوٹنگز بھی ہوتی ہیں، جبکہ ملک بھر سے آنے والے سیاح اس منفرد مقام کو دیکھنے کے لیے رخ کرتے ہیں۔

ثوبیہ محل کے بانی اور روحِ رواں زاہد پرویز بٹ بتاتے ہیں کہ اس محل کی تعمیر کا آغاز 1980ء میں کیا گیا تھا اور آج بھی اس کی تزئین و آرائش اور توسیع کا کام جاری ہے۔ ان کے مطابق یہ محل انہوں نے اپنی اہلیہ “ثوبیہ” سے محبت کے اظہار کے طور پر تعمیر کرایا۔

زاہد پرویز بٹ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی ازدواجی زندگی کے 48 برس اپنی اہلیہ کے ساتھ گزارے اور ہمیشہ انہیں وفادار، محبت کرنے والی اور مخلص شریکِ حیات پایا۔ انہی خوبیوں کے اعتراف میں انہوں نے اس محل کو اپنی اہلیہ کے نام سے منسوب کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی شادی اپنی تایا زاد سے ہوئی، دونوں کا تعلق بٹ خاندان سے ہے اور ان کا آبائی تعلق لاہور کے علاقے گوالمنڈی سے ہے۔ بعدازاں خاندان نے اسلام آباد ہجرت کی، جہاں میلوڈی مارکیٹ میں ان کے والد نے ایک چھوٹی سی دکان سے کاروبار کا آغاز کیا۔ بعد میں زاہد پرویز بٹ نے نوادرات (اینٹیکس) کا کاروبار شروع کیا، جس میں اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر معمولی کامیابی عطا کی۔

وہ بتاتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں مالی وسعت عطا کی تو انہوں نے اپنی اہلیہ کو ترازو میں بٹھا کر ان کے وزن کے برابر چاندی تولی اور وہ تمام چاندی مستحقین میں تقسیم کردی۔ ان کے بقول اسی کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے رزق میں بے پناہ برکت عطا فرمائی اور کاروبار مسلسل ترقی کرتا گیا۔

زاہد پرویز بٹ کے مطابق ان کے پانچ بچے ہیں، جن میں سے ایک بیٹی انتقال کرچکی ہے، دو بیٹیاں بیرونِ ملک مقیم ہیں، ایک بیٹا پاکستان میں ان کے ساتھ رہتا ہے جبکہ ایک بیٹا امریکا میں مقیم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں پاکستان کے علاوہ امریکا، کینیڈا اور دیگر ممالک میں بھی رہائش گاہیں عطا کی ہیں۔

ثوبیہ محل میں دو منفرد گیلریاں قائم کی گئی ہیں۔ ایک گیلری اللہ تعالیٰ کے اسمائے مبارکہ سے منسوب ہے جبکہ دوسری خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نسبت سے قائم کی گئی ہے۔ ان گیلریوں میں قرآنِ مجید کے نادر نسخے، قدیم نوادرات، پتھر اور ایسی اشیاء محفوظ کی گئی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ اور حضور اکرم ﷺ کے اسمائے مبارکہ درج ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دنیا کے مختلف ممالک سے نادر اور تاریخی نوادرات جمع کرنا ان کا شوق ہے۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے ایک میوزیم بھی قائم کیا ہے، جہاں مختلف ادوار کی قیمتی اور نایاب اشیاء، مجسمے اور تاریخی نوادرات محفوظ کیے گئے ہیں۔

زاہد پرویز بٹ کا کہنا ہے کہ زندگی کے اس مرحلے پر ان کی سوچ مزید روحانی ہوچکی ہے۔ ان کے بقول پہلے ان کی محبت اپنی شریکِ حیات سے تھی، مگر اب ان کی تمام تر توجہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضا کے حصول پر مرکوز ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا کی ہر چیز فانی ہے، یہ محل بھی ایک دن باقی نہیں رہے گا، صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں خلقِ خدا کی خدمت کی توفیق بھی عطا کی ہے۔ وہ روزانہ صوبیہ محل کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور شام کے وقت اسلام آباد میں اپنی اہلیہ کے پاس واپس چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے محل کے عملے کو خصوصی ہدایات دے رکھی ہیں کہ آنے والے ہر مہمان کی عزت و تکریم کی جائے اور کوئی ضرورت مند یا سائل خالی ہاتھ واپس نہ جائے۔

ثوبیہ محل میں مختلف اقسام کے جانور بھی رکھے گئے ہیں جبکہ نایاب تاریخی نوادرات، فن پارے اور دیگر قیمتی اشیاء اس مقام کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔

اپنے پیغام میں زاہد پرویز بٹ نے کہا کہ انہوں نے غربت کے دن بھی دیکھے اور خوشحالی بھی، لیکن ان کے نزدیک کامیابی کا اصل راز اللہ تعالیٰ پر کامل یقین، دوسروں کی مدد اور آسانیاں بانٹنے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے رزق کے ایسے دروازے کھول دیتا ہے جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔

آخر میں انہوں نے پاکستانی قوم کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”آسانیاں بانٹیں، اللہ تعالیٰ آپ کے لیے رحمت اور برکت کے دروازے کھول دے گا۔ پاکستان زندہ باد، پاکستان زندہ باد تھا، پاکستان زندہ باد ہے اور پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہے گا۔“


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US