تحریر ۔۔ سید رضوان عالم (سینئر صحافی)
پاکستان کے فری لانسرز نے گھر بیٹھے نئی تاریخ رقم کی ہے۔ ڈیڑھ ارب ڈالر سے زیادہ کی آئی ٹی ایکسپورٹ کرکے فری لانسرز نے سب کو حیران بھی کردیا ہے۔۔ جبکہ پاکستان کی بڑی بڑی کمپنیاں مل کر تین ارب ڈالر کی آئی ٹی برآمدات کرسکی ہیں۔
اس طرح مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات گو کہ پہلی بار 4.60 ارب ڈالر کا ہندسہ چھو گئی ہیں جو آئی ٹی برآمدات کا نیا ریکارڈ ہے تاہم جیسی توقع کی جارہی تھی کہ آئی ٹی برآمدات پانچ ارب ڈالر تک جا پہنچیں گی لیکن یہ ہدف حاصل نہیں ہوسکا ہے ۔ خیر بڑی آئی ٹی کمپنیز کی ایکسپورٹ اس وقت ہمارا موضوع نہیں ہے اس پر انشاء اللہ آئندہ کسی موقع پر تفصیل سے اپنے قارئین کیلئے لکھیں گے۔
اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں ۔۔ شاید بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہوں کہ سال دو ہزار بیس تک پاکستان کے فری لانسرز ڈالرز کمانے کے حوالے سے اپنی کوئی پہچان ہی نہیں رکھتے تھے۔۔ پانچ سال قبل 2021-22 میں پہلی بار فری لانسرز نے 39 کروڑ ڈالرز کمائے تو ان کا بھی خبروں میں ذکر ہوا اور پھر ہمارے ان نوجوان ہیروز نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔صرف پانچ سال میں 39 کروڑ ڈالر سے فری لانسرز کی آئی ٹی ایکسپورٹ حال ہی میں ختم ہونے والے مالی سال 2025-26 میں ایک ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کا سنگ میل عبور کرگئی ہیں۔ راقم سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے بانی چیئرمین ابراہیم امین نے کا کہنا تھا کہ اگر حکومت ہماری مشکلات اور رکاوٹوں کو دور کردے تو ہم آئندہ چار سال میں 2030 تک فری لانسرز کی آئی ایکسپورٹ کو 10 ارب ڈالر تک لے جا سکتے ہیں۔
یہ کہنا بھی غلط نا ہوگا کہ پاکستان کے فری لانسرز نے سب کو حیران کردیا ہے۔۔
گھر بیٹھے ایک سال میں ڈیڑھ ارب ڈالر سے زیادہ کی آئی ٹی برآمدات کرنا کوئی مذاق نہیں ہے یہ اس کے باوجود کہ اس راہ میں فری لانسرز کو نہ حکومتی سرپرستی حاصل ہے اور ان کے کام میں کئی طرح کی رکاوٹیں اور دشواریاں بھی ہیں جبکہ حکومتی سپورٹ اور انٹرنیشنل ایکسپوجر رکھنے والی پاکستان کی بڑی بڑی آئی ٹی کمپنیاں مل کر بھی تین ارب ڈالر کی برآمدات کرسکی ہیں۔
ابراہیم امین کے مطابق فری لانسرز کے کمائے گئے ڈالرز پاکستان لانے کا کوئی پراپر انتظام نہیں ہے یعنی پاکستان میں بینکوں یا کسی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا اپنا پیمنٹ گیٹ وے سسٹم نہیں ہے۔۔ اس کے لئے زیادہ تر پے نیئر نامی امریکی پیمنٹ پلیٹ فارم پر انحصار کیا جاتا ہے جو نا صرف ڈالرز منتقل کرنے کے من مانے چارجز لے رہا ہے بلکہ اس میں کئی بار اضافہ بھی کرچکا ہے۔آپ یہ جان کر بھی حیران ہوں گے کہ فری لانسرز کی ہر ٹرانزیکشن پر 35 ڈالر کٹ جاتے ہیں اب اگر وہ 100 ڈالر کمائے تو اس کے اکائونٹ میں 65 ڈالر گرتے ہیں تاہم اگر بڑی ٹرانزیکشن ہو تو تب بھی ڈالرز منتقلی کے 35 ڈالر ہی کٹتے ہیں۔۔اسٹیک ہولڈرز کا ماننا ہے کہ حکومت فری لانسرز کی حوصلہ افزائی، سرپرستی اور انہیں ریکگنائیز کرے تو بہت بہتر نتائج سامنے آئیں گے یہ بچے بچیاں قوم کے ہیرو ہیں جنھیں ہمیں بھرپور کریڈٹ دینا ہوگا۔
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ دنیا میں فری لانسرز ایوریجن20 ڈالر فی گھنٹہ کماتے ہیں جبکہ پاکستان میں فری لانسرز 5 ڈالر فی گھنٹہ کما رہے ہیں۔۔ بیرون ملک مختلف اداروں اور افراد سے بہتر ڈیل کیلئے حکومت آئی ٹی کمپنیز ، نیوٹیک، اگنائیٹ ، فری لانسرز کی نمائندہ تنظیم اور وزارت آئی ٹی کو کندھے سے کندھا ملا کر " سیم پیج " پر آنا ہوگا۔