کیا واقعی آپ کے گھر پر زبردستی موبائل ٹاور لگ جائے گا؟ پروپیگنڈا اور حقیقت کا موازنہ

image

سوشل میڈیا پر گزشتہ چند دنوں سے "پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026" (رائٹ آف وے بل) کے خلاف ایک شدید اور منظم پروپیگنڈا مہم جاری ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حکومت ایک ایسا ظالمانہ قانون لا رہی ہے جس کے تحت انٹرنیٹ اور ٹیلی کام کمپنیاں کسی بھی شہری کے مکان یا زمین پر زبردستی ٹاور نصب کردیں گی اور اگر کسی نے روکا تو اسے 5 کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔

اصل حقیقت کیا ہے؟ یہ بل آپ کے گھر پر زبردستی قبضے کے لیے نہیں، بلکہ پاکستان میں فائیو جی (5G) اور تیز ترین انٹرنیٹ کی راہ میں حائل "سرکاری اداروں اور بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی بلیک میلنگ" کو ختم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ آئیے بغیر کسی سنسنی خیزی کے اس قانون کے اصل حقائق کو سمجھتے ہیں۔

پروپیگنڈا کیا ہے اور سچ کیا ہے؟ (مجموعی موازنہ)

افواہ نمبر 1: کمپنیاں کسی بھی شہری کی چھت یا زمین پر زبردستی سگنل ٹاور یا انٹرنیٹ کیبل لگا دیں گی۔ سچائی: انفرادی نجی املاک کا تحفظ آئین کے تحت برقرار ہے۔ مالکِ مکان کی تحریری اجازت اور باہمی طے شدہ کرائے/معاوضے کے بغیر کوئی کمپنی آپ کی حدود میں داخل نہیں ہوسکتی۔

افواہ نمبر 2: ٹاور یا تار لگانے سے روکنے پر عام شہری کو 5 کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔ سچائی: یہ جرمانہ عام شہریوں کے لیے نہیں، بلکہ ان بیوروکریٹس، سرکاری محکموں یا ہاؤسنگ سوسائٹیز کے عہدیداروں کے لیے ہے جو رشوت یا اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے انٹرنیٹ کا جائز کام روکتے ہیں۔

افواہ نمبر 3: حکومت نجی زمینوں کو ہڑپ کرنا چاہتی ہے۔ سچائی: قانون کا اصل مقصد سرکاری راستوں (سڑکوں، پلوں) اور بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں کمپنیوں کو تار بچھانے کے لیے آسان رسائی دینا ہے۔

2۔ بل کے 3 بنیادی قانونی نکات (سیکشن 27A)

سرکاری راستے (Public Access): سڑکوں اور سرکاری عمارتوں پر انٹرنیٹ کیبل بچھانے کے لیے اگر کوئی محکمہ 30 دن میں جواب نہیں دے گا، تو اسے خودبخود منظور شدہ (Deemed Approved) مانا جائے گا تاکہ بیوروکریسی کام نہ لٹکا سکے۔

ہاؤسنگ سوسائٹیز کا گھیراؤ: اکثر بڑی سوسائٹیز کسی ایک من پسند انٹرنیٹ کمپنی سے بھاری فنڈز لے کر دیگر کمپنیوں کو انٹرنیٹ بچھانے کی اجازت نہیں دیتیں، جس سے عوام کو مہنگا اور خراب انٹرنیٹ ملتا ہے۔ نیا قانون اس اجارہ داری اور ناجائز فیسوں کو ختم کرتا ہے۔

عام شہری کے حقوق: کسی بھی شہری کی ذاتی جگہ استعمال کرنے کے لیے کمپنی رجسٹرڈ نوٹس بھیجے گی۔ اگر مالک متفق نہ ہو، تو معاملہ زبردستی حل کرنے کے بجائے حکومتی ثالثی افسر کے پاس جائے گا جو دونوں فریقین کی رضامندی سے معاوضہ طے کرائے گا۔

3۔ بھاری جرمانے اور 45 دن کی مہلت (سیکشن 27B)

اگر کوئی سوسائٹی انتظامیہ یا مافیا قانونی طور پر منظور شدہ انٹرنیٹ لائن کو کاٹے گا یا کام روکے گا، تو حکومت اس پر 5 کروڑ روپے تک کا جرمانہ کر سکے گی۔ مزید برآں، کسی بھی تنازع کی صورت میں حکومت کا مقرر کردہ اعلیٰ افسر زیادہ سے زیادہ 45 دنوں کے اندر فیصلہ سنانے کا پابند ہوگا تاکہ عدالتی چکروں میں ملک کی ڈیجیٹل ترقی نہ رک سکے۔

حاصل کلام: عام عوام کا فائدہ یا نقصان؟

یہ بل پاکستان میں فائیو جی (5G) نیٹ ورک لانے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی افواہیں محض سنسنی خیزی اور ویوز (Views) حاصل کرنے پر مبنی ہیں۔ سینیٹ اس وقت پبلک پارکوں اور گرین بیلٹس میں ٹاورز کی تنصیب کو محدود کرنے کے لیے بل میں مزید عوامی بہتری لا رہی ہے۔ نجی شہریوں کو اس بل سے کوئی خطرہ نہیں، بلکہ اس کے نفاذ سے ملک بھر میں انٹرنیٹ سستا، تیز رفتار اور باآسانی دستیاب ہوگا۔

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US