زندگی کا ایک تلخ تجربہ انسان کی کامیابی کی بنیاد بن گیا۔ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی نوجوان خاتون رحمین نے اپنی بڑی بہن کی شادی کی ناقص ویڈیو گرافی سے مایوس ہونے کے بعد خود فوٹوگرافی سیکھنے کا عزم کیا اور آج وہ ایک کامیاب پیشہ ور فوٹوگرافر بن چکی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق رحمین کے خاندان میں چار بہنیں ہیں اور کوئی بھائی نہیں ہے۔ بڑی بہن کی شادی کے موقع پر ایک پیشہ ور فوٹوگرافر کی جانب سے مہندی، بارات اور ولیمے کی ویڈیوز انتہائی خراب بنانے پر پورا خاندان شدید مایوس ہوا۔ اس واقعے کو رحمین نے ایک چیلنج کے طور پر لیا اور خود فوٹوگرافی اور ویڈیو گرافی سیکھنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے ابتدا میں محلے کے ایک مقامی فوٹوگرافر سے بنیادی تربیت حاصل کی اور بعد ازاں یوٹیوب، مصنوعی ذہانت (AI) اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مدد سے تقریباً ڈیڑھ سال کی مسلسل محنت کے بعد اس شعبے میں مہارت حاصل کر لی۔
اپنے سفر کے آغاز کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ مہارت حاصل کرنے کے بعد پہلا کام ملنا سب سے بڑا چیلنج تھا۔ سوشل میڈیا پر تشہیر کے بعد انہیں سالگرہ کی ایک تقریب کا پہلا کام ملا جس کا معاوضہ پانچ ہزار روپے تھا۔ یہیں سے ان کے پیشہ ورانہ سفر کا باقاعدہ آغاز ہوا اور آہستہ آہستہ ان کا کام لوگوں میں مقبول ہو گیا۔
بی اے پاس رحمین نے اپنے والد کا سہارا بننے اور گھر کے اخراجات میں ہاتھ بٹانے کے لیے اسی شعبے کو اپنا مستقل پیشہ بنا لیا ہے۔ ان کی دو بڑی بہنیں شادی کے بعد دبئی میں مقیم ہیں جبکہ ایک چھوٹی بہن ابھی زیرِ تعلیم ہے۔
رحمین نے نوجوان لڑکیوں کو پیغام دیا ہے کہ وہ گھروں میں بیٹھ کر وقت ضائع کرنے کے بجائے پردے اور اسلامی حدود و قیود کا خیال رکھتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں اور معاشی طور پر خودمختار بنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اللہ کے فضل سے اب پوری طرح خودمختار ہیں اور ہر لڑکی کو مسلسل محنت پر یقین رکھنا چاہیے کیونکہ محنت ہی کامیابی کا واحد راستہ ہے۔