تحریر: محمد واحد
2020 میں پاکستان میں متعارف کرایا گیا روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (RDA) ملک کے مالیاتی نظام کے لیے انقلابی اقدام ثابت ہوا، جس کے ذریعے پہلی مرتبہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں (NRPs) کو کسی مقامی بینک برانچ کا رخ کیے بغیر ملک میں اپنا آن لائن بینک اکاؤنٹ کھولنے اور اُسے آپریٹ کرنے کی سہولت فراہم کی گئی۔ اس اقدام نے بینکاری خدمات تک رسائی کو نئی شکل دی اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کو سہولت فراہم کی کہ وہ عالمی ڈیجیٹل بینکاری معیارات کے مطابق سہولت اور اعتماد کے ساتھ وطن عزیز میں مالی امور انجام دے سکیں۔
گزشتہ چند برسوں میں اس اقدام نے بھرپور پذیرائی حاصل کی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق جون 2025 تک روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 10.56 ارب امریکی ڈالرز کی ترسیلات ہوئیں، جو بیرون ملک پاکستانیوں کے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔ مالی سال 2025 تک روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی تعداد بڑھ کر 831,963 تک پہنچ گئی۔ اور ایک سال میں 119,000 سے زائد نئے اکاؤنٹس کا اضافہ ہوا۔ اگرچہ جون 2025 میں عارضی طور پر 9 فیصد کمی دیکھی گئی، تاہم اس کے باوجود آر ڈی اے ترسیلات میں سال بہ سال 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو پاکستان کے مالیاتی نظام پر اعتماد کا ثبوت ہے۔
اس کامیابی میں فیصل بینک لمیٹڈ ایک اہم شراکت دار ہے، خاص طور پر اپنی شریعہ کمپلائنٹ پیشکش فیصل اسلامی کے ذریعے۔ ایف بی ایل نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں کرنٹ اکاؤنٹس کو قرض کے اصول پر جبکہ سیونگ اکاؤنٹس کو مضاربہ کے اصولوں پر تشکیل دیا، تاکہ اُن صارفین کی ضروریات پوری کی جاسکیں جو اسلامی مالیاتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔
فیصل بینک کا ڈیجیٹل آن بورڈنگ فریم ورک بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو متعدد کرنسیوں میں اکاؤنٹس کھولنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جن میں PKR، USD، GBP، EUR، SAR، AED، CAD اور CNY شامل ہیں، جو اسے عالمی ڈیجیٹل بینکاری پلیٹ فارمز کے ہم پلہ بناتا ہے۔ بینک کا فیصل DigiBank اَیپ صارفین کو رقوم کی منتقلی، بلوں کی ادائیگی، سرمایہ کاری کی سبسکرپشنز، اور ریپٹری ایشن (repatriation) ٹرانزیکشنز کو آسان، محفوظ اور موثر انداز میں منظم کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس طرح فیصل بینک نہ صرف روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ نظام کا ایک فعال حصہ ہے بلکہ بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے اسلامی بینکاری کی ڈیجیٹل خدمات کو تشکیل دینے میں قائدانہ کردار بھی ادا کررہا ہے۔
پرسنل بینکنگ سے آگے بڑھتے ہوئے بینک نے روشن بزنس ویلیو اکاؤنٹ کے ذریعے بیرون ملک کاروباری افراد کے لیے رسائی بڑھائی ہے، جو اُن چند ڈیجیٹل کاروباری حل میں سے ایک ہے جو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں (NRPs) یا پاکستان اوریجن کارڈ (POC) ہولڈرز کی اکثریتی ملکیت کمپنیوں کے لیے دستیاب ہے۔ یہ اکاؤنٹس سرحد پار ادائیگیوں، کاروباری سرگرمیوں کے لیے فنڈنگ اور مقامی لین دین کو مکمل طور پر آن لائن بناتے ہیں، جس سے بیرونِ ملک پاکستانیوں کی قیادت میں چلنے والے کاروبار بغیر فزیکل موجودگی کے اپنے آپریشنز کو موثر انداز میں وسعت دے سکتے ہیں۔
فیصل بینک نے اپنی شریعہ کمپلائنٹ فنانسنگ سلوشنز کو روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سسٹم میں شامل کیا ہے۔ روشن اپنا گھر اور روشن اپنی کار جیسے اقدامات ڈِمنشنگ مشارکہ کے تحت ہوم اور آٹو فنانسنگ کی سہولت فراہم کرتے ہیں، جس کے ذریعے بیرون ملک مقیم NRPs پاکستان میں ڈیجیٹل طور پر جائیداد اور گاڑی خرید سکتے ہیں۔ صارفین اسلامی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس (INPCs) میں بھی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، جس میں جنوری 2025 تک عالمی سطح پر مجموعی طور پر 799 ملین امریکی ڈالرز کی سرمایہ کاری ہوئی، جو شریعہ کمپلائنٹ سرمایہ کاری کے ذرائع پر بیرون ملک پاکستانیوں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
عطیات اس نظام کا ایک اہم پہلو ہیں۔ ایس بی پی کے روشن سماجی خدمت پلیٹ فارم کے ذریعے فیصل بینک کے صارفین دنیا کے کسی بھی حصے سے رجسٹرڈ پاکستانی فلاحی اداروں کو عطیات اور زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ طویل المدتی مالی منصوبہ بندی کے لیے روشن پنشن پلان بھی موجود ہیں، جو بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے مالی تحفظ اور مستقبل کی مالی تیاری کے حوالے سے بینک کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ یعنی روزمرہ لین دین سے لے کر ریٹائرمنٹ پلاننگ تک جامع مالی سہولت۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کا معاشی اثر نمایاں اور دور رَس ہے۔ مالی سال 2025 کے دوران آر ڈی اے اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 2.308 ارب امریکی ڈالرز جمع ہوئے، جبکہ 1.55 ارب امریکی ڈالرز ملکی معیشت کے مختلف شعبوں میں استعمال کیے گئے۔ جون 2025 تک مجموعی طور پر 1.811 ارب امریکی ڈالرز بیرونِ ملک منتقل کیے گئے، جبکہ اندرون ملک استعمال کی گئی مجموعی رقم 6.762 ارب امریکی ڈالرز ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعداد و شمار بیرون ملک پاکستانیوں کی شمولیت، اعتماد اور شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل بینکاری کے ذریعے پاکستان کی معیشت میں حصہ ڈالنے کے عزم کو اجاگر کرتے ہیں۔
جیسے جیسے پاکستان اپنے ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کو مستحکم بنا رہا ہے، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ پروگرام سرحد پار مالی شمولیت کے لیے ایک قابل تقلید ماڈل کے طور پر مزید ابھر کر سامنے آرہا ہے۔ فیصل بینک جیسے اداروں کی ٹیکنالوجی پر مبنی اور شریعہ کمپلائنٹ سہولتوں کی وجہ سے اب جغرافیائی فاصلے مالی خدمات تک رسائی میں رکاوٹ نہیں رہے۔ آر ڈی اے کا یہ فریم ورک آنے والے برسوں میں ایک ایسے مربوط، بااعتماد اور بااختیار عالمی پاکستانی کمیونٹی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گا، جو ڈیجیٹل بینکاری کے ذریعے وطن عزیز کے ساتھ مالی تعلق کو مزید مستحکم و پائیدار بنانا چاہتے ہیں۔