کیا پراپرٹی سیکٹر کو ریلیف دینے سے عام آدمی کی غربت کم ہوسکتی ہے؟

image

پاکستان میں ایک بار پھر جائیداد اور تعمیرات کا شعبہ حکومتی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں وفاق اور پنجاب حکومت کی جانب سے ایسے کئی فیصلے سامنے آئے ہیں جن کا مقصد بظاہر ہاؤسنگ اور کنسٹرکشن مارکیٹ کو دوبارہ متحرک کرنا ہے۔ کم شرح سود پر گھروں کے قرض، پراپرٹی ٹرانسفر فیس میں کمی، سٹامپ ڈیوٹی کم کرنا اور بعض ٹیکسز ختم کرنے جیسے اقدامات اسی سلسلے کی کڑی سمجھے جا رہے ہیں۔

حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ اگر تعمیراتی شعبہ دوبارہ چل پڑا تو معیشت میں سرگرمی بڑھے گی، روزگار پیدا ہوگا اور کاروبار میں پیسہ گردش کرے گا۔ پاکستان میں تعمیرات سے درجنوں صنعتیں وابستہ ہیں۔ سیمنٹ، سریا، اینٹیں، لکڑی، ٹائلز، پینٹ، الیکٹریکل سامان، ٹرانسپورٹ اور مزدور طبقہ سب اسی شعبے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب نئے گھر بنتے ہیں تو صرف بڑے سرمایہ کار ہی نہیں بلکہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں افراد بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان رعایتوں کا فائدہ واقعی عام شہری تک پہنچے گا؟ ماضی کا تجربہ کچھ مختلف کہانی سناتا ہے۔ پاکستان میں پراپرٹی سیکٹر اکثر رہائشی ضرورت سے زیادہ سرمایہ محفوظ کرنے، منافع کمانے اور غیر دستاویزی رقم رکھنے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ اسی وجہ سے ماضی میں دی گئی کئی سہولتوں سے متوسط طبقے کے بجائے بڑے سرمایہ کاروں اور ہاؤسنگ کمپنیوں نے زیادہ فائدہ اٹھایا۔

حالیہ دنوں میں سب سے زیادہ بحث 7ای ٹیکس کے خاتمے پر ہو رہی ہے۔ یہ ٹیکس ایک سے زیادہ پلاٹس رکھنے والوں پر اضافی بوجھ ڈالتا تھا جس کے بعد بعض علاقوں میں پلاٹس کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ اگرچہ اس کمی کے باوجود بھی جائیداد عام آدمی کی پہنچ سے دور رہی، لیکن کم از کم متوسط طبقے کے لیے کچھ مواقع پیدا ہوئے تھے۔ اب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹیکس ختم ہونے کے بعد دوبارہ قیمتیں اوپر جا سکتی ہیں اور سرمایہ کار ایک بار پھر مارکیٹ پر حاوی ہوسکتے ہیں۔

ایک اور بڑا مسئلہ غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کا ہے۔ ملک بھر میں ہزاروں ایسے منصوبے موجود ہیں جو یا تو مکمل طور پر غیر قانونی ہیں یا ابھی منظوری کے مراحل میں ہیں۔ لوگ زندگی بھر کی جمع پونجی لگا دیتے ہیں لیکن بعد میں زمین، نقشے یا قانونی حیثیت کے مسائل سامنے آ جاتے ہیں۔ اسلام آباد اور پنجاب کے اعدادوشمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جعلی اور غیر منظور شدہ سوسائٹیز اب ایک سنجیدہ معاشی اور سماجی مسئلہ بن چکی ہیں۔

بیرون ملک پاکستانیوں کی دلچسپی بھی زیادہ تر ریئل اسٹیٹ میں دیکھی جاتی ہے۔ حکومت شاید یہی چاہتی ہے کہ بیرون ملک موجود سرمایہ دوبارہ پاکستان آئے تاکہ زرِ مبادلہ میں اضافہ ہو اور معیشت کو کچھ سہارا مل سکے۔ تاہم صرف ٹیکس میں نرمی کافی نہیں ہوتی۔ سرمایہ کاری اسی وقت بڑھتی ہے جب مجموعی معاشی ماحول مستحکم ہو، پالیسیوں میں تسلسل ہو اور بینکوں سے سستے قرض آسانی سے دستیاب ہوں۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بینک نسبتاً زیادہ منافع دے رہے ہیں، اس لیے بہت سے لوگ جائیداد کے بجائے اپنی رقم بینکوں میں رکھنا زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف شرح سود میں حالیہ اضافہ بھی تعمیراتی سرگرمیوں کے لیے اچھی خبر نہیں سمجھا جا رہا۔ اگر حکومت واقعی ہاؤسنگ سیکٹر کو فعال دیکھنا چاہتی ہے تو شفاف قرضہ سکیمیں اور مستقل معاشی پالیسی زیادہ اہم ہوں گی۔

ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں صنعتوں کے مقابلے میں ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کا رجحان بہت بڑھ چکا ہے۔ ماضی میں فیکٹریوں اور پیداواری شعبوں میں زیادہ سرمایہ لگایا جاتا تھا، مگر اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔ اس کا اثر روزگار پر بھی پڑ رہا ہے کیونکہ صنعتی شعبہ زیادہ مستقل ملازمتیں پیدا کرتا ہے، جبکہ پراپرٹی مارکیٹ محدود اور غیر مستقل مواقع فراہم کرتی ہے۔

مہنگائی، بے روزگاری اور کمزور قوتِ خرید نے عام آدمی کی ترجیحات بھی بدل دی ہیں۔ آج بہت سے خاندان گھر خریدنے یا بنانے کے بجائے روزمرہ اخراجات پورے کرنے کی فکر میں ہیں۔ تعمیراتی لاگت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اب ایک عام شہری کے لیے گھر بنانا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ چند سال پہلے جہاں پلاٹ اور تعمیرات کی لاگت تقریباً برابر ہوتی تھی، اب تعمیرات کا خرچہ کئی گنا بڑھ چکا ہے۔

ایسے حالات میں پراپرٹی سیکٹر کو دی جانے والی سہولتیں معیشت میں کچھ حرکت ضرور پیدا کر سکتی ہیں، لیکن اگر اس کے ساتھ صنعت، روزگار، شفاف نگرانی اور عام آدمی کی قوتِ خرید پر توجہ نہ دی گئی تو یہ ریلیف محدود طبقے تک ہی رہ سکتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US