اس حادثے کے نتیجے میں ان کے شوہر کے جسم کا ’آدھا حصہ جہاز سے باہر نکل چکا تھا۔‘ سویتلانا کہتی ہیں کہ ’میں نے فوراً ردعمل دیتے ہوئے ان کی ٹانگیں پکڑ لیں۔
جمعے کے روز رائن ایئر کی پرواز میں کھڑکی ٹوٹنے کے باعث جہاز سے سر کے بل باہر گرنے نے بال بال بچنے والے مسافر کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس وقت اپنے شوہر کی ٹانگوں کو تھام لیا تھا اور اس حادثے کے نتیجے میں ان کے شوہر کے ’جسم کا آدھا حصہ جہاز سے باہر نکل چکا تھا۔‘
سویتلانا گرکووچ جمعے کو اپنے شوہر لیوبیشا کارووچ کے ساتھ یونان کے شہر تھیسالونیکی سے جرمنی کے شہر میمنگن جا رہی تھیں۔ انھوں نے یونان کے سرکاری نشریاتی ادارے ای آر ٹی کو بتایا کہ ان کے شوہر کا جسم ’سینے تک تقریباً دو منٹ تک جہاز کے باہر لٹکا رہا۔‘
سویتلانا کہتی ہیں کہ ’میں نے فوراً ردعمل دیتے ہوئے ان کی ٹانگیں پکڑ لیں۔ میں نے سوچا کہ اگر مرنا ہے تو پھر ساتھ ہی مریں گے۔‘
سویتلانا کا مزید کہنا ہے کہ دیگر دو مسافروں کی مدد سے وہ اپنے شوہر کو دوبارہ جہاز کے اندر کھینچنے میں کامیاب ہوئیں۔ ان کے مطابق ان کے شوہر اس دوران تین مرتبہ بے ہوش ہوئے تھے۔
وہ کہتی ہیں کہ ان کے 61 سالہ شوہر ’شدید زخمی اور ایک صدمے‘ میں ہیں۔
پرواز کے ٹریکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ رائن ایئر کا طیارہ تقریباً 10 منٹ تک فضا میں رہنے کے بعد اچانک 9,000 فٹ (2,700 میٹر) نیچے آ گیا۔ مسافروں کی جانب سے مقامی میڈیا کو بتایا گیا کہ انھوں نے ’ایک دھماکے جیسی‘ آواز سنی۔
سویتلانا نے بتایا کہ ایسا محسوس ہوا جیسے جہاز کے انجن کا کوئی حصہ ٹوٹ کر الگ ہو گیا ہو، جس نے ان کے شوہر کے برابر والی کھڑکی سے ٹکرا کر اسے چکنا چور کر دیا اور اس کے نتیجے میں کیبن کا دباؤ اچانک کم ہو گیا۔
دوسری جانب یونان کے ایک ہسپتال کے عہدیدار نے بتایا کہ سربیا سے تعلق رکھنے والے 61 سالہ شخص کو رگڑ سے ہونے والے زخم آئے ہیں جن کا کا علاج کیا جا رہا ہے۔
میخالیس گیاناکوس نےبتایا کہ مذکورہ مسافر کی اہلیہ تقریباً پانچ منٹ تک ان کی ٹانگوں کو پکڑی رہیں تاکہ ہوا کے دباؤ سے کہیں وہ کھڑکی سے باہر نہ چلے جائیں۔
رائن ایئر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پرواز جمعے کے روز یونان کے شہر تھیسالونیکی سے جرمنی کے میمنگن جا رہی تھی کہ ’اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد واپس آ گئی جب ایک مسافر کے قریب موجود کھڑکی پرواز کے دوران اپنی جگہ سے نکل گئی۔‘
آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی فضائی کمپنی کا کہنا ہے کہ طیارے نے معمول کے مطابق لینڈنگ کی اور مسافر ٹرمینل واپس آ گئے۔ ’ایک مسافر نے تھیسالونیکی میں طبی امداد کی درخواست کی تھی جسے طبی امداد فراہم کی گئی۔‘
کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ مسافروں کو میمنگن پہنچانے کے لیے کچھ گھنٹے بعد ایک متبادل طیارے کا انتظام کیا گیا۔
جہاز میں سوار مسافروں نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اس شخص کا جسم کندھوں تک سر کے بل کھڑکی سے باہر لٹک گیا تھا۔ ان کے مطابق دیگر مسافروں نے اس شخص کو پکڑ کر واپس طیارے کے اندر کھینچا۔
طیارے میں موجود بعض افراد نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کھڑکی جیٹ انجن کے ٹکڑے لگنے سے ٹوٹی تھی۔ تاہم اس بارے میں رائن ایئر نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

اس ہی پرواز میں سوار کرسٹینا نے ریڈیو تھیسالونیکی کو بتایا کہ، ’ہمیں فوراً احساس ہو گیا تھا کہ دباؤ میں کمی واقع ہوئی ہے۔ چیخ و پکار شروع ہو گئی۔۔۔ ایک لمحے کے لیے مجھے لگا کہ شاید کسی نے غلطی سے ایمرجنسی دروازہ کھول دیا ہے۔‘
’ماسک نیچے آ گئے تھے اور ایک تیز بو محسوس ہو رہی تھی۔ ایک مسافر کا سر اور کندھے کھڑکی سے باہر تھے۔ خوش قسمتی سے انھوں نے اپنی سیٹ بیلٹ نہیں کھولی تھی۔‘
صوفیہ نامی ایک اور مسافر نے ریڈیو تھیسالونیکی کو بتایا کہ ’جب آکسیجن ماسک نیچے آئے تو ہمیں کوئی اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ آیا ہم واپس پہنچ بھی سکیں گے۔ ہم طیارے کے پچھلے حصے میں بیٹھے تھے اور ہمیں احساس ہوا کہ کسی قسم کا دھماکا ہوا ہے۔
’ہمیں لگا طیارہ گرنے والا ہے۔ دباؤ میں انتہائی شدید کمی ہو گئی تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم سانس نہیں لے پا رہے۔ زخمی شخص کے خون بہ رہا تھا اور پھر وہ کئی بار بے ہوش ہوا غالباً آکسیجن کی کمی اور صدمے کی وجہ سے۔‘
سرکاری ہسپتالوں کے ملازمین کی فیڈریشن پین ہیلینک کے صدر میخالیس گیاناکوس نے بتایا کہ 61 سالہ سربین شخص کا ہسپتال میں رگڑ سے ہونے والے زخموں کا علاج کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ زخمی ’صدمے میں ہے لیکن ہوش میں ہے۔‘
حادثے کا شکار ہونے والا طیارے کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 18 سال پرانا ہے اور اسے رائن ایئر کی ذیلی کمپنی مالٹا ایئر چلا رہی تھی۔
تھیسالونیکی ہوائی اڈے کے آپریٹر فراپورٹ گریس نے کہا کہ ہیلینک ایئر اینڈ ریل سیفٹی انویسٹیگیشن اتھارٹی اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اتھارٹی تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے اور طیارے کی ہنگامی واپسی کے بعد طے شدہ ہنگامی ردعمل کے طریقہ کار کو فعال کر دیا گیا ہے۔
آئرش ایوی ایشن اتھارٹی (آئی اے اے) نے اس سے قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ انھیں اس واقعے کا علم ہے اور وہ تفتیش کاروں کی ہر قسم کی معاونت کریں گے۔
ریٹائرڈ ایئرلائن پائلٹ کرس بریڈی نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر سیٹ بیلٹ بندھی نہ ہوتی تو یہ واقعہ ’زیادہ سنگین ہو سکتا تھا۔‘
کرس بریڈی کہتے ہیں کہ طایرے کے کپتان ہمیشہ مسافروں سے کہتے ہیں وہ احتیاطی تدبیر کے طور پر پرواز کے دوران اپنی سیٹ بیلٹ بندھی رکھیں حتیٰ کہ سیٹ بیلٹ کے اشارے بند ہونے کے بعد بھی۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ مشورہ اس ہی طرح کے واقعات یا ہوا کے دباؤ اچانک کمی کے باعث جہاز کو لگنے والے جھٹکوں کو پیشِ نظر رکھ کر دیا جاتا ہے۔ ’اس لیے اپنی سیٹ بیلٹ بندھے رکھنا ایک اچھی عادت ہے۔‘
2018 میں امریکہ میں ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز کی ایک پرواز کے دوران ایک انجن کے ملبے سے ایک کھڑکی ٹوٹ گئی تھی جس کے نتیجے میں ایک خاتون مسافر جزوی طور پر باہر کی طرف کھنچ گئی تھیں اور ان کی موت ہو گئی تھی۔