سینیٹ کمیٹی کا اہم اجلاس، نجی اسکولوں میں غریب طلبہ کو مفت تعلیم کی فراہمی ودیگر امور کا جائزہ

image

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ڈگریوں کی تصدیق، سرقہ (پلیجرزم) پالیسی، کیمبرج امتحانات میں مبینہ پیپر لیک اور نجی تعلیمی اداروں میں غریب طلبہ کو مفت تعلیم کی فراہمی سمیت اہم تعلیمی امور کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پمزاٹ، یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیا لاہور اور نائس کراچی کے غیر مجاز کیمپسز کے طلبہ کی ڈگریوں کی تصدیق سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ تقریباً 6 ہزار طلبہ میں سے 4 ہزار 383 طلبہ کے کیسز ڈگریوں کی تصدیق کے لیے منظور کر لیے گئے ہیں، جبکہ اس مقصد کے لیے آن لائن سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں آن لائن نظام کے ذریعے تصدیق شدہ ڈگریوں کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔

کمیٹی نے الخیر یونیورسٹی کی ڈگریوں کی طویل عرصے سے زیر التوا تصدیق کا معاملہ بھی زیر غور لایا۔ ایچ ای سی نے بتایا کہ ڈگریوں کی تصدیق سے قبل طلبہ کا امتحان لینے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم یہ امتحان اب تک منعقد نہیں ہوسکا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ گلوبل یونیورسٹی لاہور کے کیس کی طرز پر اس مسئلے کا حل نکالا جائے اور 10 سے 15 روز میں جامع رپورٹ پیش کی جائے۔

چیئرپرسن سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے اس معاملے میں ایچ ای سی کی طویل تاخیر پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی سال بعد طلبہ کو دوبارہ امتحان دینے کا کہنا غیرمنصفانہ ہوگا، اس لیے متاثرہ طلبہ کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد اور منصفانہ فیصلہ کیا جائے۔

اجلاس میں ایچ ای سی نے اپنی سرقہ (پلیجرزم) پالیسی پر بھی بریفنگ دی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مختلف مضامین میں قابل قبول سرقے کی شرح مختلف ہوتی ہے، تاہم زیادہ سے زیادہ حد 19 فیصد مقرر ہے، جبکہ تحقیقی مقالات کی جانچ کے لیے ٹرن اٹ اِن (Turnitin) سافٹ ویئر استعمال کیا جاتا ہے۔

انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمین (آئی بی سی سی) نے کیمبرج اے لیول امتحانات میں مبینہ پیپر لیک کے معاملے پر بھی بریفنگ دی۔ متاثرہ طلبہ نے کمیٹی کے سامنے اپنے تحفظات پیش کیے، جبکہ آئی بی سی سی نے بتایا کہ دستیاب شواہد کیمبرج اسیسمنٹ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو تحقیقات کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔

چیئرپرسن سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے معاملے کو فوری طور پر نمٹانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تحقیقات کا عمل تیز کیا جائے اور 21 جولائی 2026 سے قبل اس مسئلے کا حل یقینی بنایا جائے تاکہ طلبہ کا تعلیمی سال متاثر نہ ہو۔

کمیٹی کی سفارش پر نابینا طلبہ کو امتحانات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے رائٹرز (لکھنے والے معاونین) کا ایک پینل بھی تشکیل دیا گیا، جسے کمیٹی اراکین اور نابینا شرکاء نے خوش آئند اقدام قرار دیا۔

اجلاس میں نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن اور بنیادی سہولیات کے معیار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر سید مسرور احسن نے سوال اٹھایا کہ آیا تمام نجی اسکولوں میں کھیل کے میدان، لائبریریاں اور لیبارٹریاں موجود ہیں یا نہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ متعدد نجی اسکولوں میں یہ بنیادی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔

چیئرپرسن نے کہا کہ بہت سے نجی اسکول رہائشی گھروں میں قائم ہیں اور بھاری فیسیں وصول کرنے کے باوجود طلبہ کو مناسب تعلیمی اور تفریحی سہولیات فراہم نہیں کر رہے، لہٰذا رجسٹریشن کے موجودہ معیار پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

اجلاس میں نجی اسکولوں میں 10 فیصد مستحق طلبہ کو مفت تعلیم فراہم کرنے کی حکومتی پالیسی پر بھی غور کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجی اسکولوں کی تنظیم نے اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا، جہاں عمل درآمد عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

چیئرپرسن سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نجی تعلیمی ادارے اپنی قانونی اور سماجی ذمہ داری پوری کرنے سے گریزاں ہیں، جبکہ پاکستان برسوں سے اسکول سے باہر بچوں کے مسئلے سے دوچار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مستحق بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے تاکہ ہر بچے کو معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہوسکے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US