امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید شدید فوجی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا پیر کی رات اور منگل کو ایران پر بھرپور حملے کرے گا۔
ریڈیو میزبان ہیو ہیوٹ سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے لیے پیش کی گئی مفاہمتی یادداشت ایک امتحان تھی، تاہم تہران نے اس کی پاسداری نہیں کی اسی لیے امریکا وسطی ایران کے کوہ کولانگ گاز لا کے علاقے کو نشانہ بنانے جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ قریبی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہیں، اگرچہ بعض معاملات پر اختلاف بھی ہوتا ہے، جس سے وہ نیتن یاہو کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔
بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج تیزی سے ایرانی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کر رہی ہیں اور آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کی عسکری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج رات بھی ایران پر حملے کیے جائیں گے تاہم معاہدے کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کی ناکہ بندی براہِ راست بمباری سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں جن ممالک کے تحفظ میں امریکا کردار ادا کر رہا ہے، انہیں اس کے اخراجات بھی برداشت کرنا ہوں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی اور وہاں سے گزرنے والے تمام کارگو پر 20 فیصد فیس عائد کرنے کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندیاں صرف ایرانی بحری جہازوں اور ان سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں پر لاگو ہوں گی جبکہ دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے استعمال کی مکمل آزادی حاصل رہے گی۔