خیال رہے کہ یہ نوٹس سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک انٹرویو کے کلپ کے بعد جاری کیا گیا ہے، جس میں انھوں نے مبینہ طور پر پاکستانی فوج اور ’معرکہِ حق‘، انڈیا کے وزیراعظم مودی، امریکی صدر ٹرمپ اور ابراہم اکارڈ سے متعلق متنازع گفتگو کی تھی۔
پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے سنیچر کے روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی بہن نورین نیازی کو مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر ’ریاستی اداروں کو بدنام کرنے اور جھوٹا، توہین آمیز اور اشتعال انگیز مواد پھیلانے‘ کے الزام میں طلبی نوٹس جاری کیا ہے۔
این سی سی آئی اے کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر نے نورین نیازی کو ہدایت کی ہے کہ وہ 20 جولائی (پیر) کو تحقیقاتی افسر کے سامنے ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرائیں۔
خیال رہے کہ یہ نوٹس سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک انٹرویو کے کلپ کے بعد جاری کیا گیا ہے، جس میں انھوں نے مبینہ طور پر پاکستانی فوج اور ’معرکہِ حق‘، انڈیا کے وزیراعظم مودی، امریکی صدر ٹرمپ اور ابراہم اکارڈ سے متعلق متنازع گفتگو کی تھی۔
وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے نورین نیازی کے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے پی ٹی آئی قیادت پر ریاست مخالف بیانیہ اپنانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اس معاملے پر قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
بی بی سی اردو نے اس حوالے سے نورین خان نیازی اور پی ٹی آئی قیادت سے بارہا مؤقف لینے کی کوشش کی ہے، تاہم تادمِ تحریر ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
این سی سی آئی اے کے نوٹس میں کیا ہے؟
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر، اسلام آباد کی جانب سے 18 جولائی 2026 کو نورین نیازی کو ایک طلبی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
نوٹس کے مطابق نورین نیازی کو 20 جولائی 2026 کو دوپہر 12 بجے اسلام آباد میں ادارے کے دفتر طلب کیا گیا ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ انکوائری میں سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر ’جھوٹا، اشتعال انگیز اور توہین آمیز مواد‘ پھیلانے اور ریاستی اداروں کے خلاف منفی بیانیہ فروغ دینے کے الزامات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ادارے نے نورین خان نیازی کو مقررہ تاریخپر پیش ہونےکی ہدایت کی ہے تاکہ ان کا بیان ریکارڈ کیا جا سکے۔ نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدم پیشی کی صورت میں پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
حکومتی مؤقف
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے نورین نیازی کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عمران خان کی بہن نے ایک بار پھر وہی بات دہرائی ہے، جس کا اظہار ان کے خاندان کی جانب سے عرصہ دراز سے مختلف انداز میں کیا جاتا رہا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی سیاست اور طرزِ عمل سے یہی تاثر ملتا ہے کہ ان کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’حالیہ انٹرویو کے بعد کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ پی ٹی آئی کے بانی بیرونی قوتوں کے ’پراکسی‘ ہیں۔‘ انھوں نے غیر ملکی فنڈنگ، عمران خان کی ذاتی زندگی، ان کے بچوں کی پرورش اور ان کی سابقہ اہلیہ کے خاندان سے متعلق دعوے بھی دہرائے اور الزام لگایا کہ انھیں بیرونی حلقوں کی حمایت، فنڈنگ اور لابنگ حاصل رہی ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ ان کا ہدف صرف فوج نہیں ہے، ان کا ہدف صرف پاکستان کے ادارے نہیں ہیں۔ ان کا ہدف پاکستان ہے۔ یہ ہر اس چیز کو نشانہ بناتے ہیں جس سے پاکستان کمزور ہو سکتا ہے۔‘
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ’ان کی دوسری بہن بھی اسی طرح کی باتیں کر چکی ہیں اور اب انھوں نے بھی یہی کیا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا اور یہ نہیں ہو سکتا کہ بار بار آپ سے غلطی ہو، غیر دانستہ طور پر آپ کچھ کہنا چاہیں اور آپ سے کہا گیا ہو۔ اس میں سوچ سمجھ کر بات کی گئی ہے۔ اس کے بعد یہ لوگ دوبارہ انٹرویوز دیتے ہیں اور پھر انٹرویو دینے کے بعد یہ بھی کہتے ہیں کہ ہماری باتوں کو اسی طرح لوگوں تک پہنچایا جائے۔‘
طلال چوہدری نے کہا کہ نورین نیازی کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور انھیں نوٹس جاری کر دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنا مؤقف پیش کر سکیں۔

’اداراتی ٹیم نے انٹرویو اپ لوڈ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا‘
انٹرویو لینے والے صحافی احتشام اللہ بیہلم نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ انٹرویو 15 مئی کو ریکارڈ کیا گیا تھا، اس وقت مئی 2025 کو انڈیا پاکستان کی جھڑپوں کو ایک سال مکمل ہوا تھا۔ اس مناسبت سے نورین خان سے سوال کیا گیا جس کا انھوں نے یہ جواب دیا۔
احتشام اللہ کے مطابق یہ انٹرویو انھوں نے ایک یوٹیوب چینل کے لیے ریکارڈ کیا تھا۔
احتشام نے بتایا کہ انٹرویو میں نورین خان کی گفتگو سننے کے بعد انھوں نے چینل کے مالک کے ساتھ مل کر فیصلہ کیا کہ اسے اپ لوڈ نہیں کیا جائے گا۔
وہ بتاتے ہیں کہ انٹرویو کے مختصر دورانیے کے صرف دو حصے الگ کر کے ادارتی ٹیم کو بھیجے گئے تھے، تاہم ایسا انھیں اپ لوڈ کرنے کے ارادے سے نہیں بلکہ مشاورت کے لیے کیا گیا تھا۔
احتشام کے مطابق انھی میں سے ایک حصہ وہ ہے جو وائرل ہوا۔
تاہم انھوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر کس طرح اپلوڈ ہوئی۔
سوشل میڈیا پر بحث
نورین خان کے بیان پر سوشل میڈیا پر ان کے حامیوں اور ناقدین کے درمیان ایک بحث جاری ہے۔
صحافی نصر اللہ ملک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’نورین خان صاحبہ نے انٹرویو کب دیا ، کس کو دیا اور چینل نے کب نشر کیا؟ ان سب باتوں سے قطع نظر سوال یہ ہے کہ انہیں یہ الفاظ اپنے ملک کی فتح اور عزت کے بارے میں کہنے چاہئے تھے؟ دلیل دی جا رہی ہے کہ چینل کو ڈیلیٹ کرنے کا کہا تھا مگر کلپ لگا دیا گیا یہ کیوں نہیں کہتے کہ غلط کہا تھا؟‘
دوسری جانب نورین خان کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ انٹرویو کے اس کلپ کو ’بہانہ‘ بنا کر انھیں گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
نوشی گیلانی نامی صارف نے لکھا کہ ’یہ محض نورین خان کی گرفتاری کا بہانہ ہے ۔۔ کیونکہ اب صرف عمران خان کی بہنیں ہی ہیں جو اپنے بھائی کے علاج اور رہائی کے لئے آواز اُٹھا رہی ہیں۔‘
ایک اور سوشل میڈیا صارف نے الزام عائد کیا کہ ’نورین خان کا جو انٹرویو نشر ہی نہیں ہوا اس پر نوٹس جاری کرنے کی وجہ بس انتقام ہے۔‘