اندرون سندھ سے آئے ہوئے اساتذہ نے اپنے مطالبات کے حق میں کراچی پریس کلب سے وزیراعلیٰ ہاؤس (سی ایم ہاؤس) کی جانب احتجاجی مارچ کیا، تاہم پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو ریڈ زون کی طرف آگے بڑھنے سے روک دیا۔
اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاج کرنے والے اساتذہ جب کراچی پریس کلب سے قافلے کی صورت میں سی ایم ہاؤس کے لیے روانہ ہوئے تو پولیس کی بھاری نفری نے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر کے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان تلخ کلامی اور دھکم پیل بھی دیکھنے میں آئی۔ پولیس نے ریڈ زون کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اطراف کے راستے بند کر دیے، جس کے باعث قریبی شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جائز حقوق اور مطالبات کی منظوری کے لیے اندرون سندھ کے مختلف اضلاع سے کراچی پہنچے ہیں اور جب تک ان کی شنوائی نہیں ہوتی، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔ دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ریڈ زون میں قانون و آرڈر برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے مظاہرین کو روکا گیا ہے۔