کراچی کے علاقے نیا ناظم آباد سے تین روز قبل اغوا ہونے والے ڈھائی سالہ اذان علی خان کو گزشتہ روز پولیس نے خفیہ اطلاع پر ٹھٹہ کے قریب کامیاب کارروائی کرتے ہوئے بحفاظت بازیاب کرایا جس کے بعد اب بچے کی والدہ کا بیان بھی سامنے آیا ہے۔
اذان کی والدہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موبائل چلاتے ہوئے سی سی ٹی وی ویڈیو کلپ کا حصہ سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا تاکہ بچے کا اغوا کی لاپروائی کا الزام میرے سر آجائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کسی جگہ جانا تھا جس کے لیے میں اذان کے والد سے فون پر رابطہ کر رہی تھی، اس دوران میرا بچہ چپلوں کے بغیر گھر کے باہر آگیا تھا۔
اذان کی والدہ نے بتایا کہ ناظم آباد کی انتظامیہ نے میری ادھوری ویڈیو جان بوجھ کر وائرل کی ہی اسی لیے تھی تاکہ انہیں ثبوت مل جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ویڈیو میں میرا بچہ ہاتھ چھڑا کر بھاگتا ہے مگر وہ حصہ ویڈیو میں نہیں دکھایا گیا، پہلے وہ میرے پاس آتا ہے بیٹھتا ہے، ہم دس منٹ کھیلتے بھی ہیں، مگر ویڈیو میں موجود یہ حصہ انہوں نے کاٹ کر سوشل میڈیا پر ڈال دیا۔ انہوں نے کہا کہ ادھوری ویڈیو ڈالنے کا مقصد یہ تاثر دینا تھا کہ بچہ ماں نے اغوا کروایا ہے۔
بچے کی والدہ کا کہنا تھا کہ ویڈیو اس لیے کاٹی گئی کیونکہ یہاں کے پولیس افسران اور نیا ناظم آباد کی انتظامیہ پر بات آجاتی۔