امریکہ اور سعودی عرب کا ’حیران کن‘ جوہری معاہدہ، اسرائیل کی تشویش اور مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ کا خدشہ

کیا سعودی عرب اب ایٹمی بم حاصل کرنے کا خواہاں ہے؟ یہی وہ خدشہ ہے جو اس معاہدے کے بعد سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔
Trump, MBS
EPA

امریکہ اور سعودی عرب نے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت خلیجی مملکت کو ایک سویلین جوہری پروگرام تیار کرنے کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے ’پرامن مقاصد کے لیے‘ جوہری تعاون سے متعلق ’معاہدہ 123‘ پر دستخط کیے ہیں۔

اس معاہدے کو ’پرامن جوہری تعاون کا معاہدہ‘ قرار دیا گیا ہے، جس کے بارے میں امریکی محکمۂ توانائی کا کہنا ہے کہ اس سے ’سعودی عرب کے جوہری توانائی پروگرام میں امریکی کمپنیوں کو وسیع رسائی حاصل ہوگی۔‘

اس پیش رفت کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سعودی عرب، جو خطے میں امریکہ کا ایک اہم اتحادی سمجھا جاتا ہے، اپنی سرزمین پر متعدد امریکی فوجی تنصیبات کی میزبانی کرتا ہے، جن میں سے بعض حالیہ مہینوں میں ایرانی حملوں کی زد میں بھی آ چکی ہیں۔ یہ معاہدہ خطے میں ایک ایسے حساس ماحول میں طے پایا ہے جب یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے صرف دو روز قبل سعودی عرب کے خلاف سمندری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا، جس سے خطے میں سلامتی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

معاہدے کا مکمل متن عوام کے سامنے جاری نہیں کیا گیا، تاہم امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس میں مستقبل میں سعودی عرب کو یورینیم کی افزودگی کی اجازت دینے کی گنجائش موجود ہو سکتی ہے۔ یورینیم کو بجلی گھروں کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اسی مواد کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ امریکہ کی جانب سے اپنی نوعیت کا ایک غیر معمولی قدم ہوگا، جس سے پہلے ہی غیر مستحکم مشرقِ وسطیٰ میں جوہری پھیلاؤ کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

امریکی محکمۂ توانائی نے بتایا کہ جوہری تعاون کے معاہدے کے ساتھ ایک ’دوطرفہ حفاظتی معاہدہ‘ بھی طے پایا ہے۔

محکمہ توانائی کے مطابق، ’یہ دونوں معاہدے مل کر کئی دہائیوں پر محیط اور اربوں ڈالر مالیت کی شراکت داری کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں، جو متعدد اقتصادی اور تزویراتی ترجیحات کو آگے بڑھانے میں مدد دے گی، جن میں جوہری عدم پھیلاؤ بھی شامل ہے۔‘

سعودی حکومت نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ’توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعاون کا تسلسل‘ ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ پیش رفت گذشتہ نومبر میں سعودی قیادت کے واشنگٹن کے دورے کے بعد سامنے آئی ہے۔

سعودی عرب کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کی توانائی کے ذرائع میں تنوع لانے، جدید اور کم کاربن ٹیکنالوجیز کو فروغ دینے اور مشترکہ سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

بی بی سی کے امریکی شراکت دار نیوز نیٹ ورک سی بی ایس نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس معاہدے کا ایک مقصد امریکی کمپنیوں کو سعودی عرب میں جوہری بجلی گھروں کی تعمیر اور انتظام میں شامل کرنا بھی ہے۔ ابھی تک اس منصوبے میں شامل کمپنیوں کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم سی بی ایس نیوز کے مطابق ویسٹنگ ہاؤس الیکٹرک کمپنی ان میں شامل ہو سکتی ہے۔

Trump, MBS
EPA

’سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دینا خاصا حیران کن قدم ہے‘

جوہری ماہرین اور اسرائیل، جو مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے اہم اتحادی ہے، کے سابق عہدیداروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یہ منصوبہ سعودی عرب کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔

اس معاہدے نے یہ خدشات بھی جنم دیے ہیں کہ کہیں یہ مشرقِ وسطیٰ جیسے غیر مستحکم خطے میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ کا آغاز نہ بن جائے۔

وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے ان دونوں معاہدوں نے کئی دہائیوں پر محیط، اربوں ڈالر مالیت کی شراکت داری کے لیے قانونی بنیاد فراہم کر دی ہے، جو متعدد اقتصادی اور تزویراتی اہداف کے حصول میں مدد دے گی، جن میں جوہری عدم پھیلاؤ بھی شامل ہے۔

سیکریٹری کرس رائٹ نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ 'یقین رکھیے، یہ معاہدے جوہری تحفظ اور عدم پھیلاؤ کے اعلیٰ ترین معیارات پر پورا اترتے ہیں، جبکہ ان کی بنیاد بہترین جوہری ٹیکنالوجی اور دنیا کے ممتاز سائنس دانوں کی مہارت پر ہے، جن کا کام امریکہ میں انجام دیا گیا ہے۔‘

سعودی عرب کے پاس اس وقت کوئی جوہری پاور پلانٹ موجود نہیں، تاہم ستمبر 2023 میں سعودی وزیرِ توانائی نے ایک جوہری بجلی گھر تعمیر کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

امریکی توانائی معلوماتی ادارے (ای آئی اے) کے تازہ ترین دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب کی توانائی کی پیداوار میں قدرتی گیس کا حصہ 62 فیصد، تیل کا 38 فیصد جبکہ قابلِ تجدید ذرائع کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی امورِ خارجہ کی ماہر روزمیری کیلانک کے مطابق، امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دینا ’خاصا حیران کن‘ قدم ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’امریکہ نے اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں کیا۔ ہم نے کسی دوسرے ملک کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودہ کرنے میں مدد فراہم نہیں کی۔‘

ان کے بقول اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ’اگر کوئی ملک اپنا جوہری ایندھن خود تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے تو وہ ممکنہ طور پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔‘

Israel
Reuters
اسرائیلی وزیر اقتصادیات نیر برکات

’اگر سعودی عرب جوہری توانائی کو صرف توانائی کی ضروریات کے لیے استعمال کرے تو اسرائیل کو اس پر اعتراض نہیں‘

اسرائیل کے وزیرِ اقتصادیات نیر برکات کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب جوہری توانائی کو صرف توانائی کی ضروریات کے لیے استعمال کرے تو اسرائیل کو اس پر اعتراض نہیں۔

انھوں نے اسرائیلی فوجی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر وہ اسے پرامن مقاصد کے لیے چاہتے ہیں تو ہم اس کے ساتھ چل سکتے ہیں۔ امریکہ اسرائیل کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا۔‘

نیر برکات نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایسے معاملات میں خطرات کو سمجھے بغیر آگے نہیں بڑھتے۔

اس کے برعکس اسرائیل کے سابق وزیرِ دفاع اور وزیرِ خارجہ اویگدور لیبرمین کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کو اس معاہدے کی مخالفت کرنی چاہیے۔

انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ 'سعودی عرب کا سویلین جوہری پروگرام بالآخر جوہری ہتھیاروں کی جانب لے جا سکتا ہے۔'

ان کے مطابق یہ پیش رفت 'مشرقِ وسطیٰ میں اسلحے کی غیر ضروری دوڑ کو جنم دے گی۔ '

واشنگٹن میں کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس بریڈ شرمین نے کہا کہ امریکہ کو ایسا معاہدہ صرف اسی صورت میں منظور کرنا چاہیے جب اس میں وہی سخت ضمانتیں شامل ہوں جو متحدہ عرب امارات کے ساتھ موجود معاہدے میں ہیں۔

سنہ 2009کے اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات کو اپنے طور پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت نہیں۔

بریڈ شرمین نے ایکس پر لکھا ’جو صدر مشرقِ وسطیٰ میں جوہری پھیلاؤ روکنے کے لیے جنگ چھیڑتا ہے، اسے محض امریکی کمپنیوں کے منافع کی خاطر ایسے پھیلاؤ کو آسان نہیں بنانا چاہیے۔‘

ایک اور ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس جان گارامنڈی نے اس معاہدے کو ’انتہائی خطرناک پالیسی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے ’کبھی بھی‘ منظور نہیں کیا جانا چاہیے۔

انھوں نے سی این این سے گفتگو میں کہا کہ ’افزودہ یورینیم جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ واقعی ایک بہت بری پالیسی ہے۔‘

ادھر ریپبلکن رکنِ کانگریس مارلن سٹیٹزمین نے اسی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں فی الحال اس معاہدے پر کوئی ابتدائی تشویش نہیں، تاہم وہ انٹیلی جنس اداروں سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہیں گے۔

ان کے بقول، ’سعودی عرب حقیقت میں مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کا ایک اہم عنصر ہے۔‘

کیا یہ خدشہ جائز ہے کہ سعودی عرب جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر سکتا ہے؟ بی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار، فرینک گارڈنر کا تجزیہ

A file image of Saudi Crown Prince Mohammed bin Salman holding an extended handshake in the White House Oval Office with US President Donald Trump
Getty Images
اطلاعات ہیں کہ اس معاہدے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے اسرائیل کو سفارتی طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ نہیں کیا

کیا سعودی عرب اب ایٹمی بم حاصل کرنے کا خواہاں ہے؟

فی الحال اس کی کوئی واضح علامت موجود نہیں۔ تاہم یہی وہ خدشہ ہے جو اس معاہدے کے گرد سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔

ایران نے اپنے طور پر یورینیم افزودہ کیا، اور دنیا نے اس کے نتائج دیکھے ہیں۔

ایران نے اپنے زیرِ زمین جوہری مراکز میں، امریکی سیٹلائٹس کی نگرانی سے بڑی حد تک محفوظ ماحول میں، 441 کلوگرام یورینیم کو 60 فیصد خالصتاً افزودہ کیا۔ یہ شرح سویلین جوہری توانائی کے لیے درکار 3.67 فیصد سے کہیں زیادہ ہے اور فوجی درجے کے انتہائی افزودہ یورینیم (ایچ ای یو)سے صرف ایک مرحلہ کم سمجھی جاتی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مواد انہی سرنگوں میں موجود تھا جنھیں گذشتہ برس امریکی آپریشن 'مڈ نائٹ ہیمر' کے دوران نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس وقت ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جو ظاہر کرے کہ سعودی عرب ایران کے راستے پر چلنا چاہتا ہے یا اپنے مجوزہ سویلین جوہری پروگرام کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

تاہم سعودی عرب ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں سلامتی کے خدشات مستقل موجود رہتے ہیں۔ اگر ایران مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا ہے تو سعودی قیادت اپنے لیے کسی نہ کسی قسم کی جوہری بازدار قوت حاصل کرنے کی خواہش رکھ سکتی ہے۔

دوسری جانب بعض مبصرین کے مطابق، یورینیم کو 90 فیصد تک افزودہ کرنے اور پھر اسے قابلِ استعمال ایٹمی ہتھیار میں تبدیل کرنے کے پیچیدہ، طویل اور غیر قانونی عمل سے گزرنے کے بجائے، سعودی عرب نظریاتی طور پر اپنے قریبی اتحادی پاکستان سے ’استعمال کے لیے تیار‘ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا راستہ بھی اختیار کر سکتا ہے۔

ممکنہ معاہدے کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس انتظام کے تحت امریکہ کے ساتھ مشترکہ مطالعہ مکمل کرنے کے بعد سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیئم افزودہ کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ تاکہ امریکی ساختہ افزودگی کی تنصیب میں ایندھن تیار کیا جا سکے، بجائے اس کے کہ درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کیا جائے۔

یہ شق اس معاہدے کو اس معاہدے سے مختلف بنائے گی جو امریکہ نے 2009 میں سعودی عرب کے پڑوسی متحدہ عرب امارات کے ساتھ کیا تھا، جس کے تحت متحدہ عرب امارات اپنا ایندھن خود تیار نہیں کرتا اور متعدد دیگر پابندیاں قبول کرتا ہے۔

اسی وجہ سے اس معاہدے پر جوہری پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے مہم چلانے والوں کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار متوقع ہے، جن کا حتمی مقصد دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں اضافے کو روکنا ہے۔

جوہری معاملہ کئی ماہ سے جاری امریکہ اسرائیل تنازع میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ فروری میں ایران پر حملہ کرنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ ملک کو کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکا جائے، جس کے بارے میں تہران کا کہنا ہے کہ وہ ایسا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

سعودی عرب کے عملی حکمران، ولی عہد محمد بن سلمان نے 2018 میں سی بی ایس نیوز کو بتایا تھا کہ ان کا ملک جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا منصوبہ نہیں بنا رہا لیکن ’اگر ایران نے جوہری بم تیار کر لیا تو بلا شبہ ہم بھی جلد از جلد اسی راستے پر چلیں گے۔‘

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق بدھ کو منظر عام پر آنے والا امریکہ سعودی معاہدہ پہلے ہی ٹرمپ کی منظوری حاصل کر چکا ہے اور 30 سال تک نافذ رہے گا۔

اخبار کے مطابق اگر مشترکہ مطالعے کے بعد امریکہ سعودی عرب میں افزودگی کے عمل پر اعتراض کرتا ہے تو مملکت کو 10 برس تک نہ تو خود اور نہ ہی کسی دوسرے غیر ملکی شراکت دار کے ساتھ ایسا کرنے کی اجازت ہو گی۔

اب یہ منصوبہ امریکی کانگریس کو بھیجا جائے گا۔

اگرچہ یہ توقع ہے کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے بعض قانون ساز بھی اس معاہدے کی مخالفت کریں گے تاہم ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی ایوان بالا اور ایوان زیریں دونوں میں اکثریت رکھتی ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکہ سعودی معاہدے کو اس شرط سے مشروط نہیں کیا گیا کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات معمول پر لائے۔

سعودی، اسرائیل تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش متعدد امریکی صدور کی خواہش رہی ہے۔

Saudi, USA
EPA

کئی برسوں پر محیط مذاکرات

حالیہ برسوں میں امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات میں نمایاں گرمجوشی دیکھنے میں آئی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاض کے ساتھ تعلقات کو اپنی خارجہ پالیسی کی اہم ترجیحات میں شامل رکھا۔ مئی 2025 میں سعودی عرب ان کے پہلے بڑے غیر ملکی دورے کی منزل بنا، جہاں سعودی کمپنیوں نے مبینہ طور پر امریکہ میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدوں کا اعلان کیا۔

اس کے بعد گذشتہ نومبر میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورۂ واشنگٹن کے دوران دونوں ممالک کے روابط مزید مضبوط ہوتے دکھائی دیے۔ وائٹ ہاؤس میں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جس میں خصوصی خیرمقدم، فوجی فضائی مظاہرے اور صدارتی رہائش گاہ کے دورے سمیت کئی علامتی سرگرمیاں شامل تھیں۔

صدر ٹرمپ بھی متعدد مواقع پر سعودی قیادت کے بارے میں مثبت انداز میں اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں۔ وہ اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ان سے کہا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ کے دور میں امریکہ ایک ’مردہ ملک‘ بن گیا تھا، جسے ٹرمپ انتظامیہ نے دوبارہ مضبوط اور فعال بنانے کی کوشش کی۔

تاہم واضح رہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان جوہری تعاون پر بات چیت 2008 میں شروع ہوئی تھی۔

جارج ڈبلیو بش انتظامیہ کے دور میں دونوں ممالک نے ایک غیر پابند مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت واشنگٹن نے سعودی عرب کو سویلین جوہری توانائی کے شعبے کی ترقی میں معاونت کی یقین دہانی کرائی تھی۔

اس وقت سعودی عرب نے کہا تھا کہ وہ جوہری ایندھن درآمد کرے گا اور 'حساس جوہری ٹیکنالوجی' حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

اس سلسلے کے چند اہم مراحل درج ذیل ہیں:

2017تا 2019: امریکہ نے سات امریکی کمپنیوں کو سعودی عرب کے ساتھ سویلین جوہری توانائی کے شعبے میں مذاکرات کی اجازت دی۔

2020: امریکی گورنمنٹ اکاؤنٹیبلٹی آفس نے رپورٹ کیا کہ یورینیم افزودگی سمیت متعدد امور پر اختلافات کے باعث دونوں ممالک کے درمیان خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔

2022: تکنیکی معلومات کے تبادلے اور جوہری سلامتی کے شعبے میں تعاون کے لیے ایک نئی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

2023: وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ امریکہ سعودی سرزمین پر واشنگٹن کی نگرانی میں یورینیم افزودگی کے آپشن پر غور کر رہا ہے۔

نومبر 2025: دونوں ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے جسے ٹرمپ انتظامیہ نے 'اربوں ڈالر مالیت کی جوہری توانائی شراکت داری کے لیے قانونی بنیاد' قرار دیا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US