موٹاپے میں کمی سے لے کر دل کی بیماریوں سے بچاؤ تک کے متعلق کی جانے والی متعدد تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ہمارے جسم کی اندرونی گھڑی جسے ہم سرکیڈین ردھم بھی کہتے ہیں خوراک کو ہضم کرنے طریقے اور مجموعی صحت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔
ایک مطالعے کے مطابق دیر سے ناشتہ کرنے والے افراد میں دل کی بیماریوں کا خطرہ زیادہ پایا گیا (تصویر)’ناشتہ بادشاہ کی طرح کرو، دوپہر کا کھانا کسی شہزادے کی طرح اور رات کا کھانا ایک غریب آدمی کی طرح کھاؤ (یعنی کم کھاؤ)۔‘
جب میں نے اپنے ایک ہسپانوی دوست سے اُن کے ملک میں کھانے پینے کی عادات کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے اِس کا جواب کچھ اِن الفاظ میں دیا۔ میرے ہسپانوی دوست ہرش فیلڈ کے مطابق یہ ایک معروف کہاوت ہے جو انھیں بچپن میں سکھائی گئی تھی۔
لیکن سپین میں عام طور پر دوپہر کے وقت لوگ سب سے زیادہ سِیر ہو کر کھاتے ہیں جبکہ رات کا کھانا نسبتاً ہلکا پُھلکا ہوتا ہے۔
ہرش فیلڈ کہتے ہیں کہ ’کچھ لوگ تو رات کا کھانا بالکل ہی نہیں کھاتے یا پھر صرف کوئی ایک پھل اور دہی کھانے پر اکتفا کرتے ہیں۔‘
دوسری جانب برطانیہ اور امریکہ میں اس کے برعکس دوپہر کا کھانا عام طور پر ہلکا جبکہ رات کے کھانا پر نسبتاً زیادہ دھیان دیا جاتا ہے۔
لیکن ایسا عین ممکن ہے کہ شاید ہمارا روزمرہ کا کھانے کا معمول غلط ہو۔ یہ دعویٰ ایک نسبتاً نئے سائنسی شعبے ’کرونو نیوٹریشن‘ سے سامنے آ رہا ہے۔ سائنس کے اِس شعبے کے مطابق صحتمند غذا کا تعلق صرف اس بات سے نہیں کہ ہم کیا کھاتے ہیں بلکہ اس بات سے بھی ہے کہ ہم کب کھاتے ہیں۔
موٹاپے میں کمی سے لے کر دل کی بیماریوں سے بچاؤ تک کے متعلق کی جانے والی متعدد تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ہمارے جسم کی اندرونی گھڑی، جسے ہم ’سرکیڈین رِدھم‘ بھی کہتے ہیں، خوراک کو ہضم کرنے طریقے اور مجموعی صحت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ماہرین اب اس بات پر بھی توجہ دینے کا مشورہ دیتے ہیں کہ آپ کھانا کس وقت کھاتے ہیں۔
اپنی جسمانی گھڑی کا وقت درست کریں
سپین کی یونیورسٹی آف مرسیا سے تعلق رکھنے والی مارٹا گاراؤلیٹ کی کھانے کے اوقات اور اس کے اثرات میں دلچسپی اُس وقت پیدا ہوئی جب انھوں نے اپنے کلینک میں کچھ مشاہدات کیے۔ مارٹا اپنے کلینک میں بڑھے ہوئے وزن کا علاج کرتی ہیں۔
ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل اُن کے سامنے دو ایسے مریض آئے جو ایک ہی گھر میں رہتے تھے اور بالکل ایک جیسی غذا استعمال کر رہے تھے، لیکن دونوں کے وزن کم کرنے کی کوششوں کے نتائج مختلف تھے۔
ان میں سے ایک دوپہر تقریباً ایک بجے کھانا کھاتا تھا، جبکہ دوسری مریضہ اپنی کلاسز کے اوقات کی وجہ سے دیر سے کھانا کھاتی تھی۔
گاراؤلیٹ کہتی ہیں کہ اُن کے کھانے پینے کی عادات میں ’صرف یہی ایک فرق تھا۔‘
چھ ہفتوں بعد جو مریض جلدی دوپہر کا کھانا کھاتا تھا اُس کے وزن میں نمایاں طور پر کمی واقع ہوئی۔ اس مشاہدے نے انھیں اس امکان پر تحقیق کرنے پر آمادہ کیا کہ شاید کھانے کا وقت بذاتِ خود وزن میں کمی پر بڑا اثر ڈال سکتا ہے۔
بعد ازاں گاراؤلیٹ اور اُن کے ساتھیوں نے 420 بالغ افراد کا مطالعہ کیا جو وزن کم کرنے کے 20 ہفتوں کے ایک ہی پروگرام میں شریک تھے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ دوپہر کا کھانا جلد کھانے والوں کا وزن نہ صرف زیادہ کم ہوا بلکہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بھی کم ہوا۔
اسی طرح ایک اور چھوٹے مطالعے میں 32 صحتمند خواتین نے دو ہفتوں تک ایک جیسی غذا استعمال کی۔ مطالعے میں شامل خواتین میں سے جنھوں نے دوپہر کا کھانا دیر سے کھایا تھا، اُن کا جسم بلڈ شوگر پر نسبتاً کم کنٹرول کر پایا اور اُن کے جسم نے کاربوہائیڈریٹس بھی کم مقدار میں جلائے۔
اس کے بعد متعدد تحقیقات نے ظاہر کیا ہے کہ ’سرکیڈین ردھم‘ ہماری بھوک، ہاضمے اور میٹابولزم پر اثر انداز ہوتا ہے۔
رات کا کھانا جلد کھانا اور کم مقدار میں کھانا صحت کے لیے مفید ہے (فائل فوٹو)اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک ہی کھانا مختلف اوقات میں کھانا ہمارے جسم پر مختلف طریقے سے اثرانداز کیوں ہوتا ہے؟
جب میں نے بوسٹن کے بریگھم اینڈ ویمنز ہاسپٹل سے وابستہ اعصابی سائنس کے پروفیسر فرینک شیئر سے یہ سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’حیاتیاتی نقطۂ نظر سے ہم صبح اور شام میں ایک جیسے نہیں ہوتے۔‘
ان کے مطابق ہمارے جسم کی اندرونی گھڑی یا سرکیڈین ردھم تقریباً تمام حیاتیاتی نظاموں کو منظم کرتی ہے۔
اگر ہم ایسے وقت کھانا کھائیں جب ہمارے جسم کی اندرونی گھڑی ہمیں سونے کا اشارہ دے رہی ہو، تو اس سے ایک حیاتیاتی عدم مطابقت پیدا ہو سکتی ہے جسے سرکیڈین مس الائنمنٹ کہا جاتا ہے۔
اس کی ایک مثال ہمارے جسم کے بلڈ شوگر کے نظام میں دیکھی جا سکتی ہے۔
سنہ 2022 کے ایک مطالعے میں 800 سے زیادہ بالغ افراد کو ایسا مشروب دیا گیا جس میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار عام رات کے کھانے جیسی تھی۔ محققین نے پایا کہ جب اسے سونے سے صرف ایک گھنٹہ پہلے پیا گیا تو جسم نے اسے چار گھنٹے پہلے پینے کے مقابلے میں کم مؤثر طریقے سے پراسیس کیا۔
سونے کے وقت کے قریب یہ مشروب پینے والوں میں بلڈ شوگر کی سطح نسبتاً بلند رہی اور جسم نے انسولین کم بنائی۔ انسولین وہ ہارمون ہے جو خون میں شکر کی مقدار کو منظم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
محققین کا خیال ہے کہ میلاٹونن (ہارمون) اس عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ہارمون جسم کے سونے کی تیاری کے دوران بڑھ جاتا ہے۔
فرینک شیئر کہتے ہیں کہ ’اگر آپ شام میں اُس وقت کھانا کھاتے ہیں جب میلاٹونن کی سطح بلند ہو تو اس سے جسم کی گلوکوز کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔‘

یہ اثر ان لوگوں میں اور بھی زیادہ دیکھا گیا جن میں ’ایم ٹی این آر ون بی‘ (MTNR1B) نامی جین کی قسم پائی جاتی ہے۔ اس جین کا تعلق ٹائپ ٹو ذیابیطس کے بڑھتے خطرے سے جوڑا جاتا ہے۔
طویل عرصے تک رات میں دیر سے کھانا کھانے کی عادت اس بیماری کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے، جبکہ دنیا بھر میں ذیابیطس کے کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
جلدی کھانا کھائیں تاکہ بھوک بھی کم لگے
دیر سے کھانے کے اثرات صرف بلڈ شوگر تک محدود نہیں۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دیر سے کھانا کھانے والے افراد کو اگلے دن زیادہ بھوک محسوس ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے بھوک اور پیٹ بھرنے کے احساس کو کنٹرول کرنے والے ہارمون متاثر ہوتے ہیں۔
ایسے افراد میں لیپٹن نامی ہارمون کی مقدار کم پائی گئی ہے۔ لیپٹن وہ ہارمون ہے جو دماغ کو بتاتا ہے کہ پیٹ بھر چکا ہے۔
اس کے علاوہ ہمارے کھانے کے اوقات اس بات پر بھی اثر ڈالتے ہیں کہ ہمارا جسم چربی کو کس طرح ذخیرہ کرتا ہے۔ دیر سے کھانا کھانے کی صورت میں جسم چربی کو جلانے کے بجائے زیادہ ذخیرہ کرتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ اس کی وجہ سے صحتمند وزن برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
اسی وجہ سے کھانے کے اوقات ان لوگوں کے لیے خاص طور پر اہم ہو سکتے ہیں جن میں ایسے جینیاتی عوامل پائے جاتے ہیں جس کے باعث وہ موٹاپے کا شکار ہو سکتے ہیں۔
تقریباً 1200 بالغ افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں پایا گیا کہ موٹاپے کے زیادہ خطرے سے دوچار افراد میں دیر سے کھانا کھانے کا تعلق زیادہ باڈی ماس انڈیکس (BMI) سے تھا، جبکہ جلد کھانا کھانے سے اس خطرے میں کمی دیکھی گئی۔
صحتمند دل کے لیے بھرپور ناشتہ کریں
جلد کھانے کے دل کی صحت پر بھی مثبت اثرات ہو سکتے ہیں۔
فرانس میں ایک لاکھ سے زائد افراد پر ہونے والے ایک مطالعے کے مطابق دیر سے ناشتہ کرنے والے افراد میں دل کی بیماریوں کا خطرہ زیادہ پایا گیا۔
محققین نے یہ بھی دیکھا کہ شام کو جلد کھانا کھانے اور صبح وقت پر ناشتہ کرنے سےحاصل ہونے والا فاقے (یا وہ دورانیہ میں جس میں کچھ کھایا نہ جائے) کا لمبا دورانیہ آپ کی قلبی صحت سے منسلک ہے۔
یہ مشورہ خاص طور پر شفٹوں میں کام کرنے والے افراد اور ان لوگوں کے لیے اہم ہو سکتا ہے جن کی جسمانی گھڑی اکثر متاثر رہتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ممکن ہو تو رات کی ڈیوٹی کرنے والوں کو اپنی خوراک دن کے اوقات تک محدود رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ تاہم بعض پیشوں مثلاً طبی عملے کے لیے توانائی برقرار رکھنے کی خاطر ایسا کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔
اگر رات میں بھوک لگے تو بہتر ہے کہ پروٹین سے بھرپور ہلکی پھلکی غذا کھائی جائے اور اگر ممکن ہو تو ناشتہ صبح تک مؤخر کرنے کی کوشش کی جائے۔

کیا آپ رات کو دیر تک جاگنے والوں میں ہیں یا صبح جلدی اٹھنے والے؟
یقیناً اس بات پر ہمارا مکمل کنٹرول نہیں کہ ہم کس وقت کھانا کھاتے ہیں۔
ہر کسی کا اپنا کرونوٹائپ ہوتا ہے، یعنی کچھ لوگ فطری طور پر صبح جلد بیدار ہونے والے ہوتے ہیں جبکہ کچھ رات گئے تک جاگنے والے ہوتے ہیں۔
اٹلی کی یونیورسٹی آف نیپلز فیڈریکو دوم کی معاون پروفیسر جیووانا موسکوگیوری کے مطابق صبح جلد اٹھنے والے افراد میں میڈیٹرینین ڈائٹ اختیار کرنے کا زیادہ رجحان ہوتا ہے۔ میڈِٹرینین ڈائٹ بحیرہ روم کے قریب ممالک کے روایتی کھانوں سے متاثر دل کے لیے صحتمند کھانے کا پلان ہے۔
دوسری جانب وہ افراد جو راتوں کو زیادہ سرگرم رہتے ہیں عموماً کھانا دیر سے کھاتے ہیں اور شام میں زیادہ کیلوریز والی غذائیں استعمال کرتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ کرونوٹائپ اس بات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے کہ ہمارا جسم خوراک کو کیسے پراسیس کرتا ہے۔
صبح جلدی اٹھنے والے افراد میں انسولین کے مؤثر ہونے کا وقت نسبتاً جلد ہوتا ہے اور میلاٹونن بھی جلد خارج ہوتا ہے۔ اس کے برعکس رات کو سرگرم رہنے والے افراد دیر سے کھانے کی وجہ سے بلڈ شوگر میں خرابی اور وزن بڑھنے کے زیادہ خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے موسکوگیوری کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنی فطری عادات کو مدنظر رکھتے ہوئے بتدریج رات کے کھانے کے اوقات جلدی کھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس کے علاوہ نیند کا دورانیہ اور معیار بھی بھوک اور کھانے کی خواہش پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اگر ہماری نیند پوری نہ ہو اس سے بھی زیادہ کھانے اور زیادہ توانائی والی غذاؤں کے انتخاب کا امکان بڑھ جاتا ہے، جو وقت کے ساتھ وزن میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
زیادہ سمجھداری سے کیسے کھائیں؟
عملی مشورہ نسبتاً سادہ ہے۔
کھانے کے اوقات حتی الامکان باقاعدہ رکھیں اور فائبر سے بھرپور کاربوہائیڈریٹس، جیسے ثابت اناج، پھلیاں، مٹر، دالیں اور پھل، دن کے ابتدائی حصے میں کھائیں۔
شام کے وقت نسبتاً ہلکی غذا کا انتخاب کریں۔
رات کے کھانے میں پروٹین سے بھرپور غذاؤں کو ترجیح دیں۔
موسکوگیوری کی ایک حالیہ جائزہ تحقیق کے مطابق شام کے کھانے میں ایسے غذائی اجزا بھی شامل کیے جا سکتے ہیں جو بہتر نیند میں مدد دیتے ہیں، مثلاً خشک میوہ جات اور بیج وغیرہ۔
اسی طرح چکن، سالمن اور ٹونا جیسی غذائیں، جن میں ٹرپٹوفان زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے، مفید ہو سکتی ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ٹرپٹوفان نیند کے معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
میں تو آئندہ اپنی جسمانی گھڑی پر زیادہ توجہ دینے کا ارادہ رکھتی ہوں۔ خاص طور پر سپین میں رائج یہ طریقہ کہ سب سے زیادہ توجہ دوپہر کے کھانے پر دی جائے خاصا دلکش معلوم ہوتا ہے۔ شاید میں بھی دفتر جانے سے پہلے صبح ہی کھانا تیار کرنا شروع کر دوں۔
تو پھر رات کا کھانا کھانے کا بہترین وقت کیا ہے؟
اس سوال کا کوئی ایک حتمی جواب موجود نہیں، لیکن ماہرین کے مطابق بہتر یہی ہے کہ دن کی سب سے بڑی خوراک نسبتاً جلد کھائی جائے اور رات کا کھانا سونے سے کم از کم تین گھنٹے پہلے کھا لیا جائے۔