’بابا کب واپس آئیں گے؟‘ شہید پولیس اہلکار کے بچوں کو آج بھی والد کا انتظار

image
پشاور میں دہشت گردی کے ایک واقعے میں جان گنوانے والے پولیس کانسٹیبل محمد سجاد کو دنیا سے گئے ایک سال گزر چکا ہے، لیکن ان کے گھر والوں کے لیے وقت جیسے وہیں رک گیا ہے۔ سجاد کے والد محمد عالم کہتے ہیں کہ ان کی کم سن پوتی کبھی کبھار اپنے والد کے بارے میں پوچھتی ہے اور کہتی ہے، ’بابا کب آئیں گے؟‘ محمد سجاد پشاور پولیس کا حصہ تھے اور 2010 میں کانسٹیبل کی حیثیت سے محکمہ پولیس میں شامل ہوئے تھے۔ 2 اکتوبر 2025 کو پشاور کے کوہاٹ روڈ پر ہونے والے ایک آئی ای ڈی دھماکے میں وہ جان کی بازی ہار گئے تھے۔ وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کی وفات کے بعد اہلیہ اور دو کم سن بچے رہ گئے، جن میں 2 سالہ بیٹی اور 3 سالہ بیٹا شامل ہے۔ سجاد کے والد محمد عالم بھی محکمہ پولیس سے کلرک کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بیٹے سے ان کی آخری ملاقات بھی اسی دن ہوئی جس دن وہ شہید ہوئے۔ محمد عالم کے مطابق سجاد شام تقریباً 6 بجے گھر پہنچے، پولیس یونیفارم تبدیل کی اور اہلخانہ کو بتایا کہ انہیں ڈیوٹی کے لیے جانا ہے۔ وہ گھر سے نکلے تو پھر واپس نہ آ سکے۔ والد نے بتایا کہ سجاد کے گھر سے نکلنے کے کچھ ہی دیر بعد دھماکے کی خبر سامنے آئی۔ ان کے بڑے بیٹے نے بتایا کہ سجاد زخمی ہو گئے ہیں، تاہم شدید زخموں کے باعث وہ رات کو ہی دم توڑ گئے۔ محمد عالم کا کہنا تھا کہ بیٹے کی کمی ہر وقت محسوس ہوتی ہے اور اس کی یاد آج بھی انہیں بے چین کر دیتی ہے۔ تاہم انہیں اس بات کا اطمینان ہے کہ ان کے بیٹے نے ملک اور قوم کی حفاظت کرتے ہوئے جان دی۔ ان کا کہنا تھا کہ سجاد کے بچے ابھی بہت چھوٹے ہیں، اس لیے انہیں پوری طرح معلوم نہیں کہ ان کے والد کہاں ہیں۔ وہ بچوں کو اپنی طرف سے ہر ممکن محبت دینے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن باپ کی کمی پوری کرنا ممکن نہیں۔ محمد عالم نے کہا، ’وہ میرا چھوٹا بیٹا تھا۔ جب بھی اس کی یاد آتی ہے، دل میں تکلیف ہوتی ہے اور یہ دکھ ساری زندگی میرے ساتھ رہے گا۔‘ ان کے مطابق سجاد کی چھوٹی بیٹی کبھی کبھار پوچھتی ہے، ’بابا کب آئیں گے؟‘ تاہم کم عمری کی وجہ سے وہ ابھی اپنے والد کی موت کی حقیقت کو سمجھنے کی عمر میں نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے پاکستان میں ہر سال یوم شہدائے پولیس منایا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ دن 4 اگست کو ہوتا ہے، تاہم اس سال 4 اگست کو چہلم کے باعث یوم شہدائے پولیس 5 اگست کو منایا جا رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں پولیس اہلکار جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ صوبائی پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق 2002 سے اب تک 2 ہزار 396 پولیس اہلکار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جان دے چکے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 2025 خیبر پختونخوا پولیس کے لیے سب سے زیادہ ہلاکتوں والا سال رہا، جب 235 اہلکار جان سے گئے۔ اس سے قبل 2009 میں 211 پولیس اہلکار دہشت گردی کا نشانہ بنے تھے۔ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں، خصوصاً جنوبی اضلاع میں حالیہ عرصے کے دوران پولیس کو مسلسل حملوں کا سامنا ہے۔ پولیس اسٹیشنز، چیک پوسٹوں اور اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے گزشتہ جمعے کو راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ رواں سال سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے۔ ان کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 2 ہزار 84 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ اسی عرصے میں 819 سکیورٹی اہلکار اور 322 عام شہری بھی جان سے گئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ بلوچستان میں سب سے زیادہ کارروائیاں کی گئیں، جہاں ان کے بقول انڈیا کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف 31 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ خیبر پختونخوا میں ایسے آپریشنز کی تعداد 7 ہزار سے زیادہ رہی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ رواں سال ملک بھر میں دہشت گردی کے 3 ہزار 145 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں 1971، بلوچستان میں 1148 جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں 2091 دہشت گردی کے واقعات پیش آئے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مزید دعویٰ کیا تھا کہ ان واقعات اور بم دھماکوں میں زیادہ تر افغان شہری ملوث پائے گئے۔

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US