الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انٹرا پارٹی انتخابات کے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے پر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 روز میں جواب طلب کر لیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ مدت میں انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے کی صورت میں جماعت آئندہ عام انتخابات کے لیے انتخابی نشان سے محروم ہو سکتی ہے۔
الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نوٹس کے مطابق سیاسی جماعتوں کے لیے اپنے عہدیداروں کا باقاعدگی سے انتخاب کرانا قانونی طور پر لازمی ہے۔ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت ہر سیاسی جماعت انٹرا پارٹی انتخابات کرانے اور انتخابی عمل مکمل ہونے کے سات روز کے اندر انتخابی سرٹیفکیٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرانے کی پابند ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان مقررہ توسیعی مدت 15 اکتوبر 2026 تک بھی انٹرا پارٹی انتخابات کرانے میں ناکام رہی، جو انتخابی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
الیکشن کمیشن نے جماعت کو وضاحت پیش کرنے کے لیے 14 روز کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مقررہ وقت میں جواب موصول نہ ہونے یا قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر ایم کیو ایم پاکستان کا انتخابی نشان روکا جا سکتا ہے، جس کے باعث جماعت آئندہ انتخابات میں اپنے انتخابی نشان سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے۔