دفاعی قوت، اخراجات اور ہتھیار: پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کی فوجی صلاحیت کے بارے میں ہمیں کیا معلوم ہے؟

اِن تینوں ممالک میں سے صرف پاکستان کے پاس اعلانیہ جوہری ہتھیار ہیں۔ جبکہ ترکی صرف نیٹو کے جوہری شراکتی نظام کا حصہ ہے اور سعودی عرب نے ’پُرامن مقاصد کے لیے‘ حال ہی میں امریکہ کے ساتھ سویلین جوہری پروگرام کے معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے اس معاملے پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط رکھی تھی۔
پاکستان
Getty Images

دنیا کی تین بڑی مسلم طاقتوں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ’مکہ معاہدے‘ کے تحت ایک مشترکہ دفاعی اتحاد نے جنم لیا ہے۔

مکہ معاہدے میں شامل تینوں ممالک دفاعی اعتبار سے اپنی اپنی خصوصیات اور صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ جیسے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز (آئی آئی ایس ایس) کے ایک تجزیے کے مطابق مکہ معاہدے کی علامتی اہمیت یہ ہے کہ اس میں پاکستان کی جوہری طاقت، سعودی عرب کی توانائی کی دولت اور ترک دفاعی صنعت شامل ہیں۔

اگرچہ مکہ معاہدے کا باضابطہ متن جاری نہیں کیا گیا تاہم تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ اس مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک دستخط کنندہ ملک پر حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو کہ نیٹو کے آرٹیکل 5 سے ملتی جلتی ایک شق ہے۔

دفاعی ماہرین کی رائے میں اس کا لفظی مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں کسی جنگ کی صورت میں سعودی عرب اور ترکی پاکستان کے دفاع کے لیے مدد فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ اور اگر شام یا مشرقی بحیرۂ روم میں اسرائیل اور ترکی کے درمیان تصادم ہوتا ہے تو سعودی اور پاکستانی افواج بھی اس لڑائی میں شامل ہوں گی۔

تاہم دیگر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر مکہ معاہدے میں شامل ممالک میں سے کسی ایک ملک کے خلاف حملہ ہوا تو یہ بھی ممکن ہے کہ دیگر دو ممالک اُس تنازع یا جنگ میں براہ راست شامل ہونے کے بجائے متاثرہ فریق کی مدد اسلحہ، انٹیلیجنس اور سفارتی سطح پر کریں۔

مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر سٹیو اے کُک نے کونسل آف فارن افیئرز کے لیے ایک تحریر میں بتایا کہ مکہ معاہدے پر دستخط کے 48 گھنٹوں بعد ہی اس کی آزمائش ہو گئی تھی جب حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوب مغربی شہر جازان میں سعودی آرامکو کی ایک آئل ریفائنری پر حملہ کیا۔

اگرچہ 13 جولائی سے سعودی عرب مسلسل حوثیوں کے حملوں کی زد میں رہا ہے تاہم سعودی قیادت نے اپنے نئے شراکت داروں سے مدد طلب نہیں کی۔

سٹیو اے کُک لکھتے ہیں کہ مکہ معاہدہ دراصل مشرق وسطیٰ کے علاقائی نظام میں ایک تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ ’ایک ایسی تبدیلی جس سے امریکہ کے کئی دہائیوں پر محیط قائدانہ کردار میں کمی آ رہی ہے۔‘

بی بی سی نے اس تحریر میں تینوں ممالک کی بری، فضائی اور بحری صلاحیتوں کا جائزہ لیا ہے۔

سعودی، پریڈ
Getty Images

دفاعی اخراجات، بری و فضائی طاقت

گلوبل فائر پاور انڈیکس کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج میں تقریباً چھ لاکھ 60 ہزار فعال اہلکار ہیں جبکہ ترکی میں یہ تعداد چار لاکھ 81 ہزار اور سعودی عرب میں دو لاکھ 47 ہزار فعال اہلکار ہیں۔

سویڈن میں قائم سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سپری) کے ڈیٹا کے مطابق تینوں ممالک میں سے سب سے زیادہ دفاعی اخراجات سعودی عرب نے 2025 میں 83 ارب ڈالر کے کیے اور یہ دنیا میں سب سے بڑے دفاعی بجٹ والے ممالک کی فہرست میں آٹھویں نمبر پر ہے۔

جبکہ سپری کے مطابق 2025 میں پاکستان کے دفاعی اخراجات 11.9 ارب ڈالر اور ترکی کے 30 ارب ڈالر رہے تھے۔ دنیا میں سب سے بڑے دفاعی بجٹ والے ممالک کی فہرست میں ترکی 18ویں نمبر پر جبکہ پاکستان 31ویں نمبر پر ہے۔

پاکستان

پاکستان کی بری فوج تعداد اور ساز و سامان کے لحاظ سے دنیا کی بڑی افواج میں شمار ہوتی ہے اور چین سے اس کی دفاعی برآمدات میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔

انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز (آئی آئی ایس ایس) کی رپورٹ ’ملٹری بیلنس‘ کے مطابق پاکستان کے پاس 2,570 سے زیادہ مرکزی بیٹل ٹینکس اور 4,600 سے زیادہ توپ خانے کے نظام موجود ہیں۔

اس کے بکتر بند دستوں کی بنیاد الخالد، الخالد ون، الضرار اور T-80UD ٹینکوں پر ہے۔ الخالد اور الخالد ون پاکستان کے مقامی طور پر تیار کردہ اہم ٹینک ہیں، جبکہ T-80UD طویل عرصے سے پاکستانی آرمرڈ کور کا ایک اہم جزو رہا ہے۔ پاکستان کی بری فوج روایتی جنگی صلاحیت کے ساتھ ساتھ میکانائزڈ اور آرمرڈ فارمیشنز کی بڑی تعداد بھی رکھتی ہے۔

گلوبل فائر پاور انڈیکس کے مطابق فضائی میدان میں پاکستانی فضائیہ کے پاس 331 جنگی طیارے ہیں جبکہ ملٹری بیلنس کی رپورٹ پاکستان کے کامبیٹ کیپیبل ایئرکرافٹس کی تعداد 465 بتاتی ہے۔

پاکستان کے اہم لڑاکا طیاروں میں امریکی ساختہ F-16 فائٹنگ فالکن، چین اور پاکستان کے اشتراک سے تیار کردہ JF-17 تھنڈر، چینی J-10C اور میراج III اور میراج V شامل ہیں۔

حالیہ برسوں میں J-10C اور JF-17 بلاک III طیاروں کی شمولیت سے فضائیہ کی طاقت اور طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانی فضائیہ جدید فضائی جنگی صلاحیت کے لیے مختلف قسم کے ایئر ٹو ایئر اور ایئر ٹو سرفیس ہتھیار بھی استعمال کرتی ہے۔

مئی 2025 کے دوران انڈیا سے فوجی کشیدگی کے دوران پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے چینی ساختہ جے 10 سی طیاروں نے انڈیا کے متعدد جنگی طیارے مار گرائے تھے۔

ملٹری بیلنس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی بری اور فضائی افواج کے پاس سابقہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں سے خاطر خواہ عملی تجربہ حاصل ہوا ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی جوہری اور روایتی فورسز کو انڈیا کے خطرے کو دیکھتے ہوئے ڈھالا گیا ہے جبکہ چین کو پاکستان کا ’مرکزی دفاعی شراکت دار‘ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ’مقامی دفاعی صنعت کے پاس جنگی طیاروں کی دیکھ بھال اور مرمت کے لیے سہولیات موجود ہیں‘ جبکہ ’مختلف پلیٹ فارمز، ہتھیاروں اور گولہ بارود کی برآمد بھی کی جاتی ہے۔‘

پاکستان، چین، جے 10 سی
Getty Images

ترکی

ترکی نیٹو اتحاد کے ان ممالک میں شامل ہے جس کے پاس سب سے بڑی بری افواج ہیں۔

ملٹری بیلنس کے مطابق اس کے پاس 2300 سے زیادہ مرکزی بیٹل ٹینکس اور 2700 سے زیادہ توپ خانے کے نظام موجود ہیں۔ ترکی کی بری فوج کے اہم ٹینکوں میں جرمن ساختہ Leopard 2A4 اور جدید M60T Sabra شامل ہیں، جبکہ مقامی طور پر تیار کیا جانے والا Altay مین بیٹل ٹینک ترکی کے دفاعی صنعت کے اہم منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ترکی نے بری فوج کے لیے مقامی سطح پر تیار کیے گئے ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں پر انحصار میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

ملٹری بیلنس کی رپورٹ کے مطابق ترکی کی بہت سی بڑی دفاعی کمپنیاں (جیسے ASELSAN، Roketsan اور TAI) مکمل طور پر یا اکثریتی حصص کے ذریعے ترک مسلح افواج فاؤنڈیشن کی ملکیت ہیں۔ ملک میں زمینی دفاعی نظام، جہاز سازی اور ڈرونز کی تیاری کے شعبوں میں اہم نجی ملکیت کے ادارے بھی موجود ہیں اور اس کی دفاعی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

گلوبل فائر پاور انڈیکس کے مطابق ترکی کے پاس 200 سے زیادہ فائٹر طیارے ہیں۔ جبکہ ملٹری بیلنس کی رپورٹ نے کامبیٹ کیپیبل ایئرکرافٹس کی تعداد 293 بتائی ہے۔

ترکی کی فضائیہ کی بنیادی قوت F-16 فائٹنگ فالکن طیاروں پر مشتمل ہے، جبکہ محدود تعداد میں F-4E Terminator طیارے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ ملک KAAN نامی مقامی پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے کی تیاری پر بھی کام کر رہا ہے۔

ملٹری بیلنس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انقرہ کی جانب سے روس کے S-400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری کے متنازع فیصلے کے جواب میں امریکہ نے F-35 طیاروں کی تیاری کے پروگرام سے ترکی کو نکال دیا تھا۔ مگر اب حال ہی میں ٹرمپ نے اس فیصلے پر نظرثانی بھی کی ہے۔

دریں اثنا ترکی کی فضائی طاقت کا ایک نمایاں پہلو اس کی ڈرون صلاحیت ہے۔ مثلاً Bayraktar TB2، Bayraktar Akinci، Anka اور Aksungur جیسے ڈرون ترکی کی دفاعی صنعت کی اہم مصنوعات ہیں اور انھیں نگرانی، حملوں اور مختلف فوجی کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

سعودی عرب

سعودی عرب کی بری فوج تعداد کے اعتبار سے پاکستان اور ترکی سے چھوٹی ہے، تاہم اسے جدید مغربی اسلحے سے لیس تصور کیا جاتا ہے۔

ملٹری بیلنس کی رپورٹ میں موجود اندازوں کے مطابق سعودی عرب کے پاس تقریباً 840 سے 1,100 مین بیٹل ٹینکس موجود ہیں۔ اس کی بری فوج کا مرکزی جنگی ٹینک امریکی ساختہ M1A2 Abrams ہے، جسے دنیا کے جدید ترین مین بیٹل ٹینکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی فوج ہزاروں بکتر بند گاڑیوں اور جدید خودکار توپ خانے کے نظام بھی استعمال کرتی ہے۔

گلوبل فائر پاور انڈیکس کے مطابق فضائی طاقت سعودی عرب کی عسکری صلاحیت کا اہم ترین شعبہ ہے۔ سعودی فضائیہ کے پاس تقریباً 283 فائٹر طیارے ہیں۔ اس کے اہم لڑاکا طیاروں میں F-15SA، F-15C/D، Eurofighter Typhoon اور Tornado IDS شامل ہیں۔ F-15SA سعودی فضائیہ کے جدید ترین جنگی طیاروں میں شمار ہوتا ہے جبکہ Eurofighter Typhoon فضائی برتری اور زمینی اہداف پر حملوں دونوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں فضائی نگرانی، میزائل دفاع اور بغیر پائلٹ کے فضائی نظاموں کی صلاحیت میں بھی سرمایہ کاری کی ہے، جس سے اس کی فضائی قوت مشرق وسطیٰ کی نمایاں فضائی طاقتوں میں شامل ہے۔

ترکی، ڈرون
Getty Images

ملٹری بیلنس کی رپورٹ کے مطابق ’یمن میں کارروائیوں نے سعودی مسلح افواج کو جنگی تجربہ حاصل کرنے کا موقع دیا۔ تاہم ان کارروائیوں نے شعبوں اور صلاحیت میں موجود خلا کو بھی نمایاں کر دیا، خاص طور پر درست نشانہ لگانے والی فضائی قوت کے استعمال، فضا اور زمین کے درمیان رابطہ و ہم آہنگی، اور رسد کے انتظام کے حوالے سے۔‘

اس میں کہا گیا ہے کہ سعودی سرزمین پر ’کروز میزائل اور ڈرون حملے ملک کی فضائی اور میزائل دفاعی صلاحیتوں میں موجود خامیوں کو نمایاں کرتے ہیں۔‘

ریاض نے 2023 میں ڈرونز خریدنے کے لیے ترکی سے معاہدہ کیا تھا۔ سعودی ویژن 2030 کے تحت ریاض دفاعی اخراجات کا 50 فیصد مقامی سطح پر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ڈرونز کا بڑھتا استعمال

تینوں ممالک کی افواج کی جانب سے یو اے ویز یا ڈرونز میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب دونوں کی جانب سے ڈرونز کی خریداری کے لیے ترکی سے معاہدے کیے گئے ہیں۔

انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز (آئی آئی ایس ایس) کی رپورٹ دی ملٹری بیلنس کے مطابق پاکستان نے حالیہ برسوں میں بغیر پائلٹ فضائی صلاحیتوں میں بتدریج اضافہ کیا ہے۔ پاکستانی مسلح افواج نگرانی، انٹیلی جنس، سرحدی نگرانی اور محدود حملہ آور کارروائیوں کے لیے مختلف اقسام کے ڈرون استعمال کرتی ہیں۔

مقامی طور پر تیار کیے گئے براق، شاہپر اور شاہپر II پاکستان کے نمایاں ڈرون نظاموں میں شامل ہیں۔ شاہپر II کو طویل فاصلے تک نگرانی اور اسلحہ لے جانے کی صلاحیت کے ساتھ تیار کیا گیا ہے، جبکہ براق مسلح کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ملٹری بیلنس کے مطابق پاکستان چین کے ساتھ دفاعی تعاون کے ذریعے اپنی ڈرون اور نگرانی کی صلاحیتوں کو بھی وسعت دیتا رہا ہے، جس سے انٹیلی جنس اور سرویلنس کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔

مئی 2025 کی فوجی لڑائی کے بعد انڈیا نے پاکستان پر اس کے خلاف ترک ساختہ ڈرونز استعمال کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ملٹری بیلنس کی رپورٹ کے مطابق ترکی کا شمار دنیا میں نمایاں طور پر فوجی ڈرون تیار کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے اور اس کی دفاعی صنعت نے اس شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔

ترکی کے اہم ڈرون پلیٹ فارمز میں Bayraktar TB2، Bayraktar Akinci، Anka اور Aksungur شامل ہیں۔ Bayraktar TB2 کو مختلف جنگی اور نگرانی کی کارروائیوں میں استعمال کیا جا چکا ہے، جبکہ Akinci زیادہ وزن کا اسلحہ اور جدید سینسر لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ Anka اور Aksungur طویل دورانیے کی پرواز اور انٹیلی جنس، نگرانی اور ریکی مشن انجام دے سکتے ہیں۔

رپورٹ ملٹری بیلنس ترکی کی بڑھتی ہوئی مقامی دفاعی صنعت کو اس کی فوجی صلاحیت کا ایک اہم جزو قرار دیتی ہے، جس میں بغیر پائلٹ فضائی نظام نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ ترکی نہ صرف اپنی مسلح افواج کو یہ نظام فراہم کرتا ہے بلکہ متعدد ممالک کو ان کی برآمد بھی کرتا ہے۔

اسی طرح سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں بغیر پائلٹ فضائی صلاحیتوں میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔ سعودی افواج نگرانی اور حملہ آور دونوں نوعیت کے ڈرون استعمال کرتی ہیں۔

اس کے زیر استعمال نمایاں نظاموں میں چینی ساختہ CH-4 اور Wing Loong سیریز شامل ہیں۔ اس کے ساتھ وژن 2030 کے تحت سعودی عرب مقامی سطح پر ڈرون تیار کرنے کی پالیسی پر بھی عمل پیرا ہے تاکہ درآمد شدہ نظاموں پر انحصار کم کیا جا سکے۔

سعودی عرب سرحدی نگرانی، اہم تنصیبات کے تحفظ، انٹیلی جنس جمع کرنے اور عسکری کارروائیوں کے لیے اپنے بغیر پائلٹ فضائی نظاموں کی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے، جس سے اس کی فضائی نگرانی اور ردعمل کی صلاحیت مزید مضبوط ہوئی ہے۔

سمندری طاقت

گلوبل فائر پاور انڈیکس کے مطابق تینوں ممالک میں سے سب سے زیادہ بحری اثاثے ترکی کے پاس ہیں، جن کی تعداد 192 ہے۔ جبکہ اس کی بحریہ کے ایک لاکھ اہلکاروں کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے۔ اس کے مقابلے پاکستان کے پاس 57500 بحری اہلکار اور 120 بحری اثاثے ہیں۔ جبکہ سعودی عرب کی بحری فوج صرف 13500 اہلکاروں پر مشتمل ہے اور اس کے پاس 32 بحری اثاثے ہیں۔

ترک بحریہ مشرقی بحیرہ روم، بحیرہ اسود اور بحیرۂ ایجیئن میں کام کرنے والی خطے کی طاقتور بحری افواج میں شمار ہوتی ہے۔ ملٹری بیلنس 2025 کے مطابق ترک بحریہ کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا بڑا اور متنوع بحری بیڑہ ہے۔ اس میں 13 آبدوزوں میں سے جدید Reis کلاس آبدوز ’ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن ٹیکنالوجی‘ سے لیس ہے۔

ترکی ان تینوں میں واحد ملک ہے جس کے پاس ہیلی کاپٹر کیریئر (لینڈنگ ہیلی کاپٹر ڈاک یا ایل ایچ ڈی) ہے۔ TCG Anadolu نامی ’ایمفیبیئس اسالٹ شپ‘ ایک وقت میں سینکڑوں فوجیوں، درجنوں گاڑیوں اور متعدد ہیلی کاپٹروں کو لے جا سکتا ہے۔

دریں اثنا ترک بحریہ کے پاس 17 فریگیٹس، 9 کورویٹس اور درجنوں میزائل بردار اور پیٹرولنگ جہاز موجود ہیں۔ ترکی نے مقامی MILGEM پروگرام کے ذریعے اپنی بحری صنعت کو نمایاں طور پر فروغ دیا، جس کے نتیجے میں Ada کورویٹس اور Istif کلاس فریگیٹس تیار کی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ ترکی سمندری ڈرونز اور بغیر عملے کے بحری نظاموں کی تیاری میں بھی دنیا کے نمایاں ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

جہاں تک بات پاکستانی بحریہ کی ہے تو اس کے پاس آٹھ آبدوزیں اور 12 فریگیٹس ہیں۔

جون 2026 کے دوران پاکستانی نیوی کی پہلی ہنگور کلاس آبدوز کراچی کی بندرگاہ پر پہنچی تھی جو کہ پاکستان اور چین کے دفاعی تعاون کے تحت تیار کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ جدید جنگی نظاموں، نئے سینسرز، ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (اے آئی پی) ٹیکنالوجی اور بہتر سٹیلتھ خصوصیات سے لیس ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان کے پاس پانچ اگوسٹا کلاس آبدوزیں ہیں، جن میں دو ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (AIP) سے لیس ہیں۔ اسپیشل فورسز کے لیے تین MG110 آبدوزیں بھی موجود ہیں۔ آبدوزی قوت کو پاکستان کے بحری دفاع اور اس کی جوہری ڈیٹرنس کی مستقبل کی منصوبہ بندی میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

پاکستانی بحریہ کی فریگیٹس میں چینی ساختہ تغرل کلاس، F-22P (سورڈ کلاس) اور ترک ڈیزائن پر مبنی بابر کلاس شامل ہیں۔ یہ جہاز جدید اینٹی شپ اور فضائی دفاعی میزائلوں سے لیس ہیں۔

رائل سعودی نیوی اِن دونوں ممالک سے قدرے پیچھے مگر خلیجی خطے کی نمایاں بحری قوتوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی مرکزی ذمہ داری بحیرہ احمر اور خلیج عرب کے وسیع ساحلی علاقوں کا دفاع ہے۔

ملٹری بیلنس کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے پاس 12 جدید فریگیٹس ہیں جن میں الریاض، المدینہ اور نئے الجبیل کلاس جہاز شامل ہیں۔

جبکہ ہسپانوی ڈیزائن کے Avante 2200 فریگیٹس سعودی بیڑے کا حصہ بن چکے ہیں اور انھیں ہارپون اینٹی شپ میزائل، ESSM فضائی دفاعی میزائل اور جدید سینسرز سے لیس کیا گیا ہے۔

سعودی عرب کے پاس درجنوں پیٹرولنگ اور ساحلی جنگی جہاز، مائن کاؤنٹر میژرز جہاز (سمندری بارودی سرنگوں کے لیے) اور بحری ہیلی کاپٹر بھی موجود ہیں۔ اگرچہ سعودی عرب کے پاس آبدوزی قوت موجود نہیں لیکن اس کی بحری حکمت عملی جدید سطحی جنگی جہازوں، ساحلی دفاع اور فضائی و میزائل تحفظ پر مرکوز ہے۔

ترکی، بحری مشقیں
Getty Images

جوہری صلاحیت

اِن تینوں ممالک میں سے صرف پاکستان کے پاس اعلانیہ جوہری ہتھیار ہیں۔ جبکہ ترکی صرف نیٹو کے جوہری شراکتی نظام کا حصہ ہے اور سعودی عرب نے ’پُرامن مقاصد کے لیے‘ حال ہی میں امریکہ کے ساتھ سویلین جوہری پروگرام کے معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے اس معاملے پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط رکھی تھی۔

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سپری) کی رپورٹ ’ورلڈ نیوکلیئر فورسز 2026‘ کے مطابق پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ جنوری 2026 تک تقریباً 170 وارہیڈز پر مشتمل تھا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان اپنی جوہری صلاحیت کے زمینی، فضائی اور بحری اجزا پر مشتمل ’نیوکلیئر ٹرائیڈ‘ نظام کو بتدریج وسعت دے رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان کی زمینی اور فضائی جوہری صلاحیتیں مضبوط ہیں تاہم اس کی سمندر سے جوہری حملے کی صلاحیت اب بھی ترقی اور آزمائش کے مرحلے میں ہے۔

سپری کے مطابق پاکستان نئے میزائل نظاموں کی تیاری اور فِسل مواد کے ذخائر میں اضافے کے باعث آئندہ برسوں میں اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے جوہری ہتھیار لے جانے والے اہم میزائلوں میں شاہین I، شاہین II، غوری، غزنوی، نصر اور بابر کروز میزائل شامل ہیں۔ پاکستان ابابیل نامی بیلسٹک میزائل بھی تیار کر رہا ہے جسے متعدد آزادانہ اہداف کو نشانہ بنانے والے وارہیڈز (MIRV) لے جانے کی صلاحیت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

تاہم سپری کے مطابق جنوری 2026 تک اس کی عملی تعیناتی کے شواہد موجود نہیں تھے۔ پاکستان بابر 3 سمندر سے فائر کیے جانے والے کروز میزائل کے ذریعے بحری جوہری صلاحیت بھی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ترکی کے بارے میں اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکی خود جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک میں شامل نہیں ہے اور اس کے پاس قومی سطح کا کوئی جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود نہیں۔ تاہم ترکی نیٹو کے جوہری شراکتی نظام کا حصہ ہے اور امریکی جوہری بموں کی میزبانی کرنے والے اتحاد کے چند ممالک میں شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ کے جدید B61-12 جوہری بم یورپ میں کئی نیٹو اڈوں پر تعینات ہیں، جن میں ترکی بھی شامل ہے۔ یہ ہتھیار امریکی تحویل میں رہتے ہیں اور ترکی ان کا مالک نہیں۔

اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ترکی کی فضائیہ مستقبل میں F-35 پروگرام سے متعلق تبدیلیوں اور نیٹو کے جوہری انتظامات کے تناظر میں مغربی جوہری دفاعی ڈھانچے کا حصہ بنی ہوئی ہے۔ لیکن ترکی کے اپنے جوہری وارہیڈز یا جوہری میزائل موجود نہیں ہیں۔

رپورٹ میں سعودی عرب کا ذکر بھی موجود ہے۔ اس کے مطابق سعودی عرب جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست نہیں ہے اور اس کے پاس کسی جوہری ہتھیار یا جوہری وارہیڈ کا معلوم ذخیرہ موجود نہیں۔

تاہم رپورٹ میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے تعلقات کا ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025 میں دونوں ممالک نے ایک سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ کیا۔ سپری نے نشاندہی کی کہ معاہدے میں پاکستان کی جوہری صلاحیت کو سعودی عرب تک توسیع دینے کی صریح تصدیق نہیں کی گئی۔ لیکن بعد ازاں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے بعض بیانات نے اس امکان پر بحث کو تقویت دی۔ رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے کوئی واضح ثبوت موجود نہیں کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت سعودی عرب کے لیے بھی نافذ کی گئی ہے۔ تاہم اس موضوع نے مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال میں ایک نئی بحث کو جنم ضرور دیا ہے۔

آئی آئی ایس ایس کے ایک تجزیے کے مطابق جوہری ڈیٹرینس کے بارے میں پاکستان کا غیر واضح موقف اتحادیوں کی تزویراتی پوزیشن کو مضبوط بنانے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔

سعودی عرب کے پاس روایتی بیلسٹک میزائل فورس موجود ہے۔ سپری کے مطابق سعودی عرب ماضی میں چینی ساختہ DF-3 بیلسٹک میزائل حاصل کر چکا ہے اور DF-21 میزائلوں کی موجودگی سے متعلق بھی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ لیکن سعودی عرب کو جوہری ہتھیاروں کی حامل ریاست قرار نہیں دیا جاتا اور اس کی موجودہ میزائل فورس کو روایتی دفاعی صلاحیت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کی دفاعی کمزوریاں

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سٹمسن سینٹر سے وابستہ سٹریٹیجک امور کے ماہر ڈینئیل مارکی بتاتے ہیں کہ ’دفاعی صلاحیتوں کا انتہائی سادہ انداز میں خلاصہ کیا جائے تو یہ کہنا درست ہو گا کہ سعودی عرب سرمایہ اور عالمی ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کرتا ہے جبکہ پاکستان افرادی قوت، جنگی تجربہ اور منفرد جوہری صلاحیتیں رکھتا ہے۔ ترکی مقامی ٹیکنالوجی، نیٹو کی رکنیت اور ایک جدید اور ہتھیاروں سے لیس فوج رکھتا ہے جس میں بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کی حامل بحریہ بھی ہے۔‘

دفاعی کمزوریوں کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ ’سعودی عرب کی فوج میں انتہائی تربیت یافتہ افرادی قوت، تجربے اور ادارہ جاتی مضبوطی کی کمی ہے۔‘

ان کی رائے میں ’پاکستان کے پاس بجٹ اور وسائل کی کمی ہے، جدید ترین مقامی ٹیکنالوجی کی صنعتیں محدود ہیں، اور وہ عموما افغانستان اور انڈیا کے ساتھ تنازعات میں الجھا رہتا ہے، جبکہ پاکستان کے اندر دہائیوں سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں۔‘

مارکی مزید کہتے ہیں کہ ’ترکی کو اگلی نسل کے لڑاکا طیاروں تک آسان رسائی حاصل نہیں کیونکہ واشنگٹن نے اسے ایف 35 پروگرام سے خارج کر دیا تھا۔‘

مگر وہ سمجھتے ہیں کہ ’جب ان تمام عناصر کو یکجا کیا جائے تو ایک حد تک باہم تکمیلی تصویر سامنے آتی ہے: ہر ملک ایسی مختلف صلاحیتیں مہیا کرتا ہے جو دیگر دو ممالک کی کمزوریوں کا ازالہ کرتی ہیں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US