اسرائیلی فوج نے پہلی بار اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس نے 2024 میں غزہ میں فلسطینی بچی ہند رجب کو لے جانے والی گاڑی پر فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں پانچ سالہ ہند سمیت اس کے چھ رشتہ دار ہلاک ہو گئے تھے۔
اسرائیلی فوج نے پہلی بار اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس نے 2024 میں غزہ میں فلسطینی بچی ہند رجب کو لے جانے والی گاڑی پر فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں پانچ سالہ ہند سمیت اس کے چھ رشتہ دار ہلاک ہو گئے تھے۔
ہند رجب کو اس وقت نشانہ بنایا گيا جب وہ اپنی چچی، چچا اور تین کزنز کے ساتھ جان بچانے کے لیے ایک کار میں شہر سے فرار ہو رہی تھیں۔
حملے کے بعد ہند رجب ابتدائی طور پر زندہ بچ گئی تھی اور انھوں نے ایک فون کال کا جواب دیا تھا جس میں وہ مدد کی اپیل کرتی رہیں۔ یہ کال کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔
بعد ازاں ہند تک پہنچنے کے لیے بھیجی گئی ایک ایمبولینس، جس کی نقل و حرکت اسرائیلی فوج کے ساتھ رابطے میں طے کی گئی تھی، اسے بھی گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا جس سے دو طبی اہلکار ہلاک ہو گئے۔ چند روز بعد ہند کی لاش دیگر ہلاک ہونے والوں کے ساتھ برآمد ہوئی تھی۔
اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ہند، اس کے اہلِ خانہ اور طبی اہلکاروں کی ہلاکتوں کے علاوہ مارچ 2025 میں 15 فلسطینیوں، جن میں طبی کارکن اور اقوامِ متحدہ کا ایک اہلکار بھی شامل تھا، کی ہلاکت کے واقعے کی بھی فوجداری تحقیقات شروع کرے گی۔
دونوں واقعات پر بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔
ہند کی ہلاکت کے معاملے پر آئی ڈی ایف نے کہا: ’فلسطینی ہلالِ احمر کی ایمبولینس کی نقل و حرکت سے متعلق رابطہ کاری میں ممکنہ ناکامیوں کے پیشِ نظر فوجی پولیس کے فوجداری تحقیقاتی شعبے کے ذریعے فوجداری تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘
فوج نے مزید کہا کہ اس کی تحقیقات کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’آئی ڈی ایف کے اہلکاروں نے ایک ایسی گاڑی پر فائرنگ کی‘ جو ’اس پیشگی اطلاع کے برعکس سفر کر رہی تھی جو آئی ڈی ایف کے ترجمان کی جانب سے علاقے کے رہائشیوں کے لیے جاری کیے گئے اعلان میں دی گئی تھی۔‘
ابتدا میں آئی ڈی ایف نے کہا تھا کہ ہند کی ہلاکت کے وقت اس کے کوئی اہلکار اس علاقے میں موجود نہیں تھے۔ تاہم اس دعوے پر جلد ہی سوالات اٹھنے لگے تھے۔
بعد میں آئی ڈی ایف نے کہا کہ اس نے غزہ شہر کے مختلف محلوں، جن میں تل الہویٰ بھی شامل ہے جہاں ہند موجود تھی، میں تعینات اپنی فورسز کے ذریعے ’دہشت گرد اہداف‘ کے خلاف کارروائیاں کی تھیں۔
ہند کی ہلاکت کی عالمی سطح پر مذمت اس وقت کی گئی جب فلسطینی ہلالِ احمر سوسائٹی (پی آر سی ایس) کے طبی اہلکاروں کے ساتھ اس کی گفتگو کی ایک دل دہلا دینے والی ریکارڈنگ دنیا بھر میں نشر کی گئی۔
وہ کار جس میں ہند رجب سوار تھیں۔۔ سیاہ کیا کار ملبے کا ڈھیر بن گئی اور اس پر چاروں طرف گولیوں کے نشان تھے'ٹینک میرے سے کافی قریب ہے۔۔ کیا آپ مجھے آ کر بچا سکتے ہیں؟ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے‘
اس دن فون لائن کے دوسری طرف سنائی دینے والی ہند کی کمزور آواز اس کی موت کے بعد بھی ہلالِ احمر کے آپریٹرز کے ذہنوں میں گونجتی رہی۔ ہند نے بتایا تھا کہ وہ گاڑی کے سامنے ٹینک دیکھ رہی ہے جو اس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
ہند اور ایمرجنسی کال آپریٹرز کے درمیان فون پر ہونے والی باتوں کی آڈیو ریکارڈنگ سے پتا چلتا ہے کہ کار میں پانچ سالہ بچی زندہ بچی تھی اور وہ اپنے رشتہ داروں کی لاشوں کے درمیان اسرائیلی فورسز سے چھپ رہی تھی۔
ایک موقع پر وہ ایمرجنسی سروسز سے کہتی ہیں کہ ’ٹینک میرے سے کافی قریب ہے۔ وہ پاس آ رہا ہے۔۔۔ کیا آپ مجھے آ کر بچا سکتے ہیں؟ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔‘
آپریٹرز نے اسے کہا تھا ’سیٹوں کے نیچے چھپ جاؤ اور کسی کو تمھیں دیکھنے مت دو۔‘
آپریٹر رانا فقیہ کئی گھنٹوں تک ہند کے ساتھ فون پر رہیں، جبکہ ہلالِ احمر کی ٹیم اسرائیلی فوج سے اپیل کرتی رہی کہ ایمبولینس کو اس مقام تک رسائی دی جائے۔
رانا فقیہ کے مطابق بچی بار بار ان سے درخواست کرتی رہی کہ کوئی آ کر اسے بچا لے۔
رانا نے فروری 2024 میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا: ’ایک موقع پر اس نے مجھ سے کہا کہ اندھیرا ہو رہا ہے۔ وہ خوفزدہ تھی۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ میرا گھر وہاں سے کتنی دور ہے۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے میں مفلوج اور بے بس ہوں۔‘
ایک موقع پر وہ ایمرجنسی سروسز سے کہتی ہیں کہ ’ٹینک میرے سے کافی قریب ہے۔ وہ پاس آ رہا ہے۔۔۔ کیا آپ مجھے آ کر بچا سکتے ہیں؟ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔‘
ان کی التجا اس وقت ختم ہو گئی جب مزید فائرنگ کی آواز کے درمیان فون لائن کٹ گئی۔
کال شروع ہونے کے تقریباً تین گھنٹے بعد بالآخر ایک ایمبولینس کو علاقے کی طرف جانے کی اجازت دے دی گئی اور اسے ہند کو بچانے کے لیے روانہ کیا گیا۔
اندھیرا ہونے کے بعد ایمبولینس کے عملے، یوسف الزینو اور احمد المدھون، نے آپریٹرز کو اطلاع دی کہ وہ مقام کے قریب پہنچ چکے ہیں اور داخلے سے قبل اسرائیلی فورسز ان کی جانچ کرنے والی ہیں۔
یہ آخری مرتبہ تھا جب آپریٹرز کا ان دونوں سے، یا ہند سے، رابطہ ہوا۔
اس کے بعد دونوں طبی اہلکاروں اور اس بچی سے، جسے بچانے کے لیے وہ پہنچے تھے، رابطہ ہمیشہ کے لیے منقطع ہو گیا۔
بعد ازاں فلسطینی ہلالِ احمر سوسائٹی (پی آر سی ایس) نے تصدیق کی کہ یوسف الزینو اور احمد المدھون دونوں اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب ایمبولینس اسرائیلی فورسز کی بمباری کا نشانہ بنی۔
تنظیم نے ایک بیان میں کہا تھا ’اسرائیلی قابض فوج نے جان بوجھ کر ہلالِ احمر کے عملے کو نشانہ بنایا، حالانکہ ایمبولینس کو بچی ہند کو بچانے کے لیے جائے وقوعہ تک پہنچنے کی پیشگی اجازت اور رابطہ کاری حاصل تھی۔‘
بعد میں فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی (پی آر سی ایس) کے پیرامیڈیکس جو اس علاقے تک پہنچنے میں کامیاب رہے جسے ایک فعال جنگی زون ہونے کی وجہ سے پہلے بند کر دیا گیا تھا، انھیں موٹر کمپنی کِیا کی سیاہ کار نظر آئی جس میں ہند رجب اپنے اہل خانہ کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔ اس کار کی ونڈ سکرین اور ڈیش بورڈ پاش پاش ہو گئے تھے اور گاڑی پر چہار جانب گولیوں کے سوراخ تھے۔
ایک پیرامیڈیک نے صحافیوں کو بتایا کہ کار کے اندر سے ملنے والی چھ لاشوں میں ہند رجب کی میت بھی شامل تھی، جن میں سے سبھی پر گولیوں اور گولہ باری کے نشانات تھے۔
چند میٹر کے فاصلے پر ایک اور گاڑی پڑی تھی جو کہ مکمل طور پر جل چکی تھی۔ ہلال احمر کا کہنا ہے کہ یہ ہند رجب کو لانے کے لیے بھیجی گئی ایمبولینس تھی۔
پی آر سی ایس کے ترجمان نیبل فرسخ نے بی بی سی کو بتایا تھا ’ہمیں گرین لائٹ ملی۔ ہمارے عملے نے وہاں پہنچنے پر اس بات کی تصدیق کی کہ انھیں وہ کار نظر آ رہی ہے جس میں ہند رجب پھنسی ہوئی تھیں، اور وہ اسے دیکھ سکتے ہیں۔ آخری بات جو ہم نے سنی وہ مسلسل فائرنگ تھی۔‘
فون کال آپریٹرز کے ساتھ ہند کی بات چیت کی ریکارڈنگز کو فلسطینی ہلال احمر نے پبلک پلیٹفارم پر شیئر کیا تھا۔ جس کے بات اس بات کو جاننے کی ایک مہم چل پڑی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔
ہند کی ماں نے بی بی سی کو بتایا کہ بیٹی کی لاش ملنے سے پہلے تک وہ ’ہر لمحے، ہر پل‘ اس کی آمد کی منتظر تھیں۔
انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ اس کا احتساب ہونا چاہیے اور کسی نہ کسی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں ہر اس شخص کو جس نے میری اور میری بیٹی کی التجا سنی، پھر بھی اسے نہیں بچایا انھیں قیامت کے دن اللہ کے سامنے ان سے سوال کروں گی۔ میں نتن یاہو، بائیڈن اور ان تمام لوگوں کے لیے اپنی دل کی گہرائیوں سے بددعا کروں گی جنھوں نے ہمارے خلاف، غزہ اور اس کے لوگوں کے خلاف تعاون کیا ہے۔‘
اس واقعے پر مبنی ’دی وائس آف ہند رجب‘ کے نام سے ایک فلم بھی بنائی گئی، جسے آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔
اقوامِ متحدہ نے بھی اپنی تحقیقاتی کمیشن کی ایک رپورٹ میں ہند کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیل پر جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے، جن کی اسرائیل تردید کرتا ہے۔
بچانے کے لیے بھیجی گئی ایمبولینس پر اسرائیل نے بمباری کیاسرائیلی فوج کے اعلان کے بعد برسلز میں قائم ہند رجب فاؤنڈیشن، جو غزہ میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کے مبینہ واقعات پر کام کرتی ہے، نے کہا ہے کہ اسے اس تحقیق پر ’کوئی اعتماد نہیں ہے۔‘
فاؤنڈیشن نے ایک بیان میں کہا: ’ان تحقیقات کے اعلانات کو، خواہ یہ واقعی کی جائیں، انصاف کی جانب ایک حقیقی پیش رفت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل کی داخلی تحقیقات ’بنیادی طور پر ناقص ہیں اور انھیں احتساب کے قابلِ اعتماد طریقۂ کار نہیں سمجھا جا سکتا۔‘
بدھ کو جاری اپنے بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا: ’ایک ہزار دن سے زائد عرصے سے آئی ڈی ایف متعدد محاذوں پر شدید لڑائی میں مصروف ہے اور غیر معمولی طور پر پیچیدہ حالات میں وسیع پیمانے پر فوجی کارروائیاں انجام دے رہی ہے۔‘
’بین الاقوامی قانون اور اسرائیلی داخلی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے حصے کے طور پر آئی ڈی ایف لڑائی کے دوران پیش آنے والے غیر معمولی واقعات کا جائزہ لیتی ہے۔‘
ہند، اس کے اہلِ خانہ اور طبی اہلکاروں کی ہلاکتوں سے متعلق فوجداری تحقیقات کے علاوہ، آئی ڈی ایف نے کہا کہ وہ 15 فلسطینیوں کی ہلاکت کی بھی تحقیقات کرے گی۔
یہ واقعہ 23 مارچ 2025 کی صبح جنوبی غزہ کے شہر رفح کے علاقے تل السلطان میں پیش آیا تھا، جب آئی ڈی ایف کے ایک یونٹ نے ہنگامی کارروائی کے دوران ایمبولینسوں، ایک فائر ٹرک اور اقوامِ متحدہ کی واضح نشانات والی ایک گاڑی پر فائرنگ کی تھی۔
ان افراد کی لاشیں ایک ہفتے بعد تباہ شدہ گاڑیوں کے قریب قبروں سے برآمد ہوئی تھیں۔
اسرائیلی فوج نے ابتدا میں کہا تھا کہ اس کے اہلکاروں نے اندھیرے میں چلنے والی ’مشکوک گاڑیوں‘ پر فائرنگ کی تھی، جن کی ہیڈ لائٹس اور ہنگامی روشنیاں بند تھیں۔
تاہم بعد میں جب ہلاک ہونے والے طبی اہلکاروں میں سے ایک، رفعت رضوان، کے موبائل فون سے ملنے والی ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ قافلہ اپنی ہنگامی روشنیاں استعمال کر رہا تھا، اس کے بعد اسرائیلی فوج نے کہا کہ یہ مؤقف ’غلط‘ تھا۔
بدھ کو جاری بیان میں آئی ڈی ایف نے کہا: ’نتائج کا جائزہ لینے کے بعد، اور یہ پائے جانے پر کہ اس واقعے کے دوران کی گئی فائرنگ سے مجرمانہ بدانتظامی کا معقول شبہ پیدا ہوتا ہے، اس واقعے کی فوجداری تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘
غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیاں شروع ہونے کے بعد سے اب تک 73 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں گذشتہ اکتوبر میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے ہلاک ہونے والے تقریباً 1200 افراد بھی شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار غزہ کی حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے ہیں، جنھیں اقوامِ متحدہ قابلِ اعتماد سمجھتی ہے۔
آئی ڈی ایف پر دباؤ ہے کہ وہ یہ ظاہر کرے کہ وہ اپنے اقدامات کی خود تحقیقات کرتی ہے تاکہ بین الاقوامی قانونی کارروائیوں، بالخصوص بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے ممکنہ اقدامات، کا راستہ روکنے کی کوشش کر سکے۔
اس کا مقصد ان الزامات کا جواب دینا ہے کہ اس نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور یہ کہ اس کی فورسز کو جوابدہی سے استثنیٰ حاصل ہے۔
تاہم اسرائیلی حقوقِ انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز کے خلاف فوجداری تحقیقات شاذ و نادر ہی سزا پر منتج ہوتی ہیں۔
اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم یش دین کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر زیو شٹال نے بی بی سی کو بتایا کہ ’فوجیوں اور کمانڈروں کے خلاف مبینہ جرائم سے متعلق موصول ہونے والی شکایات کی تعداد کے مقابلے میں فردِ جرم عائد کیے جانے کے واقعات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔‘
’اور ان سے بھی کم ایسے معاملات میں، جہاں کسی فوجی یا کمانڈر کو سزا سنائی جاتی ہے، دی جانے والی سزائیں غیر متناسب طور پر نرم ہوتی ہیں اور ان کا جرائم کی سنگینی سے بہت کم تعلق ہوتا ہے۔‘