خط میں کہا گیا ہے کہ ’ہم سیاست دان نہیں ہیں، ہم صرف ایک سابق کولیگ کے طور پر ایک خط لکھ رہے ہیں، جنھوں نے کرکٹ کے میدان میں عمران خان کے ساتھ وقت گزارا ہے اور یہ ایک ایسا کھیل ہے جو سرحدوں اور نظریات سے ہٹ کر لوگوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔‘
’عمران خان کو بغیر کسی تاخیر کے طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ اُن کی آنکھ کا علاج کیا جائے اور اہلخانہ کو ہر ہفتے اُن سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔‘
یہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے نام دنیائے کرکٹ کے سابق کپتانوں کی جانب سے لکھے گئے خط کا متن ہے جس میں ایک بار پھر حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ عمران خان کو طبی سہولیات فراہم کرے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب سابق وزیرِ اعظم کے دوست سابق کپتانوں نے پاکستان کی حکومت کے نام اس نوعیت کا خط لکھا ہو۔ رواں برس فروری میں بھی 14 سابق کپتانوں نے خط لکھا تھا، لیکن اب 21 سابق کپتانوں کی جانب سے یہ خط لکھا گیا ہے۔
جن سابق کپتانوں نے وزیرِ اعظم پاکستان کے نام خط لکھا ہے، ان میں سابق انڈین کپتان سنیل گواسکر، کپل دیو اور دلیپ وینگسرکر شامل ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق خط لکھنے والوں میں سابق انگلش کپتان مائیک اتھرٹن، گریگ چیپل، این چیپل، ارجونا رانا ٹونگا، لی جرمون، ایلن بارڈر، ناصر حسین، ایلسٹر کک، اینڈریو سٹراس، سٹیو وا، ڈیوڈ گاور، جان رائٹ اور سر کلائیو لائیڈ بھی شامل ہیں۔
یہ خط ایسے وقت میں لکھا گیا ہے جب سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو 20 اگست کی شب راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے پمز ہسپتال لایا گیا تھا، جہاں اُن کے طبی معائنے کے بعد اُنھیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔
اس سے پہلے سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم کو علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، لیکن حکومت نے اُنھیں پمز لانے کی یہ دلیل پیش کی تھی کہ پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے شفا ہسپتال کے راستے اور باہر پیدا کی گئی سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے اُنھیں شفا ہسپتال نہیں لے جایا جا سکتا تھا۔
حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ پمز میں طبی معائنے کے بعد وہ صحت مند پائے گئے تھے۔ تاہم پاکستان تحریکِ انصاف نے اسے عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی تھی۔ خیال رہے کہ حکومت نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی درخواست کی تھی۔

’مکمل، آزادانہ طبی معائنہ کرایا جائے‘
چھ ماہ قبل 14 سابق کپتانوں نے عمران خان کی صحت سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا تھا، لیکن اب مزید سات سابق کپتان اس میں شامل ہو گئے ہیں۔
اب اس خط میں تین مطالبات کیے گئے ہیں جن میں عمران خان کی ہسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد، اہل خانہ کی ملاقاتوں کی اجازت اور طبی معائنے کے مطابق علاج شامل ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ’ہم سیاست دان نہیں ہیں، ہم صرف سابق کولیگ کے طور پر ایک خط لکھ رہے ہیں، جنھوں نے کرکٹ کے میدان میں عمران خان کے ساتھ وقت گزارا ہے اور یہ ایک ایسا کھیل ہے جو سرحدوں اور نظریات سے ہٹ کر لوگوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔‘
خط میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے ایک آزادانہ میڈیکل بورڈ کے ذریعے عمران خان کے طبی معائنے کا حکم دیا تھا ’لیکن ہماری اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات کے برعکس سرکاری ڈاکٹرز کی ٹیم نے اُن کا معائنہ کر کے اُنھیں فِٹ قرار دے دیا۔‘
سابق کپتانوں کی جانب سے لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کو عمران خان کی صحت، اور خاص طور پر ان کی دائیں آنکھ کی بینائی جانے کی اطلاعات کا ’مکمل اور آزادانہ جائزہ لینے کی اجازت دی جائے۔‘

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عمران خان کی ہر ہفتے اُن کے اہلخانہ سے ملاقات کروائی جائے اور اس میں کسی بھی قسم کی انتظامی تاخیر یا رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
سابق کپتانوں کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ عمران خان کے طبی معائنے کے بعد بغیر کسی تاخیر کے اُن کا علاج شروع کیا جائے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی عمر 73 برس ہو چکی ہے، اور وہ تین سال سے جیل میں ہیں۔ ’اس کیس کے جو بھی قانونی محرکات ہوں لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں طبی معائنے کا مطالبہ متنازع نہیں ہے۔‘
خیال رہے کہ رواں برس فروری میں سابق آسٹریلوی کپتان گریگ چیپل نے دیگر 13 سابق ٹیسٹ کپتانوں کے ساتھ مل کر ایک خط لکھا تھا جس میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ عمران خان کو اپنے مرضی کے ڈاکٹروں سے علاج اور اہلخانہ کے ساتھ ملاقاتوں کی اجازت دی جائے۔
اہلخانہ اور ذاتی معالج کے تحفظات اور حکومتی توجیہ
حکومت کی جانب سے تاحال ان سابق کرکٹرز کے خط پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم عمران خان کو پمز ہسپتال لانے سے متعلق وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے کہا تھا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر حکومت ایسا کرنے پر مجبور ہوئی۔
ایکس پر جاری اپنے بیان میں اُنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ طبی معائنہ پمز ہسپتال میں کرایا گیا جس میں شفا ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی طرف سے جو سکیورٹی کی صورتحال شفا ہسپتال کے راستے میں اور باہر پیدا کی گئی اس کے پیش نظر ان کو پمز ہسپتال لے جایا گیا اور طبی معائنے کے مطابق وہ ’صحت مند‘ پائے گئے۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ان کو پہلے بھی طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور اب بھی جب ان کو ضرورت پڑے گی طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

پمز میں طبی معائنے کے دوران عمران خان سے ملاقات کرنے والی اُن کی بہن ڈاکٹر عظمی خان نے بعدازاں ایک نیوز کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان نے انھیں بتایا کہ انھیں کیسے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور درخواست کے باوجود اُن کا علاج نہیں کروایا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا دیرینہ مؤقف ہے کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل میں قید تنہائی کا سامنا ہے اور انھیں مناسب علاج معالجے کی سہولت میسر نہیں ہے اور اسی بنیاد پر پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس پر فیصلہ کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے تین رُکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم کو شفا ہسپتال منتقل کرنے اور وہاں علاج کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ سُنایا تھا۔
ڈاکٹر عظمی خان نے کہا تھا کہ 'وہ (عمران خان) بار بار ایک ہی بات کہہ رہے تھے کہ میرے ساتھ ظلم ہوا ہے، مجھ پر ٹارچر ہوا ہے۔ میں اُن (جیل حکام) کو کہتا تھا کہ (محمد) مرسی کو بھی ایسے ہی مارا گیا تھا۔ میں اُن (جیل حکام) کو اپنی صورتحال بتاتا تھا مگر یہ علاج نہیں کرواتے تھے۔ میں نے اُنھیں بتایا کہ مرسی کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا گیا تھا۔۔۔'
فروری میں لکھے گئے خط کے بعد پاکستان میں سوشل میڈیا پر یہ بحث چھڑ گئی تھی کہ اس خط میں کسی بھی پاکستانی سابق کپتان کا نام شامل نہیں ہے۔ اس کے بعد سابق کپتان وسیم اکرم اور رمیز راجہ کی جانب سے بیانات جاری کیے گئے تھے جس میں عمران خان کو طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اب اس خط میں 21 سابق کپتانوں کے نام شامل ہیں جس میں ایک مرتبہ پھر کوئی پاکستانی سابق کپتان نہیں ہے جس پر سوشل میڈیا پر بعض حلقے تنقید کر رہے ہیں۔