ہری پور سے 15 روز قبل لاپتہ ہونے والی پانچ سالہ آیت نور کی لاش کنویں سے برآمد: پولیس ملزمان تک کیسے پہنچی؟

ہری پور میں 15 روز قبل لاپتہ ہونے والی پانچ سالہ آیت نور کی لاش ایک خشک کنویں سے برآمد ہوئی ہے، جبکہ پولیس نے کیس میں چار ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل ڈیٹا اور تکنیکی شواہد کی مدد سے ملزمان تک پہنچا گیا اور ایک ملزم نے عدالت میں اغوا اور زیادتی کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔

’آیت میری اکلوتی بیٹی تھی، شام کو جب میں کام سے واپس آتا تو وہ بھاگ کر دروازے پر آتی اور پوچھتی کہ میرے لیے کیا لائے ہیں۔ گھر آنے پر وہ مجھ سے میرا موبائل مانگتی تھی۔ 10 اگست کی شام بھی میں اُس کے لیے چیز لایا تھا لیکن وہ گھر پر نہیں تھی۔‘

یہ کہنا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور کے رہائشی محمد شفیق کا، جن کی پانچ سالہ اکلوتی بیٹی آیت نور کی لاش اُس کے لاپتہ ہونے کے 15 روز بعد ایک کنویں سے ملی ہے۔ آیت کی نماز جنازہ منگل کی صبح ادا کر دی گئی ہے جس میں اہل علاقہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

آیت کی گمشدگی کی ایف آئی آر 10 اگست کو والد محمد شفیق کی مدعیت میں درج کی گئی تھی جو ایک بیکری پر کام کرتے ہیں۔ والد نے پولیس کو بتایا تھا کہ 10 اگست کو جب وہ معمول کے مطابق مغرب کے وقت کام سے گھر واپس آئے تو اُن کی اہلیہ نے انھیں بتایا کہ آیت نور شام ساڑھے پانچ بجے کھیلنے کے لیے گلی میں گئی تھی مگر ابھی تک واپس نہیں آئی۔

اس کے فوراً بعد پانچ سالہ آیت نور کی تلاش کا آغاز ہوا، جس کا اختتام 15 روز بعد (یعنی 24 اگست کو) اُس وقت ہوا جب اتوار کے روز گرفتار ہونے والے ایک ملزم کی نشاندہی پر آیت کی لاش ہری پور میں واقع یونیورسٹی روڈ کے قریب ایک گہرے اور خشک کنویں سے ملی۔

آیت کی گمشدگی اور بعد ازاں اُس کا سراغ نہ ملنے پر ہری پور میں گذشتہ کئی روز سے عوامی احتجاج بھی دیکھنے میں آ رہا تھا۔

ہری پور پولیس کے مطابق اس واقعے میں ملوث چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں ایک کی عمر 18 سال سے کم ہے۔

ہری پور کے ضلعی پولیس افسر شفیع اللہ گنڈا پور کے آفس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گرفتار ہونے والے چار ملزمان میں سے ایک نے عدالت کے روبرو بچی کے اغوا اور ریپ کا اعتراف کیا ہے، جسے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔

اس کیس کے تفتیشی افسر شفیق الرحمان نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ فی الحال تحقیقات جاری ہیں اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے علاوہ ڈی این اے کے نمونے بھی تجزیے کے لیے لیباریٹری بھجوائے گئے ہیں۔

منگل کی صبح آیت نور کی تدفین کے بعد ان کے والد محمد شفیق نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں صبح کام پر جلدی چلا جاتا ہوں اور اُس وقت آیت نور سو رہی ہوتی تھی۔ شام کو میری بیٹی کو میرا انتظار ہوتا تھا۔ میں جیسے ہی گھر میں داخل ہوتا تو وہ بھاگ کر مجھ سے لپٹ جاتی، جوس مانگتی اور پھر کہتی کہ مجھے موبائل دیں بابا۔‘

محمد شفیق کے مطابق جس روز آیت نور لاپتہ ہوئی اُس روز بھی وہ اپنی بیٹی کے لیے بہت سی چیزیں لائے تھے۔ ’میں سوچ رہا تھا کہ وہ بہت خوش ہو گی، لیکن گھر آ کر معلوم ہوا کہ وہ موجود نہیں تھی۔‘

محمد شفیق کے مطابق اُن کی شادی 10 سال پہلے ہوئی تھی اور ابتدا میں اُن کی اہلیہ کے مس کیرج (حمل میں بچہ ضائع ہونا) ہوئے اور جب بالآخر ’اللہ نے ہمیں آیت نور دی تو ہماری توجہ اُسی کی پرورش پر مرکوز ہو گئی۔‘

گمشدگی کے 15 دن بعد محمد شفیق کو ہری پور ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں اپنی بیٹی کی شناخت کے لیے بُلایا گیا تھا، جہاں اپنی بچی کی لاش دیکھ کر اُن کی حالت غیر ہو گئی۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں وہ شدید صدمے میں زمین پر بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔

منگل کی صبح بھی آیت کے جنازے کے موقع پر وہ گہرے دُکھ اور غم میں نظر آئے۔ ایک ویڈیو میں وہ یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں: ’مجھے انصاف چاہیے، میری معصوم بیٹی کا کیا قصور تھا؟ مجھے انصاف چاہیے، میری بیٹی کے قاتلوں کو سزا دی جائے۔‘

آیت نور گمشدگی کیس میں تفتیش کیسے آگے بڑھی اور ملزمان کیسے گرفتار ہوئے؟

اس کیس سے منسلک پولیس کے تفتیشی افسر شفیق الرحمان کے مطابق آیت نور کی گمشدگی اور ہلاکت کے مقدمے میں اب تک چار ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ آیت نور کی تلاش کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے گئے اور اس حوالے سے تفتیش کو سائنسی بنیادوں پر آگے بڑھایا گیا۔

ہری پور کے ضلعی پولیس افسر شفیع اللہ گنڈا پور نے آج ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ آیت کی لاش گذشتہ روز (24 اگست کو) گرفتار کیے گئے ایک ملزم کی نشاندہی پر جھاڑیوں میں چھپے ایک کنویں سے برآمد کی گئی۔

ضلعی پولیس افسر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ تفتیش کے دوران 200 سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ حاصل کر کے فوٹیجز کا تجزیہ کیا گیا جبکہ 20 مشتبہ ٹیلیفون نمبروں کا ریکارڈ حاصل کر کے اُن کا بھی جائزہ لیا گیا۔

بیان کے مطابق 12 کیمرے ایسے تھے جن کی فوٹیج کی مدد سے تفتیش میں پیش رفت ممکن ہوئی اور بچی کے گھر سے نکلنے اور اسے لے جانے والے ملزمان کی شناخت ممکن ہو سکی۔ پولیس کے مطابق آیت کی گمشدگی کے بعد 21 اگست کو ایک اور 22 اگست کو دو ملزم گرفتار کیے گئے تھے، جبکہ وقوعے میں استعمال ہونے والی موٹرسائیکل بھی برآمد کر لی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے تکنیکی شواہد کی مدد سے سرچ آپریشن جاری رکھا گیا۔ ایک وقت میں 400 سے زائد پولیس اہلکاروں کے علاوہ ٹاؤن مینیجمنٹ اتھارٹی (ٹی ایم اے) اور واٹر اینڈ سینیٹیشن اتھارٹی (واسا) کے عملے نے بھی مختلف ٹیموں میں تقسیم ہو کر علاقے میں تلاش کا کام کیا۔

پولیس بیان کے مطابق تلاش کے دوران نالوں، گٹروں، گھنے گھاس والے علاقوں، یونیورسٹی آف ہری پور کے اطراف، کھاد فیکٹری گراؤنڈ، پٹھان کالونی سے ملحقہ علاقوں، خالی پلاٹوں اور ویران مقامات کی مسلسل تلاشی لی جاتی رہی۔

مقامی صحافی بلال اقبال کہتے ہیں کہ اگرچہ تین ملزمان کو چند روز قبل ہی گرفتار کر لیا گیا تھا، تاہم آیت کی لاش کی برآمدگی میں کافی تاخیر ہوئی، اور اس تاخیر پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ضلعی پولیس افسر کے بیان کے مطابق تفتیش کے دوران کئی چیلنجز کا سامنا بھی رہا کیونکہ مقدمے میں ملوث بعض ملزمان کم عمر تھے اور شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے اُن کے نام پر موبائل سِم رجسٹر نہیں تھیں۔ پولیس کی انفارمیشن ٹیکنالوجی ٹیم نے ملزمان کے اہلخانہ اور دیگر مشتبہ نمبروں کا ریکارڈ حاصل کر کے تکنیکی تجزیہ کیا جس کی بنیاد پر وہ ملزم گرفتار ہوا جس کی نشاندہی پر آیت نور کی لاش برآمد ہوئی۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی تفتیش میں ملزم نے بچی کے ساتھ ریپ کا اعتراف کیا ہے، تاہم ریپ اور قتل سے متعلق الزامات کے حتمی تعین کے لیے طبی اور فرانزک شواہد کے ساتھ ساتھ عدالتی کارروائی کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔

ہری پور پولیس نے ملزمان سے ہونے والی تفتیش کے بعد اب اس مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 302 (قتل)، 364 اے (14 سال سے کم عمر بچے کا اغوا)، 375 (ریپ) وغیرہ شامل کر لی ہیں۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ عدالت نے کم عمری کے باعث ایک ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر سینٹرل جیل ہری پور بھیجنے کا حکم دیا جبکہ ایک ملزم کو مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دلائی جائے گی۔

دوسری جانب آیت کے والد محمد شفیق کا کہنا ہے کہ اُن کی نہ تو کسی سے کوئی دشمنی تھی اور نہ یہ وہ جانتے ہیں کہ ملزمان نے یہ ظلم کیوں کیا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US