آیت نور کے والد نے میزبان مدیحہ نقوی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ”ہم نے سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم کو دیکھا۔ وہ بچی کو اپنے ساتھ بلاتا ہوا نظر آیا اور یہیں سے ہمیں اس کے بارے میں سراغ ملا۔ پولیس کے پاس موجود یہ واحد فوٹیج تھی، اس کے بعد گلی میں کوئی کیمرا نہیں تھا، اس لیے ہمیں معلوم نہیں ہوسکا کہ میری بیٹی کے ساتھ آگے کیا ہوا۔ پولیس نے 10 روز تک کوئی کارروائی نہیں کی، جس کے بعد ہم نے احتجاج کا فیصلہ کیا۔ احتجاج کے باوجود بھی کئی بار تاخیر ہوئی، تاہم بعد میں کچھ پیش رفت ہوئی اور پولیس نے ہمیں وہ ویڈیو دکھائی۔“
”میں نے ویڈیو دیکھی تو ایک 11 سالہ لڑکے یوسف کو پہچان لیا، جو پٹھان تھا اور میرے گھر کے قریب رہتا تھا۔ وہ اکثر ہمارے گھر کے باہر کھیلتا تھا۔ میں نے پولیس کو بتایا کہ مجھے یقین ہے یہی بچی کو لے کر گیا ہے، لیکن اس وقت میرے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا۔ پہلے دن ہی میں نے پولیس کو اس لڑکے کے بارے میں بتایا تھا۔ میں نے اس کے بڑے بھائی سے بھی پوچھ گچھ کی تو اس نے کہا کہ گھر میں کوئی موجود نہیں تھا۔“
”ہم نے اپنی طرف سے بھی تلاش جاری رکھی تو معلوم ہوا کہ اس معاملے میں مزید لوگ بھی ملوث ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی لڑکا پہلے دن میرے ساتھ مل کر ملزم کو تلاش کرنے کی کوشش بھی کر رہا تھا۔ وہ صرف 11 سال کا تھا، اس نے میری بیٹی کے ساتھ زیادتی کی اور پولیس کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا۔“
پانچ سالہ آیت نور اگست 2026 میں خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور سے لاپتہ ہوئی تھی۔ تقریباً 15 روز تک تلاش کے بعد اس کی لاش یونیورسٹی روڈ پر واقع ایک گودام کے کنویں سے برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق کیس میں متعدد مشتبہ افراد کی نشاندہی ہوئی، جن میں سے تین کو گرفتار کیا گیا۔
آیت نور کے والد کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج سے ملنے والے ابتدائی سراغ نے تفتیش کا رخ تبدیل کیا، جبکہ بعد کی تحقیقات میں مزید مبینہ ملزمان کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا۔ والد کے بیان کے مطابق گرفتار افراد میں سے ایک کم عمر لڑکے نے پولیس کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا۔