اسلام آباد پولیس کا دعویٰ ہے کہ اہلکار مولانا فضل الرحمان کی گلی میں ’غلط فہمی‘ کے سبب پہنچے، جبکہ سی ڈی اے کا مؤقف ہے کہ شہر میں جہاں بھی بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں، وہاں نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔
جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی اسلام آباد میں واقع رہائش گاہ پر پولیس اہلکاروں کی آمد اور ’تجاوزات کے خاتمے‘ کے لیے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کا جاری کیا گیا نوٹس، حکومت اور جے یو آئی ایف کے درمیان سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھاتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
اسلام آباد پولیس کا دعویٰ ہے کہ اہلکار مولانا فضل الرحمان کی گلی میں ’غلط فہمی‘ کے سبب پہنچے، جبکہ سی ڈی اے کا مؤقف ہے کہ شہر میں جہاں بھی بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں، وہاں نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب گذشتہ ہفتے پارلیمنٹ میں وفاقی وزرا اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان شدید تنقید جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔
جے یو آئی (ف) کا دعویٰ ہے یہ اقدامات مولانا فضل الرحمان کی حکومت پر تنقید کا نتیجہ ہے اور انھیں ’ہراساں‘ کرنے کے مترادف ہے۔
پولیس کو ’غلط فہمی‘
جے یو آئی (ف) کی جانب سے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے، جس میں پولیس اہلکاروں کو مولانا فضل الرحمان کے گھر کے باہر دیکھا جا سکتا ہے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ کے بیٹے مولانا اسجد محمود نے اس حوالے سے جاری ایک بیان میں کہا کہ ’پولیس اہلکاروں کا رات گئے مولانا صاحب کی رہائش گاہ پر آنا ہراساں کرنے کے مترداف ہے۔‘
دوسری جانب اسلام آباد کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) سٹی خرم اشرف نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پولیس گذشتہ رات 'غلط فہمی' کی بنیاد پر مولانا فضل الرحمان کے گھر کے باہر پہنچی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ 'سوشل میڈیا پر کسی نے ویڈیو وائرل کی تھی جس میں دعویٰ کیا جارہا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ کے باہر انصار الاسلام کے کارکن کچھ لوگوں کو روک کر انھیں چیک رہے ہیں۔'
انھوں نے کہا کہ اسی معاملے کی تصدیق کے لیے پولیس کی ٹیم کو مولانا فضل الرحمان کی گلی میں بھیجا گیا تھا، لیکن ایس پی سٹی کے مطابق 'وہاں پر ایسا کچھ نہیں تھا۔'
انھوں نے مزید کہا کہ 'ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی نے حالات کو خراب کرنے اور پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کی تھی۔'
مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ کو نوٹس
سی ڈی اے کی ڈپٹی ڈائریکر بلڈنگ کنٹرول کی جانب سے جاری نوٹس میں مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ کے باہر لان میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
نوٹس کے مطابق سی ڈی اے کی اراضی پر گارڈ پوسٹس اور جنریٹر کی تنصیب بھی ان مبینہ خلاف ورزیوں میں شامل ہے۔
سی ڈی اے نے ہدایت کی ہے کہ یہ مبینہ خلاف ورزیاں 15 روز کے اندر ختم کی جائیں، بصورت دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ عدم تعمیل کی صورت میں عمارت سیل کرنے اور مبینہ غیر قانونی تعمیرات مسمار کرنے کی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
سی ڈی اے کا مؤقف
سی ڈی اے کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹرز میں جہاں کہیں بھی بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے، انہیں نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
ان کے مطابق سی ڈی اے کسی شخصیت کو مدنظر رکھ کر کارروائی نہیں کرتا بلکہ جہاں بھی بلڈنگ قوانین یا منظور شدہ نقشے کی خلاف ورزی سامنے آتی ہے وہاں نوٹس جاری کیے جاتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ شہری علاقوں کے علاوہ سی ڈی اے کی حدود میں آنے والے مضافاتی علاقوں میں بھی خلاف ورزیوں پر نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور متعلقہ افراد کو 15 روز کے اندر تجاوزات ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
جے یو آئی (ف) کا ردعمل
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ترجمان محمد اسلم غوری کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ کے باہر نوٹس اس وقت چسپاں کیے گئے جب انھوں نے دو روز قبل پارلیمنٹ کے اجلاس میں حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ سیکٹر جی سکس فور کی اسی گلی میں دیگر گھروں کے باہر بھی سکیورٹی گارڈز کے کیبن اور جنریٹر نصب ہیں، تاہم مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ کے علاوہ کسی اور گھر کو نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ جب تک شہر بھر میں موجود تمام تجاوزات کے خلاف یکساں کارروائی نہیں ہوتی، اس وقت تک مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ کے باہر موجود مبینہ تجاوزات نہیں ہٹائی جائیں گی۔
خواجہ آصف نے الزام عائد کیا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کی قیادت خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد اپنا حصہ مانگ رہی تھیاسلم غوری نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کا مدارس چلانے سے کوئی تعلق نہیں اور مدارس کے معاملات وفاق المدارس اور متعلقہ تنظیمیں خود دیکھتی ہیں۔
ان کے مطابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کو اس بات پر تشویش ہے کہ جمعیت علمائے اسلام پنجاب میں بھی اپنی سیاسی بنیادیں مضبوط کر رہی ہے۔
انھوں نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا نام لیے بغیر الزام عائد کیا کہ ایک پالیسی کے تحت پنجاب میں مسلم لیگ (ن)، سندھ میں پیپلز پارٹی اور خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام کے سیاسی کردار کو مخصوص انداز میں ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔
سیاسی کشیدگی کیوں بڑھی؟
گذشتہ دنوں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران مولانا فضل الرحمن نے وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر خارجہ کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ وہ ایوان میں موجود ہیں جبکہ وزیر داخلہ ایران میں بیٹھ کر دفاعی معاہدے کر رہے ہیں۔
اپنی تقریر کے دوران انہوں نے خواجہ آصف کا جملہ دہراتے ہوئے کہا تھا: ’کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔‘
مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر بھی حکومت پر تنقید کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق صدرِ مملکت اس وقت گورنر راج نافذ کر سکتے ہیں جب وہ اس بات پر مطمئن ہوں کہ کسی صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے اور حکومت آئینی طریقے سے نہیں چل رہی۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ متعلقہ دستاویز میں صدر کے اطمینان کا واضح ذکر موجود نہیں، اس لیے آئینی تقاضے مکمل نہیں کیے گئے۔
اس موقع پر خواجہ آصف ایوان میں موجود تھے۔
بعد ازاں خواجہ آصف اور پھر وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعیت علمائے اسلام کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اب انہیں ریاست کی جانب سے مزید ’اکاموڈیٹ‘ نہیں کیا جائے گا۔
خواجہ آصف نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ جمعیت علمائے اسلام کی قیادت خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد اپنا حصہ مانگ رہی تھی۔