آن لائن دعوت نامہ اور نہ ہونے والی شادی کا جشن، جو 11 خواتین کے لیے زندگی کے خوبصورت ترین سفر کی وجہ بنا

جب ان کے منگیتر کو ایک میڈیکل ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی طے شدہ شادی اور رشتہ دونوں ختم ہو گئے، تو برجٹ ڈیوانی چاہتیں تو خاموشی سے زندگی کے اس باب کو بند کر دیتیں۔ مگر انھوں نے اس کے برعکس ایک ایسا قدم اٹھایا جو بیک وقت حیران کن بھی تھا اور امید افزا بھی۔

جب ان کے منگیتر کو ایک میڈیکل ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی طے شدہ شادی اور رشتہ دونوں ختم ہو گئے، تو برجٹ ڈیوانی چاہتیں تو خاموشی سے زندگی کے اس باب کو بند کر دیتیں۔

مگر انھوں نے اس کے برعکس ایک ایسا قدم اٹھایا جو بیک وقت حیران کن بھی تھا اور امید افزا بھی۔ انھوں نے انٹرنیٹ پر لوگوں کو دعوت دی کہ وہ شمالی آئرلینڈ آئیں اور اس شادی کا جشن منائیں جو کبھی ہو ہی نہ سکی۔

اس دعوت پر جو ردِعمل سامنے آیا، وہ خود ایک غیر معمولی کہانی بن گیا۔ دنیا کے مختلف حصوں سے 11 اجنبی خواتین نے ان کی دعوت قبول کی اور دل شکستگی اور محرومی کے اس تجربے کو دوستی، رفاقت اور یادگار مہم جوئی سے بھرے ایک ناقابلِ فراموش ہفتے میں بدل دیا۔

برجٹ اور ان کی ان ’غیر روایتی سہیلیوں‘ کے لیے یہ تجربہ اس بات کی خوشگوار یاد دہانی ثابت ہوا کہ انسان اگر تلاش کرے تو اپنائیت، ہمدردی اور برادری کا احساس غیر متوقع جگہوں پر بھی مل سکتا ہے۔

ایک زمانے میں ایلوپمنٹ یعنی خاندان اور دوستوں کی بڑی تقریب کے بغیر خاموشی سے شادی کرنے کا تصور خفیہ رومانوی تعلقات سے جوڑا جاتا تھا، مگر اب یہ رجحان بدل چکا ہے۔ آج کل بہت سے جوڑے خوبصورت قدرتی مناظر کے درمیان سادہ مگر یادگار تقریبات کے ذریعے ازدواجی زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔

اسی رجحان کے تحت متعدد جوڑے آئرلینڈ کے دلکش اور سنگلاخ ساحلی علاقوں کا رخ کرتے ہیں تاکہ وہاں ایک مختصر اور نجی تقریب میں ایک دوسرے سے عہد و پیمان باندھ سکیں۔

آئرلینڈ کے علاقے کاؤنٹی کیری کے شہر کلارنی سے تعلق رکھنے والی برجٹ ڈیوانی کہتی ہیں کہ انھوں نے فیصلہ کیا کہ یہ فوٹو شوٹ اداسی کی علامت بننے کے بجائے ’زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے‘ کا موقع بنے گا۔

علیحدگی کے بعد امریکہ اور آئرلینڈ کے شہر کلارنی کے درمیان وقت گزارنے والی برجٹ ڈیوانی شدید صدمے اور ذہنی پریشانی کا شکار تھیں۔

اسی سال اپریل میں ایک فوٹوگرافر نے ای میل کے ذریعے ان کی ملتوی شدہ شادی کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا تو انھیں احساس ہوا کہ اب فیصلہ کرنے کا وقت آ گیا ہے کہ وہ اس صورتحال سے کیسے نمٹیں گی۔

ایک دوست نے مشورہ دیا کہ وہ اپنے گمنام سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر خواتین کے لیے ایک سفر کا اعلان کریں۔ یہ خیال غیر متوقع طور پر مقبول ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے انھیں سینکڑوں خواتین کی جانب سے دلچسپی اور سوالات موصول ہونے لگے۔

برجٹ نے بی بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ’جب ان خواتین نے اس سفر کے لیے درخواست دی تو وہ میرا نام تک نہیں جانتی تھیں۔ انھیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ میں کیسی دکھتی ہوں یا میری کہانی کیا ہے۔‘

امریکی ریاست یوٹاہ سے تعلق رکھنے والی ڈیزائن کنسلٹنٹ جینے پیٹٹ نے یہ دعوت یکم اپریل کو دیکھی۔

وہ ہنستے ہوئے یاد کرتی ہیں کہ ’وہ اپریل فول کا دن تھا، اس لیے پہلے مجھے لگا کہ شاید یہ مذاق ہے، لیکن برجٹ مسلسل کہہ رہی تھیں کہ ’یہ مذاق نہیں ہے!‘

جینے کے مطابق ’بچپن سے ہمیں اجنبی لوگوں سے محتاط رہنے کی جو تعلیم دی جاتی ہے، اس لمحے وہ سب جیسے پس منظر میں چلی گئی۔‘

جینے، جو گروپ فوٹو میں نیچے بائیں جانب ٹوپی پہنی نظر آتی ہیں، کہتی ہیں کہ ابتدا میں انھیں واقعی یقین نہیں آیا تھا کہ یہ دعوت حقیقی ہے، مگر جلد ہی انھیں احساس ہو گیا کہ وہ ایک غیر معمولی اور یادگار تجربے کا حصہ بننے جا رہی ہیں۔

چند ماہ کے دوران برجٹ نے ممکنہ شرکا کے سوالات کے جواب دیے اور سفر کی منصوبہ بندی میں مصروف ہو گئیں، جبکہ امریکہ، کینیڈا اور ویلز سے تعلق رکھنے والی خواتین نے شمالی آئرلینڈ میں ان کا ساتھ دینے کی خواہش ظاہر کی۔

اس سفر میں شامل ہونے والی ہر خاتون کی اپنی ایک منفرد کہانی اور وجہ تھی۔

امریکی ریاست یوٹاہ سے تعلق رکھنے والی جینے پیٹٹ کہتی ہیں کہ انھیں برجٹ کی پوسٹ ایک ایسے وقت میں نظر آئی جب وہ اپنی 40ویں سالگرہ کے قریب تھیں اور زندگی کے ایک نئے مرحلے سے متعلق غیر متوقع جذبات کا سامنا کر رہی تھیں۔

جینے کے بقول ’میں نے سوچا کہ یہ میری طرف سے خود کو دیا جانے والا سالگرہ کا تحفہ ہے، اس لیے میں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے ضرور جانا چاہیے۔‘

جو سفر ابتدا میں محض سیر و تفریح کا ایک موقع محسوس ہو رہا تھا، وہ جلد ہی ایک گہرے انسانی تعلق اور باہمی حمایت کی کہانی میں بدل گیا۔

جینے کہتی ہیں کہ ’میں ان خواتین سے ملنا چاہتی تھی اور اس دلہن کی حمایت کرنا چاہتی تھی جس کی شادی نہ ہو سکی۔ میں اپنی ذات کے دائرے سے نکل کر کچھ مختلف کرنا چاہتی تھی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’میں خود کو تنہا محسوس کر رہی تھی۔ مجھے لگتا تھا جیسے کوئی میری پروا نہیں کرتا اور میری اہمیت نہیں ہے۔ زندگی کے درمیانی دور میں داخل ہوتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ میں اپنے لیے بھی کچھ کروں۔‘

منی سوٹا سے تعلق رکھنے والی شانا جانسن کے لیے اس سفر کی کشش کچھ اور تھی۔ ان کے بہت سے دوست اب اپنی خاندانی زندگیوں میں مصروف تھے اور اپنے شریکِ حیات اور بچوں کے ساتھ سفر کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ ایسے میں جب انھوں نے برجٹ کی دعوت سوشل میڈیا پر دیکھی تو انھیں ایک منفرد موقع نظر آیا۔

شانا کہتی ہیں کہ ’مجھے سفر کرنا پسند ہے، اس لیے میں نے سوچا کیوں نہ دیکھا جائے کہ آخر یہ معاملہ کیا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ایک کے بعد ایک قدم اٹھاتے ہوئے انھوں نے اس سفر کے لیے نام درج کروا لیا، بغیر اس پر زیادہ غور کیے کہ وہ آئرلینڈ میں مکمل اجنبی خواتین کے ایک گروپ کے ساتھ وقت گزارنے جا رہی ہیں۔ یہاں تک کہ انھوں نے اس فیصلے سے قبل اپنے شریکِ حیات سے باقاعدہ مشورہ بھی نہیں کیا تھا۔

تاہم ان کا یہ جرات مندانہ فیصلہ درست ثابت ہوا۔

شانا کے بقول ’ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ہم سب برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔ ہم سب بہت جلد ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل گئے تھے۔‘

اگرچہ ان میں سے کئی خواتین پہلے سوشل میڈیا اور آن لائن رابطوں کے ذریعے ایک دوسرے سے واقف ہو چکی تھیں، مگر براہ راست ملاقات ایک بالکل مختلف تجربہ تھا۔

حقیقی زندگی میں ملنے کے بعد اجنبیت کا احساس جلد ختم ہو گیا اور چند ہی دنوں میں ان کے درمیان ایسی قربت پیدا ہو گئی جس نے اس سفر کو محض ایک تفریحی دورے سے بڑھ کر دوستی، حمایت اور مشترکہ یادوں کا ایک منفرد تجربہ بنا دیا۔

اسی ماہ کے آغاز میں خواتین کے اس گروپ نے شمالی آئرلینڈ کے شمالی ساحلی علاقے میں ایک ہفتہ گزارا، جہاں انھوں نے جائنٹس کازوے، ڈارک ہیجز اور لندن ڈیری سمیت کئی مشہور مقامات کی سیر کی۔

اگرچہ ان میں سے بہت سی خواتین پہلے آن لائن ایک دوسرے سے رابطے میں رہ چکی تھیں، لیکن بالمشافہ ملاقات کا تجربہ بالکل مختلف تھا۔

جینے پیٹٹ نے بتایا کہ ’میں بہت گھبرائی ہوئی تھی۔ عام طور پر مجھے لوگوں کے چہرے اور نام یاد رکھنے میں مشکل ہوتی ہے۔‘ تاہم ان کے مطابق ابتدائی جھجک زیادہ دیر برقرار نہ رہی اور گروپ نے بہت جلد ایک دوسرے کے ساتھ گھلنا ملنا شروع کر دیا۔

برجٹ کے لیے یہ سفر خصوصی اہمیت رکھتا تھا کیونکہ اس کے دوران انھیں ان مقامات کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع ملا، جہاں جانے کا خواب انھوں نے کبھی اپنے سابق منگیتر کے ساتھ دیکھا تھا۔ ان کے بقول اس ہفتے نے پرانی یادوں کو نئے تجربات سے بدلنے میں مدد دی۔

اس سفر کا اختتام ایک منفرد تقریب پر ہوا جسے شرکا نے ’غیر شادی کا دن‘ کا نام دیا، یعنی ایسی شادی کا جشن جو کبھی منعقد ہی نہیں ہوئی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ برجٹ کے اہلِ خانہ اور دوستوں کو اس غیر معمولی سفر کے بارے میں اس وقت علم ہوا جب گروپ کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر اور پوسٹس سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہونے لگیں اور بڑی تعداد میں لوگوں کی توجہ حاصل کرنے لگیں۔

ایپک لوو فوٹوگرافی کے بانی روب ڈائٹ، جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے روایتی شادیوں کے ہنگاموں اور دباؤ سے دور نجی تقریبات کی عکس بندی کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ برجٹ اور ان کی ساتھی خواتین کے ساتھ گزرنے والا دن ان کے کریئر کے منفرد ترین تجربات میں سے ایک تھا۔

چونکہ 2024 میں طے شدہ فوٹو شوٹ کی فیس پہلے ہی ادا کی جا چکی تھی، اس لیے برجٹ کے منگیتر کو پیش آنے والی طبی ہنگامی صورتحال کے بعد روب ڈائٹ نے انھیں دو سال کی اضافی مہلت دے دی تھی۔

بعد میں جب برجٹ نے ان سے رابطہ کیا تو انھیں بتایا گیا کہ ’اب صرف میں اور میری چند سہیلیاں آ رہی ہیں۔‘

فوٹو شوٹ کے دوران روب ڈائٹ نے خواتین کے درمیان غیر معمولی قربت اور ہم آہنگی کو محسوس کیا۔ تاہم جب انھیں شوٹ کے دوران معلوم ہوا کہ یہ تمام خواتین محض تین روز قبل پہلی بار ایک دوسرے سے ملی ہیں تو وہ حیران رہ گئے۔

ان کے بقول ’یہ ایسا لمحہ تھا جس پر واقعی یقین کرنا مشکل تھا۔ یہ سب کچھ بہت خالص، فطری اور خوبصورت محسوس ہو رہا تھا۔ اسی وقت میرے ذہن میں خیال آیا کہ یہ واقعی ایک غیر معمولی اور خاص تجربہ ہے۔‘

روب ڈائٹ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس موقع پر صرف اتنا کرنے کی کوشش کی کہ خواتین کو خود کو کھل کر اظہار کرنے، خوشی منانے اور ایک دوسرے کی رفاقت سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیا جائے۔

ان کے مطابق یہ صرف ایک فوٹو شوٹ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی کہانی تھی جس میں اجنبی لوگ ایک دوسرے کا سہارا بنے اور ایک نامکمل رہ جانے والے خواب کو دوستی، حوصلے اور نئی یادوں میں بدل دیا۔

’کمرے میں ایک بھی آنکھ خشک نہیں تھی‘

فوٹو شوٹ کی یادیں تازہ کرتے ہوئے برجٹ ڈیوانی نے کہا کہ اس پورے تجربے نے انھیں غیر معمولی محبت، حمایت اور اپنائیت کا احساس دلایا۔

انھوں نے کہا کہ ’ماحول اتنا حوصلہ افزا تھا کہ مجھے محسوس ہوتا تھا، اگر ضرورت پڑے تو میں کسی بھی طرف مڑ کر کسی کو گلے لگا سکتی ہوں۔ اس دن ہر شخص دوسرے کے لیے موجود تھا۔‘

ہفتے کے آخری حصے میں گروپ نے نئی شروعات اور ذاتی بحالی کے موضوع پر ایک فلاحی نشست میں بھی شرکت کی، جسے برجٹ نے پورے سفر کے سب سے مؤثر اور یادگار لمحات میں سے ایک قرار دیا۔

انھوں نے بتایا کہ ’کمرے میں ایک بھی آنکھ خشک نہیں تھی۔‘

سفر ختم ہونے کے کئی ہفتوں بعد بھی خواتین ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں، گروپ چیٹس بدستور جاری ہیں اور مستقبل میں دوبارہ اکٹھا سفر کرنے کے منصوبوں پر بھی بات ہو رہی ہے۔

برجٹ، جو ماضی میں خود کو ضرورت سے زیادہ سوچنے والی اور دوسروں سے رابطہ قائم کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرنے والی شخصیت قرار دیتی ہیں، کہتی ہیں کہ اس تجربے نے انھیں ایک اہم سبق سکھایا۔

ان کے بقول، ’مشکلات کا اکیلے سامنا ضرور کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ آپ ہر چیز تنہا برداشت کریں۔‘

اس غیر معمولی سفر نے ان کے اس یقین کو مزید مضبوط کیا کہ دنیا میں تعلق، دوستی اور برادری کا احساس اب بھی موجود ہے، بس اسے تلاش کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔

برجٹ کہتی ہیں، ’لوگ موجود ہیں۔ بعض اوقات آپ کو ان تک پہنچنے کے لیے اپنی جھجھک توڑنا پڑتی ہے، خود کو کمزور دکھانے کا حوصلہ کرنا پڑتا ہے اور پہل کرنی پڑتی ہے۔ شاید اس میں وقت لگے، لیکن آپ کو ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ اگر آپ کوشش جاری رکھیں تو آپ کو اپنے لوگ مل جاتے ہیں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US