کراچی کے ایک نجی اسپتال میں ایک انتہائی حیران کن اور عجیب و غریب واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں خاتون کی ڈلیوری کے بعد اسپتال انتظامیہ کی جانب سے اس کے شوہر اور اہلخانہ کو بتایا گیا کہ زچہ کے ہاں "کچھ نہیں ہوا"، جس پر متاثرہ خاندان پر جیسے آسمان ٹوٹ پڑا۔
متاثرہ خاندان نے اسپتال انتظامیہ اور لیڈی ڈاکٹرز پر سنگین طبی غفلت اور 9 ماہ تک گمراہ کن رپورٹس دینے کا الزام عائد کیا ہے۔
متاثرہ خاندان کے مطابق 9 ماہ سے حاملہ خاتون کے اسپتال میں مسلسل الٹراساؤنڈ کیے جا رہے تھے اور ہر بار ڈاکٹرز کی جانب سے پیٹ میں موجود بچے کی صحت و نشوونما کے بارے میں آگاہ کیا جاتا رہا جبکہ آخر میں جنس کے بارے میں بھی بتایا گیا۔
تاہم حمل کے 37 ویں ہفتے پر جب خاتون کو سیزیرین (C-Section) آپریشن کے لیے لے جایا گیا تو آپریشن کے دوران ڈاکٹرز نے مبینہ طور پر اہلخانہ کو بتایا کہ خاتون کے پیٹ سے کوئی بچہ نہیں ملا ہے، جس کے بعد خاتون کے شوہر اور اہلخانہ کے سر پر جیسے آسمان ٹوٹ پڑا، متاثرہ خاندان سمیت اسپتال میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی اور کہرام مچ گیا۔
واقعے کے بعد متاثرہ خاندان نے اسپتال انتظامیہ، متعلقہ ریڈیولوجسٹ اور ڈاکٹرز کی طبی تشخیص پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسپتال انتظامیہ کی بات درست تسلیم کر بھی لی جائے تو الٹراساؤنڈ میں بچے کی دھڑکن اور نشوونما کا واضح نظر آنا لازمی ہوتا ہے، اس لیے اتنے طویل عرصے تک غلط تشخیص ہونا ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔
متاثرہ خاندان نے محکمہ صحت سندھ اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام الٹراساؤنڈ رپورٹس، میڈیکل ہسٹری اور آپریشن نوٹس کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے کر شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔