نئے صوبوں اور سندھ کی تقسیم جیسے حساس معاملے پر یکطرفہ فیصلہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ کراچی بار کے وکیل کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر حمایت اور مخالفت، دونوں طرح کی آرا موجود ہیں، اس لیے منتخب کمیٹی اکیلے پوری کراچی بار، کراچی یا سندھ کی نمائندگی کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر جنرل باڈی کا اجلاس بلا کر دونوں مؤقف سنے جائیں اور کھلی بحث و قرارداد کے بعد ہی وکلا کنونشن منعقد کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کراچی بار کی قیادت کی جانب سے استعمال کی گئی مبینہ بازاری اور اشتعال انگیز زبان پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ لسانی بنیادوں پر گفتگو وکلا کے اتحاد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
وکیل نے زور دیا کہ سندھی، مہاجر، پٹھان، پنجابی، سرائیکی اور بلوچ سمیت تمام وکلا کی آوازوں کو سن کر اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا جائے، بصورت دیگر وہ اپنے ساتھی وکلا کے ساتھ مل کر الگ سے کنونشن بلانے پر مجبور ہوں گے۔