پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس سے متعلق تحریک التوا پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم یا نئے صوبوں کی باتیں نہ ملکی مفاد میں ہیں اور نہ ہی عوام کے مفاد میں، بلکہ یہ مطالبہ کرنے والے ملک میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ آئین کے تحت صوبائی اسمبلی دوتہائی اکثریت سے ہی صوبے کی حدود میں تبدیلی کی منظوری دے سکتی ہے، جبکہ ایوان میں پیپلز پارٹی کے پاس دو تہائی اکثریت موجود ہے اور اسمبلی یہ قرارداد منظور کرے گی کہ سندھ ایک ہے اور ہمیشہ ایک ہی رہے گا۔
نثار کھوڑو نے وفاقی وزراء اور مخالفین کے مطالبات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو لوگ نئے صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ ایک اسپتال تک نہیں سنبھال سکتے، اور اگر ان کو اپنی مقبولیت کا زعم ہے تو وہ دو سال بعد ہونے والے عام انتخابات میں اپنی طاقت آزما لیں۔
انہوں نے تاریخی حوالوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں ڈویژنز کی صورت میں پہلے ہی انتظامی یونٹس موجود ہیں اور امریکی ریاست کیلیفورنیا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ اتنی بڑی ہو کر ایک ریاست رہ سکتی ہے تو سندھ بھی ایک صوبہ رہے گا۔ انہوں نے ماضی کے آمریت کے ادوار، غیر جماعتی انتخابات اور 58 ٹو بی جیسے قوانین کی مذمت کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ سندھ کو بلوچستان کی طرح افراتفری کی طرف دھکیلنے کی کسی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔