7 اگست کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ معاہدے کے تحت یہ پہلا اجلاس پیر کے روز استنبول میں ہوا ہے۔ اجلاس کے بعد ترک وزیر خارجہ نے بتایا ہے کہ اتحاد کی سربراہی کے لیے پاکستان سے کسی شخص کو نامزد کرنے پر اتفاق رائے موجود ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو ’صرف ترکی ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔‘
7 اگست کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ معاہدے کے تحت یہ پہلا اجلاس پیر کے روز استنبول میں ہوا ہے۔ اجلاس کے بعد ترک وزیر خارجہ نے بتایا کہ اس اتحاد کا باقاعدہ نام ’مکہ دفاعی اتحاد‘ ہے اور اس کے پہلے سیکریٹری جنرل کے لیے پاکستان سے کسی شخص کو نامزد کرنے پر اتفاق رائے ہے۔
اجلاس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور فوجی سربراہان پر مشتمل سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی نے اتحاد کے لیے لائحۂ عمل اور عسکری امور میں تعاون کے عملی اقدامات پر بات چیت کی۔
اجلاس کے بعد ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے میڈیا کو تفصیلات بتائیں۔
ایک موقع پر ان سے سوال کیا گیا کہ ’اسرائیلی سرکاری بیانیے میں ترکی کو ایک سٹریٹیجک خطرے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، اسرائیل کے اس بیانیے اور اقدامات کو انقرہ کس طرح دیکھتا ہے؟‘
جواب میں ترک وزیر خارجہ نے اسرائیلی وزیر اعظم کو ’پوری دنیا کے لیے خطرہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو ’اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے نیتن یاہو کو روکنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کی پالیسیوں سے خطے، اسرائیل، یہودی عوام اور دنیا کے دیگر حصوں کو مزید نقصان نہ پہنچے۔‘
حاقان فیدان نے مزید کہا کہ ’جو قاتل فلسطینیوں اور مسلمانوں کا خون بہا کر لطف اندوز ہوتا ہے، اسے ضرور روکا جانا چاہیے۔‘
صدر رجب طیب اردوغان، پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیرِ اعظم محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے 7 اگست کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے ترک وزیر خارجہ نے کیا بتایا؟
میڈیا سے بات چیت کے دوران ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں اور مزید ممالک کی شمولیت کے لیے بھی کھلا ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے حاقان فیدان نے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد خطے میں امن، سلامتی اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اتحاد ریاستوں کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت جیسے بین الاقوامی اصولوں پر قائم ہے۔
ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ اتحاد کسی مخصوص ریاست کے خلاف نہیں بلکہ ان تمام ممالک کے لیے کھلا ہے جو ان اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں مزید ممالک بھی اس اتحاد میں شامل ہوں گے۔
پریس کانفرنس میں ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے بتایا کہ مکہ معاہدے کے تحت ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دینے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
معاہدے کے مطابق ایک سیکریٹریٹ قائم کیا جانا تھا، جو ریاض میں قائم کر دیا گیا ہے۔
ترک وزیر خارجہ کے مطابق پہلے سیکریٹری جنرل کے لیے پاکستان سے امیدوار نامزد کرنے پر بھی عمومی اتفاق رائے موجود ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے اثرات عالمی سطح پر بھی مرتب ہوتے ہیں، ’گذشتہ تین دہائیوں کے واقعات نے ظاہر کیا ہے کہ خطے کے مسائل کا مؤثر حل اسی وقت ممکن ہے جب علاقائی ممالک خود ان کی ذمہ داری لیں، ایک دوسرے کی خود مختاری اور سلامتی کا احترام کریں اور باہمی اعتماد پر مبنی ڈھانچہ قائم کریں۔‘
ان کے مطابق مکہ دفاعی اتحاد سے خطے میں استحکام کو فروغ ملے گا اور غیر یقینی کی صورتحال میں کمی آئے گی جس سے سرمایہ کاری اور ترقی کے مواقع بھی بڑھیں گے۔
اجلاس میں شرکت کرنے والے سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’ہم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ معاہدے کے مختلف پہلوؤں کو فعال بنانے کا عمل آگے بڑھایا جائے گا تاکہ مشترکہ سیاسی اور دفاعی تعاون کو فروغ دیا جا سکے اور امن و استحکام کو تقویت ملے۔‘

مشترکہ اعلامیہ
مکہ معاہدے کی سٹریٹیجک، پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’علاقائی ذمہ داری کے احساس کے تحت، تینوں ممالک نے پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیے مکہ معاہدے کے فریم ورک کے اندر مل کر کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس مقصد کے لیے وہ بحرانوں کے پرامن حل کی حوصلہ افزائی کرنے اور کشیدگی میں کمی اور تحمل کی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔‘
پیر کے اجلاس کے بارے میں بتایا گیا کہ ’اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ مکہ معاہدے کے تحت اپنے تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ان کی یکجہتی کو مضبوط بنایا جا سکے، اجتماعی دفاع اور مزاحمتی صلاحیت کی ساکھ اور مؤثریت کو یقینی بنایا جا سکے، اور منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے لیے علاقائی کوششوں اور اشتراکی سلامتی میں معاونت فراہم کی جا سکے۔‘
مشترکہ اعلامیے کے مطابق سعودی عرب میں ’ایک سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا‘اس حوالے سے سعودی عرب میں ’ایک سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا، جس کی سربراہی ایک سیکریٹری جنرل کریں گے تاکہ مکہ معاہدے کے فریم ورک کے تحت ان کے کام میں معاونت فراہم کی جا سکے۔ ابتدائی طور پر اس سیکریٹریٹ کی سربراہی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک سیکریٹری جنرل تین سال کی مدت کے لیے کریں گے۔‘
مزید یہ کہا گیا ہے کہ ’مشترکہ سرگرمیوں کے ذریعے تینوں ممالک مضبوط دفاعی صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی مشترکہ ترقی اور پیداوار کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں اور اپنی مسلح افواج کے باہمی ہم آہنگی کو بھی مضبوط بنانے کے لیے کام کریں گے۔‘
’مکہ معاہدے کے ادارہ جاتی اور پُرعزم نفاذ کے ذریعے تینوں ممالک علاقائی امن اور استحکام میں اہم کردار ادا کریں گے۔‘