میر رضا کے معاملے میں قبر کشائی کے بعد تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ اور فرانزک ٹیم کی حتمی رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں ماہرین نے متفقہ طور پر قرار دیا ہے کہ موت کے شواہد خودکشی کے مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتے۔
حتمی رپورٹ کے مطابق میر رضا کو گولی پشت کی جانب سے لگی جو چھٹی پسلی کو توڑتی ہوئی، پھیپھڑے کو نقصان پہنچانے اور دل کو پھاڑنے کے بعد سینے کے اگلے حصے سے باہر نکل گئی۔ موت کی بنیادی وجہ شدید اندرونی چوٹ اور دل کا پھٹنا قرار دی گئی ہے۔
فرانزک جانچ میں میر رضا کی شرٹ کے پشت اور سامنے دونوں حصوں پر گولی کے سوراخ پائے گئے، جبکہ پشت کے سوراخ کے اطراف گن شاٹ ریزیڈیو (بارود کے ذرات) کی مقدار زیادہ ملنے کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ متوفی کے دونوں ہاتھوں اور زخموں سے حاصل کیے گئے نمونوں میں بھی گن شاٹ ریزیڈیو کے آثار ملے ہیں۔
کیمیکل اور ٹاکسیکولوجی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خون کے نمونے سے بے ہوشی کی دوا کی معمولی مقدار کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، تاہم جسم میں دیگر کسی قسم کے نشہ آور یا زہریلے مادوں کے قابلِ شناخت آثار نہیں پائے گئے۔