وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے صوبے کی تقسیم کے مطالبات پر اپوزیشن بالخصوص ایم کیو ایم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سندھ کی جغرافیائی اور تاریخی حیثیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ فروری 1948 میں کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی کوششوں سے لے کر ون یونٹ تک، سندھ کو ہمیشہ ایسے چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم عوام نے ہمیشہ سندھ کی تقسیم کی کوششوں کو رد کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے آئینی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو 1973 کا متفقہ آئین دیا جس میں صوبائی خودمختاری کی ضمانت دی گئی تھی، تاہم بعد میں آمر ضیا الحق نے آئین میں ترمیم کر کے صوبوں کے اختیارات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے سندھ اسمبلی بار بار قراردادیں پاس کر کے قومی اسمبلی کو خبردار کرتی ہے کہ سندھ کی تقسیم پر بات بھی نہ کی جائے۔
انہوں نے ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے متضاد بیانات کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مصطفیٰ کمال ایڈمنسٹریٹو یونٹس اور ڈویژنز کو صوبے بنانے کی بات کرتے ہیں، خالد مقبول صدیقی امریکا میں بیٹھ کر نئے صوبوں کی حمایت کرتے ہیں اور فاروق ستار نئے یونٹس اور چیف ایگزیکٹو کی تجاویز دیتے ہیں، لیکن اسمبلی میں آ کر تمام ارکان سندھ کی تقسیم سے مکر جاتے ہیں۔ اگر ایم کیو ایم سچی ہے اور سندھ کا بٹوارہ نہیں چاہتی تو واضح اعلان کرے کہ مصطفیٰ کمال ان کا حصہ نہیں ہیں۔
خطاب کے دوران انہوں نے "اندرون سندھ" کی اصطلاح پر بھی سخت اعتراض اٹھایا اور سوال کیا کہ کیا کراچی بیرون سندھ ہے؟ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کیا پنجاب میں کبھی "اندرون پنجاب" یا "لاہور اور پنجاب" کی تفریق سنی گئی ہے؟
وزیراعلیٰ نے مہاجر قیادت کے رویے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بزرگ بھی ہجرت کر کے سندھ آئے تھے لیکن انہوں نے اس دھرتی کو اپنایا۔ انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ بھی سندھ کو دل سے اپنائیں گے تو یہ دھرتی آپ کو بھی وہی عزت اور مقام دے گی جو مجھے اور بلوچوں کو دی ہے۔ سندھ سے محبت کرنے سے پاکستان سے محبت کم نہیں بلکہ اور بڑھ جاتی ہے۔