انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کے تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے کشمیری علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک نے سرینگر کی ایک عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں اپنے خلاف مقدمے کی پیروی نہ کرنے کا اعلان کرتےہوئے عدالت سے اپنے آپ کو سزائے موت دینے کی درخواست کی ہے۔

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے کشمیری علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک نے سرینگر کی ایک عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں خود کو سزائے موت دینے کی درخواست کی ہے۔
چند روز قبل انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) نے اپنی چارج شیٹ میں 1990 میں ہونے والے سرلا بھٹ قتل کیس کے ماسٹر مائنڈ کے طور پر یاسین ملک کو نامزد کیا تھا۔
انڈیا کی جانب سے کالعدم اور علیحدگی پسند قرار دی گئی جماعت ’جموں کشمیر لبریشن فرنٹ‘ کے رہنما یاسین ملک نے 27 اگست کو سرینگر میں ٹاڈا/پوٹا عدالت کے ایڈیشنل سیشنز جج کے سامنے جمع کرائے گئے حلف نامے میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث نہیں ہیں۔
یہ حلف نامہ وکیل ابو عادل پنڈت کی جانب سے عدالت میں جمع کرایا گیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ابو عادل پنڈت نے کہا کہ اُن کی گذشتہ دنوں تہاڑ جیل میں یاسین ملک سے ملاقات ہوئی تھی جہاں یہ حلف نامہ تحریر کیا گیا، جسے یاسین ملک کی ہدایت پر انھوں نے عدالت میں جمع کروایا ہے۔
اُن کے مطابق اس حلف نامے پر جیل حکام کے بھی دستخط ہیں اور اسے خود یاسین ملک نے لکھ کر ان کے حوالے کیا تھا۔
سرلا بھٹ قتل کیس کی پیروی کرنے والی انڈیا کی نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے) کے اہلکار اور تہاڑ جیل کے حکام نے بھی بی بی سی کو اس حلف نامے کی تصدیق کی ہے۔
اس حلف نامے میں یاسین ملک نے اپنے خلاف دائر اس مقدمے کی مزید پیروی نہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا کہ انھیں سزائے موت دے دی جائے۔ جبکہ اس حلف نامے میں یاسین ملک نے پاکستان میں مقیم اپنی اہلیہ مشال ملک کو بھی ’نکاح سے آزاد کرنے‘ کا اعلان کیا ہے۔
بی بی سی نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے مشال ملک سے رابطے کی کوشش کی تاہم اُن سے رابطہ نہیں ہو پایا۔
حلف نامے میں سزائے موت اور استخارے کا ذکر
یاسین ملک دلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں (جیل کا مرکزی دروازہ)تہاڑ جیل میں قید یاسین ملک نے عدالت میں جمع کرائے گئے اپنے اس حلف نامے کو عدالت کے سامنے اپنا ’آخری بیان‘ قرار دیا ہے۔
اُن کے مطابق استخارے (مذہب اسلام میں خدا سے رہنمائی حاصل کرنے کا طریقہ) اور اپنے حالات پر غور و فکر کے بعد انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے خلاف مقدمے کا مزید دفاع یا پیروی نہیں کریں گے۔
اپنے طویل حلف نامے میں یاسین ملک نے تفصیلی انداز میں حالات و واقعات بیان کیے ہیں، جو اُن کے مطابق ظاہر کرتے ہیں کہ اُن کا اس کیس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔
تاہم انھوں نے واضح کیا ہے کہ اس فیصلے کو جرم کے اعتراف یا استغاثہ کے الزامات کو تسلیم کرنے کے مترادف نہ سمجھا جائے۔ اس کے باوجود، انھوں نے عدالت سے 'سزائے موت' دینے کی درخواست کی ہے۔
حلف نامے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایس آئی اے افسران نے دو اور تین جون 2026 کو تہاڑ جیل میں یاسین ملک سے ہاتھ سے لکھے گئے ایک مبینہ نوٹ کے بارے میں پوچھ گچھ کی، جو مبینہ طور پر جائے وقوعہ سے برآمد ہوا تھا، اور اس الزام کے بارے میں بھی سوالات کیے کہ انھوں نے سرلا بھٹ کے قتل کا حکم دیا تھا۔
خیال رہے کہ سرلا بھٹ شیر کشمیر انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں نرس تھیں جنھیں اپریل 1990 میں قتل کیا گیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب کشمیر میں شدت پسندی کی تحریک اپنے عروج پر جاری تھی۔
بی بی سی کو دستیاب یاسین ملک کے اس حلف نامے کے تمام صفحات پر یاسین ملک کے انگوٹھے کے نشان اور جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی مہر اور دستخط موجود ہیں۔
حلف نامے کا ایک بڑا حصہ یاسین ملک کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات اور روابط کے بیان پر مشتمل ہے۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ سنہ 2000 میں جیل سے رہائی کے بعد اُس وقت کی بی جے پی قیادت والی حکومت نے ان کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کیا تھا۔
ان کے مطابق انھوں نے موجودہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول (جو اس وقت انٹیلیجنس بیورو کے سینیئر افسر تھے)، شیامل دتہ اور سابقہ قومی سلامتی کے مشیر برجیش مشرا سمیت کئی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ مشرا نے انڈیا، پاکستان مذاکراتی عمل کے تحت حکومت کے سینیئر عہدیداروں سے اُن کی ملاقاتوں کا انتظام بھی کیا تھا۔
انھوں نے امریکہ میں اپنے علاج سے متعلق انڈین حکومت کی مالی معاونت سے متعلق بھی تفصیل فراہم کی ہے۔

یاسین ملک کے مطابق جب وہ جانز ہاپکنز ہسپتال میں طبی معائنے کے عمل سے گزر رہے تھے تو انڈین سفارتخانے نے ان کے ایک دوست سے رابطہ کر کے بتایا کہ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے اُن کے علاج کے لیے 50,000 امریکی ڈالرز کی رقم منظور کی تھی۔
یاسین ملک کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے یہ رقم قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اُن کا مزید دعویٰ ہے کہ بعد ازاں مشرا نے نئی دہلی سے انھیں فون کر کے بتایا کہ واجپائی ذاتی طور پر اُن کی صحت کے بارے میں فکر مند ہیں۔
یاسین ملک نے اس حلف نامے میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ اُس وقت امریکہ میں پاکستان کے سفیر نے ایک ساتھی کے ذریعے اُن کے طبی اخراجات کے لیے 30,000 امریکی ڈالر کا انتظام کیا تھا، جسے انھوں نے مسترد کر دیا۔ ان کے مطابق، علاج کے اخراجات بالآخر جے کے ایل ایف کی برطانیہ شاخ نے ادا کیے۔
بی بی سی اِن دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
حلف نامے میں انھوں نے 1990 میں لگنے والی چوٹوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق، 8 اپریل 1990 کو ایک پانچ منزلہ عمارت سے گرنے کے باعث انھیں شدید چوٹیں آئیں، وہ بے ہوش رہے اور طویل عرصے تک زیر علاج رہے۔ وہ اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے استغاثہ کے اس الزام کو چیلنج کرتے ہیں کہ ایسی حالت میں 19 اپریل کو وہ سرلا بھٹ کے قتل کی ہدایت کیسے دے سکتے ہیں۔
انھوں نے سنہ 1992 میں اپنی اوپن ہارٹ سرجری کا بھی ذکر کیا ہے جس کی وجہ سے اُن کے چہرے پر فالج کے اثرات ظاہر ہوئے جو تاحال موجود ہیں۔
انھوں نے سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث نہ ہونے کے شواہد کے طور پر جموں کشمیر کے سابق گورنر جگموہن کی کتاب ’مائی فروزن ٹربولینس اِن کشمیر‘ کا حوالہ بھی دیا ہے، جس میں ان کے مطابق جگموہن نے اس قتل کے حوالے سے ان کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔
انھوں نے حلف نامے میں یہ بھی الزام لگایا ہے کہ سنہ 2019 اور سنہ 2024 کے انتخابات میں سیاسی فائدے کے لیے اُن کے نام کو استعمال کیا گیا۔ انھوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی نے فلم ’کشمیر فائلز‘ کو لوگوں سے دیکھنے کی اپیل کی اور اس دوران نیشنل ٹی وی چینلوں پر سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ساتھ ملاقات کی گئی اُن کی تصویریں دکھائی جاتی رہیں۔
انھوں نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس کا مقصد انھیں کشمیری پنڈتوں کے قتل اور ہندو خواتین کے خلاف جرائم میں ملوث ثابت کیا جا سکے۔
انڈین حکومت نے تاحال یاسین ملک کے ان دعوؤں اور الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے۔
یاسین ملک نے حلف نامے میں لکھا کہ سرلا بھٹ ’اُتنی ہی معصوم تھیں جتنی میری 13 سالہ بیٹی رضیہ سلطانہ معصوم ہیں۔‘
بیوی کو ’نکاح سے آزاد کرنے‘ کا اعلان
حلف نامے کے آخری حصے کی ابتدا انھوں نے معروف اُردو شاعر فیض احمد فیض کے اس شعر سے کی ہے:
یہ ہمیں تھے جن کے لباس پر سر رہ سیاہی لکھی گئی
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سر بزم یار چلے گئے
اس حصے میں یاسین ملک نے اپنی اہلیہ مشال ملک اور بیٹی رضیہ سلطانہ کا ذکر کیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ کئی برسوں سے اُن سے رابطہ نہیں کر سکے ہیں۔ انھوں نے الزام لگایا کہ انھیں نہ تو فون پر بات کرنے دی جاتی ہے اور نہ ہی ویڈیو کال کے ذریعے۔
جذباتی انداز میں یاسین ملک نے لکھا کہ ’میں جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ گزارا وقت محدود اور غیر یقینی بھرا تھا۔ آپ (مشال ملک) مجھ سے 20 سال چھوٹی ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ آپ میری بیوہ کے طور پر ساری زندگی میرے حالات کو جھیلیں۔‘
’اس لیے میری گزارش ہے کہ آپ ہمت کریں اور زندگی کا ایک نیا باب وقار اور امید کے ساتھ شروع کریں۔ میں ہمیشہ اس دنیا اور آخرت میں آپ دونوں سے محبت کرتا رہوں گا، آپ کو یاد اور آپ کی عزت کروں گا۔'
حلف نامے میں پھانسی کی استدعا سے پہلے انھوں نے لکھا کہ انھوں نے اپنی اہلیہ کو ’نکاح سے آزاد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘ اپنے اس فیصلے کی وضاحت کے لیے انھوں نے نیلسن منڈیلا کی قید کے دوران ازدواجی رشتے سے علیحدگی کا ذکر بھی کیا ہے۔
انھوں نے اپنی بیٹی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں نے گذشتہ آٹھ سالوں سے آپ کی آواز نہیں سُن سکا۔ آج قید تنہائی میں آپ کی یاد میرے ساتھ ہے۔ میری کال کوٹھری میں صرف میں اور آپ کی تصویر ہے۔‘
’میں آپ کی خوشی، حفاظت اور روشن مستقبل کے لیے دعاگو ہوں۔‘
یاسین ملک کون ہیں؟
60 سالہ یاسین ملک سرینگر کے مرکزی علاقہ مائی سوما میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ اُن درجنوں نوجوانوں میں شامل تھے جنھوں نے سنہ 1987 میں نیشنل کانفرنس کے خلاف بنے مسلم متحدہ محاذ کے تحت انتخابی مہم چلائی۔ ان انتخابات میں بے پناہ دھاندلیوں کے خلاف انھوں نے مظاہرے بھی کیے اور گرفتار بھی ہوئے۔
انھوں نے سنہ 1994 میں مسئلہ کشمیر کے حل کی خاطر غیرمسلح سیاسی جدوجہد کا اعلان کیا اور عہد کیا کہ وہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کشمیریوں کی شمولیت کے لیے سیاسی اور سفارتی کوششیں کریں گے۔
یاسین ملک نے سنہ 2007 میں کشمیر کے ہزاروں قصبوں کا دورہ کیا اور ’سفرِ آزادی‘ کی مہم کے دوران نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ پُرامن سیاسی جدوجہد ہی کشمیر کے مسئلے کو حل کر سکتی ہے۔
وہ بعد میں اُس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ سے نئی دلی میں ملے اور انھیں ’سفر آزادی‘ کی ریکارڈنگ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’کشمیری امن چاہتے ہیں، وہ مذاکرات میں کردار چاہتے ہیں، کشمیر تشدد سے عدم تشدد کی طرف آیا ہے، اس کے احترام میں زیادتیاں بند ہونی چاہیے اور مذاکرات کا آغاز ہونا چاہیے۔‘
یاسین ملک کی شادی پاکستانی شہری مشال ملک سے ہوئی اور اُن کی ایک بیٹی بھی ہے۔ تاہم مشال ملک کو کئی برسوں سے انڈین حکومت کشمیر آنے کی اجازت نہیں دے رہی۔
تین سال قبل جب یاسین ملک نے تہاڑ جیل میں طبّی سہولیات کے فقدان کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کی تھی تو مشال ملک نے کانگریس کے رہنما راہُل گاندھی کو ایک خط لکھا تھا جس میں اُن سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی گئی تھی۔