میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں قائم جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے دوران میر رضا کے بزنس پارٹنر، آن لائن ٹیکسی ڈرائیور اور وینڈر عبداللہ کے بیانات قلمبند کیے گئے۔
کمیشن نے وینڈر عبداللہ سے میر رضا کے کمرے اور گاڑی کی تلاشی سے متعلق سوالات کیے، جس پر عبداللہ نے بتایا کہ ڈیزرٹ شاپ ان کے بھائی کا بزنس ہے اور وہ انہیں چاکلیٹ سپلائی کرتے ہیں۔
گھر میں آمدورفت اور تلاشی سے متعلق سوال پر انہوں نے وضاحت کی کہ وہ میر رضا کی والدہ اور بہن کی موجودگی میں کمرے میں گئے تھے لیکن تلاشی نہیں لی۔ انہوں نے بتایا کہ میر رضا کی گمشدگی کے بعد بھائی احمد کو اکیلا چھوڑنا مناسب نہیں لگا تھا اور 28 جولائی کو رات ڈھائی بجے آخری بار میر رضا سے بات ہوئی تھی۔
کمیشن کی جانب سے پستول غائب ہونے والی سی سی ٹی وی ویڈیو، ادائیگیوں اور نجی ڈیلنگ سے متعلق سوالات کیے گئے، جس پر عبداللہ نے بتایا کہ میر رضا نے ڈیجیٹل ٹریڈنگ کے لیے ان سے ساڑھے سات لاکھ روپے لیے تھے۔
اس پر کمیشن نے اعتراض اٹھایا کہ یہ ڈیلنگ نجی نوعیت کی ہے اور اس کا بزنس سے تعلق نہیں، نیز یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے میر رضا کی فیملی سے 22 ہزار روپے مانگے تھے، جس کی عبداللہ نے تردید کی جبکہ میر رضا کی والدہ نے کہا کہ انہیں ادائیگی کی معلومات عبداللہ کے بتانے پر ہوئی۔
کارروائی کے دوران کمیشن نے عبداللہ پر تنقید کی کہ وہ قدم قدم پر پیسے مانگ رہے تھے، جبکہ وکیل جبران ناصر نے نشاندہی کی کہ میر رضا سے بات کرنے کے بعد عبداللہ کا فون ڈھائی گھنٹے بند رہا، جس پر عبداللہ نے کہا کہ دن میں فون کا استعمال زیادہ ہوتا ہے اور انہیں 36 گھنٹے حراست میں بھی رکھا گیا۔
کمیشن نے معاملے پر ایس ایچ او گلستان جوہر کامران قریشی اور ہیڈ محرر ذیشان کو آئندہ اجلاس کے لیے طلب کرتے ہوئے کارروائی 7 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احمد اور عبداللہ کے وکیل خالد ممتاز ایڈووکیٹ نے کہا کہ میر رضا نے عبداللہ کو بتایا تھا کہ اس کے والد نے ایک گڑ بڑ کردی ہے اور میر رضا اپنے والد کا ساڑھے چار کروڑ روپے کا قرضہ چکا رہا تھا۔
انہوں نے موقف اپنایا کہ ان کے موکلین بطور گواہ پیش ہوئے تھے مگر ان سے ملزم کی طرح سوالات کیے گئے، جبکہ تفتیش کے لیے میر رضا کے والد سے فون مانگا گیا لیکن انہوں نے نہیں دیا۔