کراچی کے کارساز حادثے میں باپ اور بیٹی کی ہلاکت کے مقدمے میں نامزد نتاشا کو ایک اور کیس میں بھی بری کردیا گیا۔ عدالت نے ملزمہ کو امتناعِ منشیات کے مقدمے سے بری کرتے ہوئے قرار دیا کہ میڈیکل شواہد میں منشیات کے استعمال کی تصدیق نہیں ہوئی۔
عدالت کے مطابق نتاشا کے خون کے نمونوں میں منشیات کے استعمال کی علامات نہیں ملیں، جس کے باعث اس مقدمے میں بھی استغاثہ اپنا الزام ثابت نہ کرسکا۔
اس سے قبل ملزمہ کو کارساز حادثے کے مقدمے میں بھی بری کیا جاچکا ہے۔ متاثرہ خاندان کی جانب سے عدالت میں صلح نامہ جمع کرایا گیا تھا، جس میں اہلِ خانہ نے اللہ کی رضا کے لیے ملزمہ کو معاف کرنے کا مؤقف اختیار کیا تھا۔ عدالت نے صلح نامہ منظور کرتے ہوئے نتاشا کو حادثے کے مقدمے سے بھی بری کردیا تھا۔
یہ حادثہ 19 اگست 2024 کو کراچی کے کارساز روڈ پر پیش آیا تھا، جہاں تیز رفتار گاڑی نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی تھی۔ حادثے میں موٹر سائیکل سوار باپ اور اس کی بیٹی جاں بحق جبکہ تین افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے ڈرائیور کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا، جس پر پولیس نے موقع سے نتاشا کو گرفتار کرکے طبی معائنے کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا تھا۔