رمابائی نے کبھی ریس لگانے کی باقاعدہ تربیت حاصل نہیں کی تھی۔ ان کے پاس نہ کھیلوں کے جوتے تھے اور نہ ہی ٹریک سوٹ۔ ان کا لباس صرف ایک ساڑھی تھا اور پاؤں میں عام سینڈل تھیں لیکن ان کے اندر ممتا نے ان کو تین کلو میٹر کی ریس جیت جانے کی لگن اور ہمت دی۔
’جب تک میرے جسم میں سانس ہے، میں اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلواؤں گی۔ جس دن میری سانس رک گئی، پھر بےشک جو ہونا ہے ہو جائے۔ لیکن ایک ماں ہونے کے ناطے میں اپنا فرض ضرور نبھاؤں گی۔‘
اپنے بچی کے لیے نوٹ بک اور پین خریدنے کے لیے مہاراشٹر کی رمابائی رنویر تین کلومیٹر دوڑیں اور وہ بھی ننگے پاؤں۔
رمابائی نے کبھی ریس لگانے کی باقاعدہ تربیت حاصل نہیں کی تھی۔ ان کے پاس نہ کھیلوں کے جوتے تھے اور نہ ہی ٹریک سوٹ۔
ان کا لباس صرف ایک ساڑھی تھا اور پاؤں میں عام سینڈل تھیں لیکن ان کے اندر کی ممتا نے ان کو تین کلومیٹر کی ریس جیت جانے کی لگن اور ہمت دی۔
رما بائی نے بتایا کہ ’میری بیٹی صبح میرے پاس آئی اور کہنے لگی ’ماں، میں دوڑ میں جانا چاہتی ہوں۔‘ میں نے پوچھا، کہاں؟ اس نے کہا، 'یہاں دوڑ ہو رہی ہے اور انعام بھی ملے گا۔ مجھے ایک نوٹ بک اور قلم خریدنا ہے۔‘
ان کی سب سے چھوٹی بیٹی مہاراشٹر کے شہر ناندیڑ میں پڑھتی ہیں۔ وہ کئی دنوں سے کتابیں خریدنے کے لیے ماں کے لیے پیسوں کا تقاضہ کر رہی تھیں۔
رمابائی کہتی ہیں کہ ’میرے پاس پیسے نہیں تھے، اس لیے میں اسے نہیں بھیج سکی۔ اس نے آٹھ دن تک مجھ سے بات نہیں کی۔ تب میں نے طے کر لیا کہ مجھے کسی نہ کسی طرح یہ دوڑ جیتنی ہے۔‘
29 اگست کو مہاراشٹر بھر نے بیڈ ضلع کے امباجوگئی میں رہنے والی 47 سالہ رمابائی رنویر کو دیکھا۔
وجہ یہ تھی کہ انھوں نے ننگے پاؤں تین کلومیٹر کی دوڑ جیت لی۔ لیکن یہ کہانی صرف ایک ریس جیتنے کی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی ماں کی کہانی ہے جو اپنی بیٹیوں کی تعلیم کے لیے دوڑی۔
29 اگست کو امباجوگئی میں ’امرت دوڑ میراتھن‘ کا انعقاد کیا گیا۔
ماں کی زندگی کی ایک اور دوڑ
رما بائی کے لیے تین کلو میٹر کی یہ دوڑ آسان نہ تھی۔
بھاگنے کے دوران ان کے سینڈل بار بار پاؤں سے نکل جاتے تھے۔ آخرکار انھوں نے جوتے ہاتھ میں اٹھائے اور ننگے پاؤں دوڑنا شروع کر دیا۔
مقابلہ ختم ہوا تو وہ پہلی پوزیشن پر تھیں اور انھیں 3,000 روپے نقد انعام میں ملے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے اس رقم کا کیا کیا؟ تو رما بائی نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ ’میں نے وہ 3,000 روپے اپنی بیٹی کو کتابیں خریدنے کے لیے دے دیے۔‘
2012 میں رما بائی کے شوہر کی وفات ہو گئی تھی اور تب سے ان کی زندگی کی اصل دوڑ شروع ہو چکی تھی۔
دو جوان بیٹیوں اور پورے خاندان کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر آ گئی۔
رمابائی نے خود تو صرف ساتویں جماعت تک تعلیم حاصل کی تھی، لیکن ان کا عزم تھا کہ ان کی بیٹیوں کی پڑھائی میں کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔
ان کی بیٹی پوجا رنویر کہتی ہیں کہ ’ہم بہت چھوٹے تھے جب میرے والد فوت ہو گئے تھے۔ ایک عورت دوسری شادی کر سکتی تھی، لیکن میری والدہ نے ایسا نہیں کیا۔ انھوں نے ساری زندگی ہمارے لیے محنت کرنے کا فیصلہ کیا۔‘
رمابائی کا کہنا ہے کہ انھوں نے وہ ہر کام کیا جو وہ کر سکتی تھیں۔
’میں نے دوسروں کے کھیتوں میں کام کیا۔ میں نے سویابین چننے کی دیہاڑی کی، جو بھی کام ملا، میں نے وہ کیا۔‘
آج کل وہ امباجوگئی کی گیان دیپ اکیڈمی میں گذشتہ ایک سال سے طلبہ کے لیے کھانا پکا رہی ہیں۔
ان کی بڑی بیٹی اسی اکیڈمی میں پولیس کے امتحان کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ چھوٹی بیٹی ناندیڑ میں مقابلے کے امتحانات کی تیاری کر رہی ہے۔
رما بائی کی اس جیت پر علاقے سے سب ہی لوگ خوش ہیں۔
گیان دیپ اکیڈمی کے پروفیسر دتاتھرے تھوراڈے نے کہا کہ ’انھوں نے نہ صرف پورے مہاراشٹر بلکہ پورے ملک کے لیے ایک مثال قائم کی ہے کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، ان کا مقابلہ صرف خود اعتمادی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔‘
’میری بیٹیوں کو مالی خودمختار ہونا چاہیے‘
اپنی بیٹیوں کے لیے رمابائی کے خواب بڑے نہیں ہیں، لیکن وہ بہت واضح ہیں۔
ان کی ایک ہی خواہش ہے کہ ان کی بیٹیاں اپنی ماں کی طرح مزدوری کر کے زندگی نہ گزاریں بلکہ پڑھ لکھ کر افسر بنیں اور اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں۔
’میں اپنی دونوں بیٹیوں کوزندگی میں ٹھنڈی چھاؤں یعنی محفوظ زندگی فراہم کرنا چاہتی ہوں۔‘ ان کے مطابق ’ہمیں ایک ہی چھت کے نیچے خوشی سے رہنا چاہیے۔ میری بیٹیوں کو میری طرح کیچڑ، دھوپ اور بارش میں کام نہیں کرنا پڑے۔‘
رما بائی کے یہ الفاظ ان کی پوری جدوجہد کا نچوڑ بیان کرتے ہیں۔
رمابائی کے ننگے پاؤں دوڑنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور مہاراشٹر بھر سے انھیں سراہا گیا۔
اس کے بعد انڈیا کے میڈیا نے بھی ان کی جدوجہد کو دنیا کے سامنے پیتش کیا۔ دی ہندو، ٹائمز آف انڈیا اور اکنامک ٹائمز جیسے اخبارات نے بھی ان پر خبریں شائع کیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شاید رمابائی کو یہ معلوم بھی نہ ہو کہ ان کی جدوجہد قومی سطح پر موضوعِ بحث بن چکی ہے۔
ان کے لیے زیادہ اہم کیا ہے؟ اپنی بیٹیوں کی فیس، کتابیں اور ان کی اعلیٰ تعلیم۔
رمابائی کی کہانی سامنے آنے کے بعد بہت سے لوگوں نے اسے ’استقامت اور حوصلے کی ایک متاثر کن داستان‘ قرار دیا۔
لیکن مصنف اور محقق سومناتھ کولوے اسے مختلف انداز سے دیکھتے ہیں۔
انھوں نے لکھا کہ ’انڈیا کا متوسط طبقہ شاید اسے استقامت کی ایک کہانی کے طور پر دیکھے۔ بہت سے لوگ ایک ماں کی جدوجہد کو سراہیں گے۔ لیکن کتنے لوگ یہ سوچیں گے اور خود سے سوال کریں گے کہ وہ اس صورتحال تک پہنچی ہی کیوں؟‘
حکومت، سماجی نظام اور معیشت پر سوالات
سومناتھ کولوے کے مطابق رمابائی صرف ایک مقابلے میں نہیں دوڑ رہیں، بلکہ وہ اپنی بیٹیوں کی تعلیم کے لیے ایسے سماجی، معاشی اور سیاسی حالات میں جدوجہد کر رہی ہیں جو ان کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم ماں کی محنت اور ثابت قدمی کو دیکھتے ہیں، لیکن دوسرا رخ نظرانداز کر دیتے ہیں۔ یہ واقعہ حکومت، سماجی نظام اور معیشت کا اصل چہرہ سامنے لاتا ہے۔‘
ان کی یہ بات ایک اہم سوال بھی اٹھاتی ہے۔ رمابائی اس لیے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنیں کیونکہ انھوں نے دوڑ جیت لی۔ لیکن ایسی بے شمار مائیں ہیں جو ہر روز کھیتوں میں، دیہاڑی مزدوری میں اور غیر منظم شعبوں میں کام کر کے اپنے بچوں کی تعلیم کا خرچ اٹھاتی ہیں۔ کیا معاشرہ بھی ان کی جدوجہد پر توجہ دیتا ہے؟
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اس ماں کے بارے میں سب کو اس لیے معلوم ہوا کیونکہ وہ اپنی بیٹیوں کی تعلیم کے لیے دوڑی۔ لیکن ایسی بہت سی مائیں ہیں جو روزانہ اسی طرح بھاگ دوڑ کر کے بچے پال رہی ہیں۔‘
رمابائی کی کہانی ایک اور پریشان کن سوال بھی سامنے لاتی ہے۔ کیا یہ صرف ذاتی غربت کا مسئلہ ہے کہ ایک ماں کو اپنی بیٹیوں کے لیے کتابیں خریدنے کی خاطر تین ہزار روپے کا انعام جیتنے کے لیے دوڑ میں حصہ لینا پڑے؟
سومناتھ کولوے کہتے ہیں کہ صرف سرکاری منصوبوں کا اعلان کرنا کافی نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ ان کے فوائد واقعی ضرورت مند لوگوں تک پہنچیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’صرف منصوبوں کا اعلان کر دینا اس بات کی ضمانت نہیں کہ ان کے فوائد لوگوں تک پہنچ گئے ہیں۔ ضروری ہے کہ انھیں مؤثر طریقے سے نافذ بھی کیا جائے۔‘
رمابائی آج بھی باورچی کے طور پر کام کرتی ہیں۔ آج بھی اپنی بیٹیوں کی تعلیم کے لیے پیسے جمع کرتی ہیں۔
رمابائی کہتی ہیں کہ ’جب تک میرے جسم میں سانس ہے، میں اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلوانے کے لیے کوشش کرتی رہوں گی۔‘