حالیہ ہفتوں میں یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے جس کے بعد پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے دفاعی اتحاد کے کردار پر بھی بات ہو رہی ہے۔ لیکن یمن کے حوثی کون ہیں اور سعودی عرب سے ان کا تنازع کیا ہے؟

حالیہ ہفتوں میں یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے جس کے بعد پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے دفاعی اتحاد کے کردار پر بھی بات ہو رہی ہے۔
لیکن یمن کے حوثی کون ہیں اور سعودی عرب سے ان کا تنازع کیا ہے؟
سعودی حکام کے مطابق حوثیوں نے درجنوں ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے سعودی عرب میں توانائی کی تنصیبات اور دیگر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سعودی فوج اور وزارتِ توانائی کے مطابق منگل کو ہونے والے ان حملوں میں ملک کے جنوب مغربی حصے کے چار شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے نتیجے میں تیل کی تنصیبات اور دیگر مراکز میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث بعض مقامات پر کام عارضی طور پر روکنا پڑا۔
یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا ہے کہ اس کی افواج اس ’خطرناک کشیدگی‘ کا جواب دیں گی۔
ادھر حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے شمال مغربی یمن میں ان علاقوں پر سعودی عرب کے حالیہ درجنوں حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں جو ان کے زیرِ کنٹرول ہیں۔
پیر کے روز حوثیوں نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے الحزم شہر میں ایک جیل پر بمباری کی، جس میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق 20 قیدی اب بھی ملبے تلے لاپتا ہیں۔
یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ حوثیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں کا ہدف ابھا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کے شہروں میں واقع شہری اور اقتصادی مقامات تھے، اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
وزارتِ توانائی کے ایک بیان میں ایک سرکاری ذریعے کے حوالے سے کہا گیا کہ ’توانائی کے شعبے سے متعلق متعدد تنصیبات اور مراکز‘ کو نشانہ بنائے جانے کے بعد زخمیوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
بیان کے مطابق ان حملوں سے متعدد مقامات پر آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں بعض آپریشنز کو عارضی طور پر روکنا پڑا۔
ترکی المالکی نے حوثی حملوں کو ’ایک خطرناک کشیدگی‘ قرار دیا جو ’اس دہشت گرد ملیشیا کے معاندانہ اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی تصدیق کرتی ہے‘ اور کہا کہ سعودی قیادت والا اتحاد اس گروہ کو روکنے کے لیے ’تمام ضروری آپریشنل اقدامات‘ کرے گا۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی فوج پر الزام عائد کیا کہ اس نے گذشتہ تین روز کے دوران یمن کے صوبوں مأرب، البیضا، الحدیدہ، تعز اور الجوف میں 120 سے زیادہ فضائی حملے کیے اور ’سنگین جرائم‘ کا ارتکاب کیا۔
انھوں نے کہا کہ حوثیوں نے اس ’وحشیانہ جارحیت‘ کا جواب ’درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز‘ کے ذریعے دیا، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ ان سے ’نمایاں نقصان‘ ہوا۔
عرب ممالک پر مشتمل سعودی قیادت والا اتحاد ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے یمن کی تباہ کن خانہ جنگی میں حوثیوں کے خلاف یمنی حکومت کی حمایت کرتا آ رہا ہے۔
چار برس پر محیط ایک غیر اعلانیہ جنگ بندی جولائی میں اس وقت کمزور پڑنے لگی، جب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف ’بحری ناکہ بندی‘ کا اعلان کیا اور سعودی ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور بحیرہ احمر میں موجود آئل ٹینکروں پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے۔
حوثیوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی سعودی ناکہ بندی کے علاوہ صنعا ہوائی اڈے پر ہونے والے ایک فضائی حملے کا جواب دے رہے ہیں، جس کا ذمہ دار وہ سعودی عرب کو ٹھہراتے ہیں۔
جمعرات سے یمن کے جنوب مغربی ساحلی علاقے میں شدید لڑائی جاری ہے، جب حوثیوں نے باب المندب کی آبنائے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں یمنی حکومت نواز فورسز کے خلاف ایک کارروائی شروع کی۔ یہ آبنائے بحیرہ احمر کو خلیجِ عدن سے ملاتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس لڑائی میں 300 سے زیادہ افراد ہلاک اور 18 ہزار 500 بے گھر ہو چکے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بحیرہ احمر سعودی عرب سے تیل کی ترسیل کے لیے مزید اہم ہو گیا ہے، کیونکہ خلیج میں آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہو چکی ہے۔
ایران کی حوثیوں کی حمایت کی تردید ’انصار اللہ ایک خودمختار فریق ہے جو اپنے فیصلے خود کرتا ہے‘
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے گذشتہ روز حوثی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ’حوثی کئی حوالوں سے ایران کے ایجنٹ اور نمائندہ گروہ ہیں۔ میری رائے میں یہ واضح ہے کہ ان حملوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔‘
مارکو روبیو کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’انصار اللہ ایک خودمختار فریق ہے جو اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔ وہ کسی کے احکامات قبول نہیں کرتا اور نہ ہی کسی کا نمائندہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں عدم استحکام کی جڑ امریکی فوجی مداخلتوں اور اس کی بالادستی پر مبنی پالیسیوں میں تلاش کی جانی چاہیے۔ اگر واشنگٹن واقعی امن چاہتا تو وہ صرف ایک سادہ قدم اٹھاتا: ’وہ ہمارے خطے میں اپنی غلط کارروائیوں اور عدم استحکام پیدا کرنے والی مداخلتوں کا خاتمہ کرتا۔‘
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے یمن میں جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ایران کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’یمن میں امن بمباری اور بیرونی دباؤ کے ذریعے قائم نہیں کیا جا سکتا۔ امن کا آغاز فریقین کے درمیان طے شدہ روڈ میپ کی بنیاد پر مخلصانہ مذاکرات سے ہوتا ہے۔‘
امریکہ، اس کے مغربی اتحادی اور سعودی عرب کے علاقائی عرب اتحادی ممالک نے متعدد بار ایران پر یمن کے حوثیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور تہران پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ وہ یمن کو سعودی عرب کے ساتھ پراکسی وار کے لیے استعمال کر رہا ہے تاہم ایران ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
حوثی جنگجوؤں نے 21 نومبر کو بحیرہ احمر میں ایک بحری جہاز کو ہائی جیک کیا اور اس کی ویڈیو جاری کی تھیحوثی کون ہیں اور حوثی تحریک کی ابتدا کیسے ہوئی؟
حوثی ایک جنگجو گروہ ہے جس کا تعلق یمن کی اقلیت زیدی شیعہ برادری سے ہے اور یہ اپنے آپ کو ’انصار اللہ‘ بھی کہتا ہے۔ اس تحریک کی جڑیں شمالی یمن کے صوبہ صعدہ میں ملتی ہیں، جہاں اس کی بنیاد معروف زیدی عالم بدرالدین الحوثی کے صاحبزادے حسین بدرالدین الحوثی نے رکھی۔
1970 اور 1980 کی دہائیوں میں بدرالدین الحوثی یمن میں پھیلتے ہوئے سلفی اثرات کے ناقد کے طور پر سامنے آئے۔ حوثیوں کے مطابق اس دور میں یمن میں سعودی حمایت یافتہ وہابی فکر کا اثر و رسوخ بڑھ رہا تھا، جس کی انھوں نے مخالفت کی اور اس کے نتیجے میں سیاسی دباؤ کا سامنا بھی کیا۔
اس تحریک کی باقاعدہ تشکیل 1990 کی دہائی کے اوائل میں ہوئی، جب حسین الحوثی نے عملی سیاست میں حصہ لیا اور دیگر سیاسی و مذہبی رہنماؤں کے ساتھ مل کر اپوزیشن جماعت ’الحق‘ کے قیام میں کردار ادا کیا۔ بعد ازاں 1993 کے انتخابات میں انھوں نے صوبہ صعدہ سے قومی اسمبلی کی نشست جیتی، جس سے تحریک کو سیاسی شناخت ملی۔
ابتدائی طور پر حوثی تحریک کا مقصد اس وقت کے صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت میں پائی جانے والی بدعنوانی اور سیاسی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانا تھا۔ تاہم وقت کے ساتھ یہ ایک طاقتور عسکری اور سیاسی تحریک میں تبدیل ہو گئی۔ اس گروہ کا نام بھی اس کے بانی حسین الحوثی کے نام پر رکھا گیا۔
2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد حوثیوں نے ’اللہ اکبر، امریکہ مردہ باد، اسرائیل مردہ باد، اسلام کو فتح حاصل ہو‘ کا نعرہ اپنایا اور خود کو حماس اور حزب اللہ کی طرح ایران کے حمایت یافتہ اُن گروہوں کا حصہ قرار دیا جو اسرائیل، امریکہ اور مغربی طاقتوں کی مخالفت کرتے ہیں۔
یورپی انسٹیٹیوٹ آف پیس سے وابستہ یمن کے امور کے ماہر ہشام العمیسی کے مطابق حوثیوں کی تاریخ اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ وہ آج بحیرۂ احمر میں جہازرانی کو کیوں نشانہ بناتے ہیں۔ ان کے بقول حوثی اپنے اقدامات کو سامراجی طاقتوں اور امتِ مسلمہ کے دشمنوں کے خلاف جدوجہد کے طور پر پیش کرتے ہیں، اور یہی بیانیہ ان کے حامیوں میں مقبول ہے۔

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان پہلی براہِ راست فوجی جھڑپ کب ہوئی؟
سنہ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں شروع ہونے والا آپریشن ’عاصفۃ الحزم‘ (فیصلہ کن طوفان) سعودی عرب اور حوثی تحریک انصار اللہ کے درمیان پہلی فوجی محاذ آرائی نہیں تھی۔
اس سے قبل 5 نومبر 2009 کو حوثیوں نے یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت اور حوثیوں کے درمیان جاری ’چھٹی جنگ‘ کے دوران سعودی عرب کے صوبے جیزان میں واقع سرحدی گاؤں الخوبہ میں دراندازی کی۔ اس کارروائی کا مقصد سرحدی علاقے میں واقع جبل الدخان پر قبضہ حاصل کرنا تھا۔
اس کے جواب میں سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائی شروع کی اور ان سینکڑوں جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جن پر سعودی سرحدی محافظوں پر فائرنگ کا الزام تھا۔ سعودی حکام نے تین روز بعد اعلان کیا کہ انھوں نے جبل الدخان کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔
یہ لڑائی فروری 2010 تک جاری رہی۔ اس تصادم کے بعد سعودی عرب نے حوثیوں کو اپنی جنوبی سرحد کے لیے ایک ممکنہ سکیورٹی خطرے کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا، جو بعد کے برسوں میں دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی بنیاد بنا۔
یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح، جنھیں 2017 میں ہلاک کر دیا گیا تھا عرب سپرنگ سے صنعا پر حوثیوں کے قبضے اور سعودی مداخلت تک
سنہ 2011 میں یمن میں عرب سپرنگ کے تناظر میں ملک گیر احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے۔ ان واقعات کے نتیجے میں فروری 2012 میں صدر علی عبداللہ صالح نے خلیجی ممالک کی ثالثی میں طے پانے والے خلیجی اقدام کے تحت اقتدار چھوڑ دیا۔ اس منصوبے کے مطابق اقتدار ان کے نائب عبد ربہ منصور ہادی کو منتقل کیا گیا، قومی مفاہمت کی حکومت قائم کی گئی اور صالح کو اقتدار سے دستبردار ہونے کے بدلے قانونی استثنیٰ دیا گیا۔
ہادی کے صدر بننے کے بعد حوثیوں نے سیاسی کمزوری اور بدامنی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شمالی یمن میں اپنے فوجی اور سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ کیا۔ سنہ 2014 کی ابتدا میں انھیں اس وقت بڑی سیاسی تقویت ملی جب وہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کے خلاف صف آرا ہوئے۔ اس دوران حوثیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے درمیان ایک غیر اعلانیہ اتحاد بھی قائم ہوا۔ اپنے سابق حریف صالح کے ساتھ یہ مفاہمت حوثیوں کو سیاسی اور عسکری پشت پناہی فراہم کرتی رہی اور اسی حمایت کی بدولت وہ ریاستی اداروں پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے میں کامیاب ہوئے۔
یہ پیش رفت بالآخر ستمبر 2014 میں دارالحکومت صنعا پر حوثیوں کے قبضے پر منتج ہوئی۔ بعد ازاں سنہ 2015 کے آغاز میں انھوں نے اپنے گڑھ صعدہ سمیت شمالی یمن کے وسیع علاقوں پر کنٹرول مضبوط کیا، جس کے بعد صدر ہادی ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
عبد ربہ منصور ہادی کے یمن سے نکل کر سعودی عرب پہنچنے کے بعد ریاض نے مارچ 2015 میں یمنی حکومت کی حمایت کے لیے عرب ممالک کے ایک فوجی اتحاد کی قیادت میں ’عاصفۃ الحزم‘ (فیصلہ کن طوفان) کے نام سے فوجی آپریشن شروع کیا۔ اس وقت سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، جو وزیر دفاع بھی تھے، ان فوجی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے تھے۔
اس اتحاد میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر شامل تھے۔ تاہم خلیجی بحران کے بعد قطر نے 2017 میں اس اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لی۔ مصر، اردن، مراکش اور سوڈان بھی اتحاد کا حصہ تھے۔
اگرچہ ابتدا میں پاکستان کی ممکنہ شمولیت کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، تاہم اپریل 2015 میں پاکستان کی پارلیمان نے غیر جانب دار رہنے کے حق میں قرارداد منظور کی اور فوجی مداخلت میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا۔
سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی مداخلت کا مقصد حوثیوں کو پسپا کرنا اور صدر ہادی کی حکومت کو دوبارہ اقتدار میں لانا تھا۔ تاہم حوثیوں نے اس کارروائی کا مقابلہ کیا اور آج بھی یمن کے بڑے حصے پر ان کا کنٹرول برقرار ہے۔
سنہ 2017 میں سابق صدر علی عبداللہ صالح نے اپنا سیاسی مؤقف تبدیل کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مفاہمت کی کوشش کی، تاہم اسی برس حوثیوں نے انھیں ہلاک کر دیا۔
2022 میں متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں یمن سے فائر کیے گئے ڈرون کا ملبہحوثیوں کی مدد کون کرتا ہے؟
بظاہر حوثی جنگجو لبنانی عسکری شیعہ گروہ حزب اللہ سے متاثر ہیں۔
سنہ 2014 میں امریکی تحقیقی ادارے کامبیٹنگ ٹیررازم سینٹر کے مطابق 2014 سے حزب اللہ ان حوثیوں کو عسکری مہارت اور ٹریننگ مہیا کر رہا ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دشمنی کی وجہ سے حوثی ایران کو اپنا اتحادی سمجھتے ہیں۔
یہ شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ حوثیوں کو ہتھیار ایران فراہم کرتا ہے۔
امریکہ اور سعودی عرب کا الزام ہے کہ سعودی دارالحکومت ریاض پر حوثیوں کی طرف سے داغے گئے بیلسٹک میزائل ایران نے فراہم کیے تھے جنھیں اپنے اہداف پر پہنچنے سے قبل مار گرایا گیا۔
سعودی عرب نے یہ الزام بھی لگایا کہ سنہ 2019 میں حوثیوں نے جن کروز میزائلوں اور ڈرونز سے سعودی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا وہ بھی ایران نے فراہم کیے تھے۔
حوثیوں نے ماضی میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی مدد سے سعودی عرب کے متحدہ عرب امارات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

یمن کے حوثی کتنی بڑی طاقت ہیں اور ان کے قبضے میں کتنا علاقہ ہے؟
بی بی سی نیوز کی سنہ 2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت صدارتی رہنمائی کونسل (پی ایل سی) ہے، جسے اپریل 2022 میں سابق صدر عبد ربہ منصور ہادی نے اپنے اختیارات منتقل کیے تھے۔
تاہم یمن کی آبادی کا بڑا حصہ ان علاقوں میں رہتا ہے جو حوثیوں کے کنٹرول میں ہیں۔ حوثی دارالحکومت صنعا سمیت شمالی یمن کے وسیع علاقوں پر حکمرانی کرتے ہیں، مقامی انتظامیہ چلاتے ہیں اور ٹیکس وصول کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک دستاویز میں حوثی امور کے ماہر احمد البحری کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ 2010 کے قریب حوثی تحریک کے ایک لاکھ سے ایک لاکھ 20 ہزار کے درمیان جنگجو اور حامی موجود تھے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک رپورٹ کے مطابق 2020 میں حوثیوں کی جانب سے بھرتی کیے گئے 1,406 بچے لڑائی میں مارے گئے جبکہ جنوری سے مئی 2021 کے دوران مزید 562 بچوں کی ہلاکت کی اطلاع ملی۔
بحیرۂ احمر کے ساحل کے ایک بڑے حصے پر حوثیوں کا کنٹرول ہے اور وہ اس علاقے سے جہاز رانی کو متعدد بار نشانہ بنا چکے ہیں۔
یمنی امور کے ماہر ہشام العمیسی کے مطابق ان حملوں نے سعودی عرب کے ساتھ حوثیوں کے مذاکراتی مؤقف کو مضبوط کیا ہے۔
ان کے بقول: ’حوثی سعودی عرب کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ باب المندب جیسے اہم بحری راستے میں جہاز رانی کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور اسی بنیاد پر وہ زیادہ رعایتیں حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔‘
صنعا میں غذائی قلت کا شکار ایک یمنی بچہمیزائل، ڈرونز اور انسانی بحران
جنگ کے برسوں کے دوران حوثیوں نے سعودی عرب کے اندر ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور سرحدی شہروں کو نشانہ بنانے کے لیے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا۔ ان حملوں میں سب سے نمایاں ستمبر 2019 میں ابقیق اور خریص میں واقع آرامکو تنصیبات پر حملہ تھا، جس کے بارے میں واشنگٹن اور ریاض نے ایران پر اس کی پشت پناہی یا حمایت کا الزام عائد کیا تھا۔
اس وقت سعودی عرب اور امریکہ دونوں نے یہ الزام کھلے عام عائد کیا تھا کہ ایران حوثیوں کو اسلحہ، میزائل، ڈرونز اور فوجی مہارت فراہم کر رہا ہے، جبکہ ریاض حوثیوں کے ذریعے ایرانی اثر و رسوخ کو اپنی سلامتی اور جنوبی سرحدوں کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا تھا۔
سعودی قیادت والے اتحاد نے یمن کے اندر شدید فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ ریاض کو جنگ کے انسانی اثرات کے باعث بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ماہرین کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی رہا ہے۔ اس وقت اقوام متحدہ کی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ تقریباً ایک کروڑ 70 لاکھ یمنی خوراک کی شدید کمی کا شکار تھے، جن میں 70 لاکھ افراد کو قحط کے خطرے کا سامنا تھا، جبکہ ہیضے کی وبا بھی پھیلی ہوئی تھی اور تقریباً 2,000 افراد ہلاک ہو چکے تھے۔
6 اپریل 2023 کو بیجنگ میں چین کی ثالثی میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے موقع پر اُس وقت کے ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، جبکہ چینی وزیر خارجہ چِن گانگ بھی موجود تھے۔ریاض کے خدشات اور کشیدگی میں کمی کی کوششیں
یمن کی جنگ کے دوران سعودی عرب کو یہ خدشہ لاحق رہا کہ حوثی اس کی جنوبی سرحد کے ساتھ ایک طاقتور اور مستقل عسکری قوت کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔ ریاض کو یہ بھی تشویش تھی کہ حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کی صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ایران اس گروہ کو خطے میں اپنے اثر و رسوخ کے فروغ کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بحیرۂ احمر اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں میں جہاز رانی کی سلامتی بھی سعودی خدشات کا اہم حصہ تھی۔
تاہم برسوں کی لڑائی کے بعد حالات میں تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ یکم اپریل 2022 کو اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے اعلان کیا کہ یمن کی جنگ میں شامل فریقین دو ماہ کی جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں، جس میں توسیع کی گنجائش بھی موجود تھی۔ یہ جنگ بندی 2 اپریل سے نافذ ہوئی اور اس کے تحت خشکی، سمندر اور فضائی حدود میں جارحانہ فوجی کارروائیوں کو روکنے پر اتفاق کیا گیا۔
اگرچہ بعد میں یہ جنگ بندی باضابطہ طور پر اپنی مدت پوری کر کے ختم ہو گئی، لیکن میدان جنگ میں نسبتاً سکون برقرار رہا۔ اسی دوران سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان براہِ راست رابطوں اور مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع ہوا، جسے تنازع کے سیاسی حل کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
اپریل 2023 میں صنعا کے صدارتی محل میں حوثیوں کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے یمن میں سعودی عرب کے سفیر محمد آل جابر سے ملاقات کے دوران مصافحہ کیا۔سعودی ایران تعلقات میں بہتری اور ریاض میں مذاکرات
یمن میں جنگی محاذوں پر کشیدگی میں کمی کے بعد خطے میں ایک اہم سفارتی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب مئی 2023 میں چین کی ثالثی کے نتیجے میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہو گئے۔ اس پیش رفت کے بعد ریاض نے حوثیوں کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع کیا، جن کا مقصد تنازع کے مستقل اور جامع حل تک پہنچنا تھا۔
اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی کے طور پر ستمبر 2023 میں حوثیوں کا ایک وفد ریاض پہنچا۔ یمن کی جنگ شروع ہونے کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ حوثی نمائندے کھلے طور پر سعودی دارالحکومت کا دورہ کر رہے تھے۔ عمان کی ثالثی میں ہونے والے پانچ روزہ مذاکرات کے دوران بحران کے خاتمے کے لیے ایک روڈ میپ کی تیاری میں پیش رفت ہوئی اور فریقین نے کئی اہم نکات پر تبادلہ خیال کیا۔
تاہم بعد میں صنعا اور ابھا کے ہوائی اڈوں سے متعلق پیدا ہونے والی نئی کشیدگی نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا کہ 2022 سے برقرار نسبتاً پُرسکون صورتحال اور غیر اعلانیہ جنگ بندی اب بھی نازک بنیادوں پر قائم ہے اور کسی بھی وقت نئے چیلنجز کا سامنا کر سکتی ہے۔