بی بی سی سے خصوصی گفتگو میں مامیہ کا کہنا ہے کہ ان پر ہونے والی تنقید محض لباس تک محدود نہیں رہتی بلکہ بعض اوقات ذاتی حملوں کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
مامیہ شاہ جعفر کا شمار ان پاکستانی فنکاروں میں ہوتا ہے جو اپنے کام کے ساتھ ساتھ اپنے لباس اور عوامی شخصیت کے حوالے سے بھی سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز رہتے ہیں۔
حال ہی میں لاہور میں منعقد ہونے والی تقریب سنڈے سپیشل آئیکون ایوارڈز کے دوران مامیہ کے لباس پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔
اس تقریب میں وہ بطور میزبان شریک تھیں۔ جہاں بہت سے صارفین نے ان کے انداز اور خود اعتمادی کو سراہا، وہیں بعض ناقدین کا کہنا تھا کہ ان کا لباس پاکستانی ثقافت کی نمائندگی نہیں کرتا۔ کچھ صارفین نے مذہبی حوالوں سے بھی تنقید کی اور ان کے بطور عوامی شخصیت کردار پر سوالات اٹھائے۔
ان کے پہناوے پر ہونے والی بحث نے ایک مرتبہ پھر اس سوال کو جنم دیا ہے کہ پاکستانی فنکاروں کو عوامی توقعات، ثقافتی اقدار اور ذاتی آزادی کے درمیان توازن کیسے قائم کرنا چاہیے۔
’آخر ایسا کیا بدلا کہ فنکاروں کی محنت اور کامیابیوں کے مقابلے میں ان کی ظاہری شخصیت زیادہ زیرِبحث آنے لگی‘بی بی سی سے خصوصی گفتگو میں مامیہ کا کہنا ہے کہ اس قسم کی تنقید محض لباس تک محدود نہیں رہتی بلکہ بعض اوقات ذاتی حملوں کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
وہ کہتی ہیں ’جب آپ کو اس بات پر جوابدہ ہونا پڑے کہ آپ نے کیا پہنا ہے، اور اس بنیاد پر یہ باتیں کی جائیں کہ آپ کو زندہ رہنا، مرنا، ہراساں ہونا یا ریپ ہونا چاہیے یا نہیں، تو آپ کے اندر بہت کچھ بدل جاتا ہے۔‘
مامیہ شاہ جعفر نے 2023 میں ڈرامہ سیریل ’میسنی‘ سے اداکاری کا آغاز کیا۔ بعد ازاں وہ ’کالج گیٹ‘، ’جھوک سرکار‘، ’جان سے پیارا جونی‘ اور ’فرار‘ سمیت کئی ڈراموں میں نظر آئیں۔
مامیہ نے بتایا کہ انھیں ابتدا میں یہ خدشہ تھا کہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری شاید انھیں قبول نہ کرے۔
’جب ساڑھے تین سال پہلے مجھے میرا پہلا ڈرامہ آفر ہوا تو میں کافی حیران تھی۔ میں سوچتی تھی کہ یہ لوگ مجھے کیسے تسلیم کریں گے۔‘
ان کے مطابق معاشرے میں خواتین کے بارے میں رائے اکثر ان کے لباس کی بنیاد پر قائم کی جاتی ہے۔
’عورت کا امیج بنتا ہی اس کے پہناوے سے ہے۔ اس بات سے کسی کو فرق نہیں پڑتا کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں کیا کرتی ہے، کس سے ملتی ہے یا کس طرح کا کام کرتی ہے۔ لوگوں کو جو دکھائی دیتا ہے، وہ اسی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔‘
مامیہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں تفریحی صنعت کے بارے میں تصورات ہمیشہ یکساں نہیں رہے۔
’ہماری فلم انڈسٹری، خاص طور پر پشتو اور پنجابی فلم انڈسٹری، بہت مختلف ادوار دیکھ چکی ہے۔ لوگ ان چیزوں کو پسند بھی کرتے تھے اور ان پر تالیاں بھی بجاتے تھے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ پاکستانی فنکاروں کا موازنہ اکثر بالی وڈ ستاروں سے کیا جاتا ہے، مگر مقامی اور غیرملکی فنکاروں کے لیے ردعمل یکساں نہیں ہوتا۔
’اگر آج دیپیکا پڈوکون پاکستان آئیں تو لوگ ان کے ساتھ تصویر بنوانے کے لیے بے تاب ہوں گے، لیکن اپنے ملک کا کوئی فنکار اسی طرح کسی پلیٹ فارم پر نظر آئے تو ردعمل مختلف ہوتا ہے۔‘
فروری میں مامیہ کی پہلی فلم لالی کا عالمی پریمیئر برلن فلم فیسٹیول برینالے میں ہوا، جہاں وہ فلم کے ہدایت کار سرمد کھوسٹ کے ہمراہ شریک ہوئیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس کامیابی پر گفتگو ہونے کے بجائے توجہ ایک مرتبہ پھر ان کے لباس پر مرکوز رہی۔
’فخر یا تعریف اس بات پر ہونی چاہیے تھی کہ فلم میں میرے کام کی وجہ سے مجھے وہاں جانے کا موقع ملا جہاں دنیا کے بڑے بڑے فنکار جا چکے ہیں، لیکن لوگوں کی گفتگو کا محور پھر میرا لباس تھا۔‘
وہ سوال اٹھاتی ہیں کہ آخر ایسا کیا بدلا کہ فنکاروں کی محنت اور کامیابیوں کے مقابلے میں ان کی ظاہری شخصیت زیادہ زیرِبحث آنے لگی۔
’کہاں وہ تبدیلی آئی کہ عوام نے اپنے لوگوں اور ان کی محنت کو تسلیم کرنا چھوڑ دیا؟‘
مامیہ کے مطابق اگر وہ چاہتیں تو اپنی عوامی شبیہ ایسے بنا سکتی تھیں جو زیادہ قابل قبول سمجھی جاتی، مگر اس صورت میں وہ خود اپنے آپ سے مطمئن نہ رہتیں۔
’میرے پاس شاید بہت زیادہ کام ہوتا، خاص طور پر اشتہارات اور برانڈ اینڈورسمنٹس۔ میری پبلک امیج بہت مختلف ہوتی، اور یہ آج بھی ہو سکتا ہے۔‘
’لیکن اگر میں ایسا کرتی تو میرے لیے اپنے ساتھ رہنا مشکل ہو جاتا کیونکہ وہ میں نہیں ہوں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ جب وہ خود کو غلط نہیں سمجھتیں تو اپنے طرزِ زندگی کے بارے میں دوسروں کو یقین دلانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتیں۔
حال ہی میں مامیہ نے ایک ساتھی اداکار کے مبینہ رویے کے حوالے سے قانونی کارروائی کا آغاز کیا تھا، تاہم بعد میں دونوں فریقین کی جانب سے کہا گیا کہ معاملہ باہمی رضامندی سے طے پا گیا ہے۔
مامیہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی صحت اور ذہنی سکون کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاملے میں مزید پیش رفت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
’اگر اپنے جذبات کو دبانے کی قیمت مجھے اپنی زندگی اور موت کی جنگ کی صورت میں ادا کرنا پڑے تو پھر آئندہ مجھے ایسا کرنے کی ضرورت نہیں۔‘