پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنے انسدادِ دہشت گردی کے فریم ورک کو مضبوط بنائے اور پابندیوں کے نظام کی خامیاں دور کرے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے ’نائن الیون کے 25 سال بعد‘ کے عنوان سے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے متاثرین کو خراجِ تحسین پیش کیا اور امریکی عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ قرارداد 1373 عالمی انسدادِ دہشت گردی کی بنیاد ہے۔
انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے فرنٹ لائن کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی عملی کارروائیوں اور انٹیلی جنس شیئرنگ سے القاعدہ کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ اس عالمی مہم کے دوران پاکستان نے 90 ہزار سے زائد جانی قربانیاں دیں اور بے پناہ معاشی نقصان بھی برداشت کیا۔