راکٹ کے ذریعے بحری بارودی سرنگیں بھیجنے کا نظام پہلی مرتبہ جنوری 2025 میں پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی مشق ’پیغمبرِ اعظم 19‘ میں سامنے آیا تھا۔ اس مشق کی کوریج کرنے والے ایرانی ذرائع ابلاغ نے ایسی ویڈیوز جاری کی تھیں، جن میں ایک ٹرک پر نصب لانچر سے متعدد راکٹ فائر ہوتے ہوئے دکھائے گئے تھے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی کا ایک نیا دور تقریباً ایک ماہ کے وقفے کے بعد اس امریکی حملے سے شروع ہوا، جس میں ان لانچروں کو نشانہ بنایا گیا جن کے بارے میں امریکہ کا دعویٰ تھا کہ وہ ایک غیر روایتی طریقے سے بارودی سرنگیں بچھانے کی تیاری کر رہے تھے: یعنی آبنائے ہرمز کی جانب بحری بارودی سرنگیں لے جانے والے راکٹ فائر کر کے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے 30 اگست کو اعلان کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزیرۂ لارک پر پاسدارانِ انقلاب کے دو لانچروں کو نشانہ بنایا ہے۔
سینٹکام کے ترجمان ٹم ہاکنز کا کہنا تھا کہ پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کو آبنائے ہرمز میں ’بحری بارودی سرنگوں سے لیس راکٹ‘ فائر کرنے کی تیاری کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
اس کے جواب میں ایران نے اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے کو میزائلوں سے نشانہ بنایا، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان فائرنگ اور جوابی حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔
امریکی مؤقف کے مطابق جزیرۂ لارک پر موجود ان لانچروں کا مقصد کشتیوں یا بارودی سرنگیں بچھانے والے جہازاستعمال کیے بغیر خشکی سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں پہنچانا تھا۔
پاسدارانِ انقلاب اس نوعیت کے نظام کا ایک ماڈل اس سے قبل ایک فوجی مشق میں پیش کر چکی تھی۔ تاہم جزیرۂ لارک پر حملے کے بعد بارودی سرنگیں بچھانے کا یہ نظام دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست تنازع کا موضوع بن گیا۔
یہ حملہ امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے اس اعلان کے صرف دو دن بعد کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی گزرگاہوں میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کر دیا گیا ہے۔
فنانشل ٹائمز نے حال ہی میں رپورٹ کیا تھا کہ بارودی سرنگوں کی صفائی کا آپریشن چار ماہ تک جاری رہا اور اس کا بیشتر حصہ رات کے وقت انجام دیا گیا۔ اس کارروائی میں امریکی بحریہ کے غوطہ خوروں کے ساتھ ساتھ روبوٹک کشتیوں اور بغیر پائلٹ زیرِ آب گاڑیوں کا بھی استعمال کیا گیا۔
انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) نے جون میں تخمینہ لگایا تھا کہ آبنائے ہرمز میں تقریباً 80 بارودی سرنگیں موجود تھیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست کے آخر میں کہا تھا کہ بین الاقوامی آبی راستوں میں موجود تمام بارودی سرنگیں صاف کر دی گئی ہیں یا انہیں ناکارہ بنا دیا گیا ہے، تاہم بحری انٹیلی جنس ادارے اب بھی تیرتی ہوئی یا غیر رجسٹرڈ بارودی سرنگوں کے امکان سے خبردار کر رہے ہیں۔
رینڈ کارپوریشن کے سینئر انجینئر اور بحری بارودی سرنگوں کے ماہر سکاٹ ساوٹز نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے ان کے خاتمے کے مقابلے میں کہیں کم وسائل درکار ہوتے ہیں اور یہ عمل کئی گنا زیادہ تیز ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا ’بارودی سرنگیں بچھانے میں چند گھنٹے لگ سکتے ہیں، جبکہ انھیں صاف کرنے میں کئی دن یا کئی ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔‘
بحری مشق سے جزیرۂ لارک پر حملے تک
راکٹ کے ذریعےبحری بارودی سرنگیں بھیجنے کا نظام پہلی مرتبہ جنوری 2025 میں پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی مشق ’پیغمبرِ اعظم 19‘ سامنے آیا تھا۔ اس مشق کی کوریج کرنے والے ایرانی ذرائع ابلاغ نے ایسی ویڈیوز جاری کی تھیں، جن میں ایک ٹرک پر نصب لانچر سے متعدد راکٹ فائر کرتے ہوئے دکھائے گئے تھے۔
بعد ازاں ویڈیو میں پانی کی سطح پر تیرتی ہوئی مخروطی شکل کی اشیا دکھائی گئیں، جنہیں بحری بارودی سرنگیں قرار دیا گیا تھا۔
ڈیفنس پریس نیوز ایجنسی نے اس مشق کے بارے میں رپورٹ کیا تھا کہ بارودی سرنگوں کو ’فجر-فائیو راکٹوں سے مشابہ ایک چیمبر میں رکھا گیا اور ساحل سے ایک لانچر کے ذریعے سمندر کی جانب فائر کیا گیا۔‘ مسلح افواج کے جنرل سٹاف سے وابستہ اس ادارے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس طریقۂ کار کے ذریعے ایک گھنٹے کے اندر سمندر میں ’سینکڑوں بارودی سرنگیں‘ پہنچائی جا سکتی ہیں۔
اس مشق کی ویڈیو میں راکٹ فائر کیے جانے اور پانی پر تیرتی اشیا کے مناظر دکھائے گئے، لیکن راکٹ سے چیمبر کی علیحدگی اور بارودی سرنگ کے پانی میں داخل ہونے کے عمل کو واضح طور پر نہیں دکھایا گیا۔
اس وقت ڈیفنس پریس کی ویب سائٹ نے لکھا تھا کہ ’پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی نئی بارودی سرنگ دیگر بحری بارودی سرنگوں کے مقابلے میں مختلف صلاحیتوں کی حامل ہے، جنہیں کمانڈروں نے خفیہ رکھا ہے۔‘
امریکی سینٹرل کمانڈ نے جزیرۂ لارک پر حملے کی وضاحت کرتے ہوئے استعمال ہونے والے لانچر کی نوعیت نہیں بتائی۔ سینٹکام کے ترجمان ٹم ہاکنز نے صرف اتنا کہا کہ پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کو ’بحری بارودی سرنگیں لے جانے والے راکٹ‘ فائر کرنے کی تیاری کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
فجر-فائیو راکٹ کا نام اس وقت خبروں کا حصہ بنا جب اس کا موازنہ ایران میں گذشتہ برس ایک فوجی مشق کے دوران دکھائے گئے بارودی سرنگ بچھانے کے نظام سے کیا گیا۔
فجر فائیو راکٹ
فجر-فائیو اس سلسلے کا پہلا راکٹ نہیں ہے بلکہ اس کے دیگر ڈیزائن ماضی میں بھی منظر عام پر آ چکے ہیں۔ اس کا ابتدائی ڈیزائن زمین سے زمین تک مار کرنے والے ان گائیڈڈ راکٹوں پر مبنی تھا اور اس کے مختلف ماڈل 1990 کی دہائی سے تیار کیے جا رہے ہیں۔
ایرانی دفاعی مصنوعات کے برآمدی مرکز کی ویب سائٹ پر شائع کردہ تفصیلات کے مطابق معیاری فجر-فائیو راکٹ کا قطر 333 ملی میٹر اور لمبائی 4.6 میٹر ہے۔ اس راکٹ کا وزن 907 کلوگرام ہے، اس کے مکمل وارہیڈ کا وزن 175 کلوگرام ہے، جبکہ اس کی اعلان کردہ حدِ مار 75 کلومیٹر ہے۔
یہ راکٹ عموماً ٹرک پر نصب چار نالیوں والے لانچر سے فائر کیا جاتا ہے۔
برآمدی مرکز کی ویب سائٹ کے مطابق ’فجر-فائیو راکٹ لانچر نظام ایک ایرانی ساختہ ملٹی پل راکٹ سسٹم ہے، جسے 1990 کی دہائی میں تیار کیا گیا تھا۔ یہ نظام بھاری فائر سپورٹ اور دور مار حملوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ ایرانی مسلح افواج کی جارحانہ اور بازدارانہ صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔‘
فراہم کی گئی تفصیلات بنیادی فجر-فائیو ماڈل سے متعلق ہیں اور اس خاندان کے تمام راکٹوں کی ساخت یکساں نہیں ہے۔
ایرانی حکومت نے فروری 2016 میں اس راکٹ کا نیا ماڈل ’فجر-5 سی‘ متعارف کروایا تھا۔ وزارتِ دفاع کے ایکسپورٹ سینٹر نے فجر-فائیو کے ایک دو مرحلہ وار ماڈل کا بھی ذکر کیا ہے، جس کی حدِ مار ایرانی ذرائع کے مطابق 180 سے 190 کلومیٹر بتائی جاتی ہے۔
2023 میں ڈیفنس پریس ویب سائٹ نے فجر-فائیو کے لیے ایک ’تھرموبیرک وارہیڈ‘ کے تجربے کی خبر دی تھی۔ اس قسم کے ہتھیار میں پہلے فضا میں آتش گیر مادہ پھیلایا جاتا ہے اور پھر اسے بھڑکا دیا جاتا ہے، جس سے زیادہ دیر تک برقرار رہنے والے دباؤ کی لہر اور شدید حرارت پیدا ہوتی ہے۔
یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ ایران نے وقت کے ساتھ مختلف مشنز اور مختلف قسم کے پے لوڈز کے لیے فجر-فائیو کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلیاں کی ہیں۔
پاسداران انقلاب کی مشق میں پیش کیا گیا بارودی سرنگیں بچھانے والا نظام اسی سمت میں ایک اور قدم تھا، جس میں دھماکہ خیز وارہیڈ کی جگہ ایک ایسا خانہ نصب کیا گیا جو بارودی سرنگ کو پانی تک پہنچاتا ہے۔
فوجی ویب سائٹ وار زون کے مطابق فجر-فائیو کی 75 کلومیٹر حدِ مار اس کے پے لوڈ کو ایران کے ساحلوں یا جزائر سے آبنائے ہرمز کی جہاز رانی کی گزرگاہوں تک، بشمول جنوبی راستے، پہنچانے کے لیے کافی ہے۔
لانچر کی نقل و حرکت کی صلاحیت عملے کو فائرنگ کے فوراً بعد مقام تبدیل کرنے کی سہولت بھی دیتی ہے، جس سے اس کے سراغ لگائے جانے اور حملے کا نشانہ بننے کا وقت کم ہو جاتا ہے۔
سینٹر فار انٹرنیشنل میری ٹائم سکیورٹی کی ویب سائٹ پر شائع ایک مضمون کے مطابق فجر-فائیو راکٹ کے پے لوڈ اٹھانے کی صلاحیت تقریباً 90 کلوگرام ہے، جو امریکہ اور چین کی بہت سی روایتی بحری بارودی سرنگوں کے وزن سے کم ہے۔
اس تجزیے کے مطابق ان نسبتاً چھوٹی بارودی سرنگوں سے پیدا ہونے والا بنیادی خطرہ یہ ہے کہ انہیں گزرنے والے جہازوں کے راستے میں پھیلایا جا سکتا ہے۔ متعدد بارودی سرنگوں سے ٹکراؤ کسی بحری جہاز کو ناکارہ بنا سکتا ہے اور اگر چند تجارتی جہازوں کو بھی نقصان پہنچے تو اس کے نتیجے میں شپنگ کمپنیاں اپنے راستے تبدیل کرنے یا اس علاقے میں بحری نقل و حمل عارضی طور پر روکنے پر مجبور ہو سکتی ہیں۔
سمندر میں راکٹ کے ذریعے بارودی سرنگیں بچھانا مشکل کیوں؟
رینڈ کارپوریشن سے منسلک تجزیہ کار سکاٹ ساوٹز نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ بحری بارودی سرنگیں عموماً سطحِ آب پر چلنے والے جہازوں، آبدوزوں یا طیاروں کے ذریعے بچھائی جاتی ہیں، جبکہ فضائی ذرائع سے گرائی جانے والی سرنگوں کو پیراشوٹ کے ذریعے اتارا جاتا ہے۔ تاہم راکٹ کے ذریعے استعمال ہونے والے نظام میں بارودی سرنگ کو لانچ کے عمل اور پھر پانی میں داخل ہونے کے مرحلے دونوں میں شدید نقصان سے محفوظ رہنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا ’یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ راکٹ اور بارودی سرنگ کا ایسا امتزاج کیسے ممکن ہو سکتا ہے، جس میں سرنگ کو لانچ کے وقت یا پانی میں داخل ہوتے ہوئے نمایاں نقصان نہ پہنچے۔‘
ساوٹز کے مطابق اگرچہ نظریاتی طور پر یہ ممکن ہے، لیکن عملی طور پر اس کے کامیاب ہونے کا امکان ’انتہائی کم‘ ہے۔
امریکی بحریہ کے ریٹائرڈ سینئر ایڈمرل ہارلن اُلمن نے بھی الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں راکٹ کے ذریعے بارودی سرنگیں بچھانے کے اس تصور کو ’غیر محتمل‘ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ راکٹ کے پانی کی سطح سے ٹکرانے کی قوت اس کے ساتھ لے جائی جانے والی بارودی سرنگوں کو ’نمایاں نقصان‘ پہنچا سکتی ہے۔
اُلمن نے مزید کہا کہ ایران کے پاس بارودی سرنگیں بچھانے کے کئی دوسرے طریقے بھی موجود ہیں۔
دوسری جانب ساوٹز کا کہنا ہے کہ راکٹ کے ذریعے بارودی سرنگوں کی تنصیب کا ایک اور نقصان بھی ہے: راکٹ کی پرواز کا راستہ اور وہ مقام جہاں بارودی سرنگ پانی میں گرتی ہے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جس سے بارودی سرنگوں کو تلاش اور ناکارہ بنانے والی فورسز کے لیے تلاش کا دائرہ زیادہ محدود ہو جاتا ہے۔
ان کے مطابق فضائی طریقے سے بارودی سرنگیں بچھانے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے ان آبی علاقوں تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے جہاں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہاز محفوظ طریقے سے داخل نہیں ہو سکتے۔
اس ضمن میں وہ دو تاریخی مثالوں کا حوالہ دیتے ہیں: دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپان کے زیر قبضہ پانیوں میں امریکی فضائی بارودی سرنگ بچھانے کی کارروائیاں اور شمالی ویتنام کی بندرگاہ ہائی فونگ میں بارودی سرنگیں بچھانا۔ دونوں صورتوں میں طیاروں نے ان علاقوں میں بارودی سرنگیں پہنچائیں، جہاں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہازوں کے لیے جانا بہت خطرناک تھا۔
ساوٹز کے مطابق اگر امریکہ ایرانی بحری جہازوں کو جہاز رانی کی گزرگاہوں کے قریب پہنچنے سے روک دیتا ہے تو ایران ممکنہ طور پر ان علاقوں میں بارودی سرنگیں پہنچانے کے لیے دیگر طریقے اختیار کر سکتا ہے۔
سکاٹ ساوٹز تجویز دیتے ہیں کہ ساحل کے قریب تیرتی ہوئی بارودی سرنگیں وہیں چھوڑ دی جائیں اور انہیں پانی کے بہاؤ کے ساتھ بہنے دیا جائے۔
اس کے نتیجے میں ان سرنگوں سے پیدا ہونے والا خطرہ مستقل نوعیت کا نہیں رہتا اور ممکن ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے والے یا وہاں سے واپس آنے والے بحری جہازوں کے لیے بھی خطرہ بن جائیں۔
سرنگیں بچھانے میں چند گھنٹے اور صاف کرنے میں ہفتوں لگ سکتے ہیں
سمندری بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے عمل میں کئی مراحل شامل ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے سونار کے ذریعے راستے کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ سونار ایک ایسا نظام ہے جو صوتی لہریں خارج کر کے اور ان کے منعکس ہونے والے اشارے وصول کر کے پانی کے اندر موجود اشیا کا پتا لگاتا ہے۔
اس کے بعد بارودی سرنگ کو سمندر کی تہہ میں موجود چٹانوں، ملبے اور دیگر اشیا سے الگ شناخت کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جب اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو ایک غوطہ خور یا روبوٹ موقع پر پہنچ کر سرنگ کو ناکارہ بناتا ہے یا اس کے ساتھ دھماکہ خیز مواد نصب کر کے اسے ایک کنٹرول شدہ دھماکے کے ذریعے تباہ کرتا ہے۔
فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ، جس میں آبنائے ہرمز میں امریکی کارروائی کا ذکر کیا گیا، میں اسی طریقۂ کار کے استعمال کی تفصیل دی گئی ہے۔ اس کے مطابق بغیر عملے والی کشتیوں اور زیرِ آب آلات نے پہلے سمندر کی تہہ کی تلاشی لی، جس کے بعد غوطہ خوروں یا روبوٹس نے شناخت شدہ بارودی سرنگوں کے قریب جا کر کارروائی کی۔ یہ آپریشن زیادہ تر رات کی تاریکی میں انجام دیا گیا اور چار ماہ تک جاری رہا۔
سکاٹ ساوٹز نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ اگر بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہازوں یا ٹیموں کو بیک وقت میزائلوں یا ڈرونز کے خطرے کا سامنا ہو تو بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کا عمل کہیں زیادہ سست اور دشوار ہو جاتا ہے، بلکہ بعض اوقات مکمل طور پر رک بھی سکتا ہے۔
اسی وجہ سے ان کے نزدیک بارودی سرنگوں کے خطرے سے نمٹنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ انہیں پانی میں پہنچنے ہی نہ دیا جائے، یعنی ان مقامات کو نشانہ بنایا جائے جہاں سرنگیں ذخیرہ کی جاتی ہیں یا ان ذرائع کو تباہ کیا جائے جو انہیں منتقل کرنے اور بچھانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
امریکی بیان کے مطابق جزیرۂ لارک پر موجود لانچروں پر حملے کی یہی وجہ تھی۔ سینٹکام کا کہنا تھا کہ لانچروں کو نشانہ بنا کر نئی بارودی سرنگوں کو بحری راستوں تک پہنچنے سے روکا گیا۔
سکاٹ ساوٹز کے جائزے کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو دو طرح کے خطرات کا سامنا ہوتا ہے: پانی کی سطح یا زیرِ آب نصب بارودی سرنگیں اور فضا سے کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملے۔
ان کے بقول تجارتی جہازوں کی بڑی تعداد کی اس سمندری گزرگاہ میں واپسی اسی وقت ممکن ہے جب ان دونوں خطرات کو قابلِ قبول حد تک کم کر دیا جائے۔
2025 کی فوجی مشق نے ظاہر کیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب نے راکٹ کے ذریعے سمندر میں بارودی سرنگیں پہنچانے کے تصور کو اپنی صلاحیتوں میں شامل کر لیا ہے۔
جزیرۂ لارک پر حملے نے یہ بھی ظاہر کیا کہ امریکہ اپنی عملی عسکری منصوبہ بندی میں اس امکان کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔