وفاقی حکومت نے ایندھن کی کھپت کم کرنے اور امریکا ایران تنازع کے باعث عالمی سطح پر پٹرولیم قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے اثرات سے نمٹنے کیلیے ملک میں دوبارہ اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی تجویز پر غور شروع کردیا۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے روز غیر ضروری نقل و حرکت محدود کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ ہفتے کے باقی چار دن سرکاری و کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رکھنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تین روزہ پابندی کے دوران غیر ضروری سفر محدود کرنے سمیت مختلف آپشنز کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے سرکاری، کاروباری اور عوامی سرگرمیوں پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
مجوزہ اقدامات پر وزارتوں اور متعلقہ اداروں سے مشاورت کی جائے گی، جس کے بعد سفارشات پر مشتمل رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو حتمی فیصلے کیلیے پیش کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ اقدامات کا مقصد ایندھن کی بچت، غیر ضروری سفری سرگرمیوں میں کمی اور توانائی کی کھپت محدود کرنا ہے، جبکہ یہ تجاویز امریکا ایران تنازع کے باعث پیدا ہونے والی عالمی صورتحال کے تناظر میں زیر غور لائی جا رہی ہیں۔